پھول، امن ہی سے کھلتے ہیں!
28 فروری 2019 2019-02-28

اس وقت پاک بھارت کے مابین کشیدگی کی فضا قائم ہے۔ جب میں یہ تحریر رقم کر رہا ہوں دو بھارتی لڑاکا طیارے ہمارے شاہینوں نے مارگرائے ہیں بھارت کے ہوا باز بھی پکڑ لیے گئے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی ایل او سی کی خلاف ورزی کی گئی مگر جوں ہی پاک فضائیہ کی طرف سے اڑانیں بھری گئیں بھارتی طیارے بھاگ گئے اب انہیں فرار کا موقع نہیں مل سکا!

کہا جا رہا ہے کہ مودی سرکار ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جنگ کا ماحول پیدا کر رہی ہے کیونکہ وہ اپنے عوام کو غربت افلاس اور بے روزگاری سے چھٹکارا نہیں دلا سکی لہٰذا اب وہ انہیں جذباتی طور سے اپنا گرویدہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے؟

پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور وہ امن و خوشحالی کا شروع دن سے خواہاں ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی گفتگو و مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے تا کہ کسی جنگ کا کوئی امکان نہ رہے مگر حیرت ہے کہ بھارت کو اس بات کی سمجھ ابھی تک نہیں آئی وہ جارحیت پسندی کا مسلسل مظاہرہ کرتا چلا آ رہا ہے کبھی وہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتا ہے اور کبھی انٹرنیشنل بارڈر کی۔ مقصد اس کا یہی ہے کہ پاکستان کو ہراساں کر کے زیر اثر کیا جائے؟

بعض مغربی ممالک کی بھی یہی خواہش رہی ہے کہ کسی طرح بھارت کو علاقائی سطح پر طاقتور بنایا جائے اور اس کی وساطت سے اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اسی تناظر ہی میں دو جنگیں ہو چکی ہیں اور ایک بڑی سازش کر کے ہمارا ایک بازو الگ کر دیا گیا۔

لگایا گیا وہ زخم ابھی تک تازہ ہے اور مندمل ہونے میں نہیں آ رہا اس کے باوجود پاکستان نے امن ، محبت اور دوستی کی بات کی ہے اور واضح طور سے کہا ہے کہ آئیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ اکہتر برس بیت چکے ابھی تک وہ ہمیں گھور رہا ہے اور اس سے برداشت نہیں ہو پا رہا کہ اس خطے میں اس کے مقابل پاکستان کیوں کھڑا ہے۔ مودی سرکار تو بالکل دوستی کو اہمیت نہیں دیتی اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مودی وزیراعظم بھارت کے مزاج میں درشتی، سفاکیت اور وحشت شامل ہے لہٰذا وہ فاختہ کے امن کے گیتوں کو نظر انداز کرتا ہے پورے ملک میں اس نے جنگی جنون کو بھڑکا رکھا ہے مگر وہاں کے عوام کی غالب اکثریت مودی کی پالیسیوں سے اختلاف کرتی ہے یوں اسے اپنی ہار سامنے نظر آ رہی ہے۔۔۔!

اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اب علاقائی سیاست تبدیل ہو چکی ہے اب جنگ زیادہ تر فضائی ہو گی لہٰذا پاکستان پوری طرح چوکس ہے اسے فضاؤں میں پلٹنا جھپٹنا خوب آتا ہے۔۔۔ لہٰذا مودی جی! ہوش کے ناخن لو تمہیں اب ایک نئی طرح کی حکمت عملی سے واسطہ ہے ہمارے فوجی جوان جواب دینے کی مکمل اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں شیر دل جوانوں کو ذرہ بھر خوف نہیں۔۔۔ اور عوام ان کے پیچھے پورے جوش و جذبے سے کھڑے ہیں !

جنگ مگر تباہی ہے امن سے خوشحالی آتی ہے بھارت کو کیوں اپنے ملک کے غریبوں کا خیال نہیں اب تک کی کشمکش سے کچھ حاصل نہیں ہوا دونوں ملکوں کا جانی و مالی نقصان بہت ہو چکا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ مذاکرات کی میز پر آیا جائے وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر دعوت غور و فکر دی ہے انہوں نے پہلے بھی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پیشکش کی تھی مگر اسے کمزوری تصور کیا گیا شاید، لہٰذا اب جبکہ جواب مل چکا ہے تو اس سے یہ اندازہ ہو جانا چاہیے کہ پاکستان کمزور ناتواں ہرگز نہیں مگر بھارت اپنی طاقت کے نشے مٰں چور ہے اور طاقت سے ہمارے اوپر حاوی ہونا چاہتا ہے اس کے لیے وہ ہمارے معیشت پر ضرب لگاتا ہے کہ کبھی پانی بند کر دیتا ہے اور کبھی اتنا چھوڑ دیتا ہے کہ سیلاب آ جائے ۔ یہ بری سوچ ہے انتہائی غلط ہے اگر وہ ہمیں پریشان کرتا ہے تو خود بھی سکون سے نہیں سانس لیتا۔ لہٰذا بھارت کے لوگوں کو مودی کے منفی رویے کا نوٹس لینا چاہیے آخر کب تک وہ غربت و پسماندگی کی زندگی بسر کریں گے؟

وہ اس کے ناٹکوں سے باخبر رہتے ہوئے سوچیں کہ اس نے جتنے بھی الزامات لگائے ہیں وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے اس کا حالیہ الزام بھی غلط ہے وزیراعظم عمران خان نے تو کہا کہ بھارت ثبوت دے ہم کارروائی کریں گے مگر اسے جنگ کا بخار چڑھا ہوا ہے اور وہ آگ و خون ہر سمت دیکھنا چاہتاہے کہ وہ کسی طرح بھارت کے عوام کو اپنے پیچھے لگا کر دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ سکے۔ جبکہ پانی پلوں کے نیچے سے بہہ گیا۔۔۔ اس کی سخت گیر پالیسیاں و منصوبے پوری دنیا کے سامنے آ گئے ہیں لہٰذا وہ اخلاقی اور سفارتی سطح پر بری طرح سے ناکام ہو چکا ہے۔۔۔!

عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش سے تو مہذب ممالک اور بھی مودی سے متعلق بدگمان ہو رہے ہیں کہ وہ جنگ کی باتیں کیوں کر رہا ہے اسے کیوں اپنے عوام کی فکر نہیں کہ غربت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک اندازے کے مطابق آبادی کا تیسرا حصہ جسم فروشی کر کے اپنا پیٹ بھر رہا ہے مفلوک الحالی نے اسے جیتے جی مار دیا ہے مافیا راج ان کو آنسو بھی بہانے نہیں دیتا ایک خوف ہے ہر طرف۔ مسلمانوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے کشمیری عوام پر تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنا حق مانگتے ہیں مگر سات لاکھ فوج ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ تجزیہ نگاروں کے مطابق کشمیر اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے؟

بہرحال ہر مسئلے کا حل بات چیت ہے جنگ سے ہرگز کوئی حل نہیں نکلتا دنیا بھر میں جو جنگیں ہوئیں آخر کار فریقین کو مذاکرات کرنا پڑے تو پھر کیوں نہ دونوں ممالک امن پیار سے بات کر کے جو مسئلہ ہے اسے حل کر لیں کیونکہ لڑائی ہوتی ہے تو پھر بربادی ہی بربادی ہے لہٰذا سرحدی خلاف ورزیاں ترک کیجیے کیونکہ پاکستان کمزور نہیں اپنا دفاع بھرپور طور سے کر سکتا ہے اور کرے گا کر کے دکھا بھی رہا ہے لہٰذا یہ پُھدکنا چھوڑئیے ہماری شاہینوں کی جھپٹ بڑی تیز اور مضبوط ہے!!

حرف آخر یہ کہ ابھی بھی ’’ڈلے بیراں دا کُجھ نئیں وگڑیا‘‘ کے مصداق مذاکرات کی طرف بڑھیے پاکستان کی یہ شدید خواہش ہے کیونکہ وہ امن پسند ملک ہے!


ای پیپر