جنگی ارادہ مودی کی حماقت ہو گی
28 فروری 2019 2019-02-28

قارئین پہلی جنگ عظیم 28 جولائی 1914ء کو شروع اور 1918ء کو اختتام پذیر ہوئی ۔ اس جنگ میں ترکی، جرمنی اور بلغاریہ ایک فریق تھے اور دوسرے میں فرانس، برطانیہ، روس اور دیگر یورپین ممالک شامل تھے۔ اس پانچ سال کے جنگی عرصے میں کم و بیش ڈیڑھ کروڑ جانی نقصان ہوا۔ 1914ء سے 1918ء کی آبادی کے مطابق یہ بہت بڑا جانی نقصان تھا۔ مالی نقصان الگ سے اپنی حیثیت کا حامل تھا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ اس صدی کی سب سے بڑی جنگ ہے۔ اب آنے والے وقتوں میں ہر ملک سوچ سمجھ کر جنگی حکمت عملی اختیار کرے گا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ اب جنگ کبھی نہ ہو گی مگر یہ خیال غلط ثابت ہوا اور یکم ستمبر 1939ء کو دوسری جنگ کا آغاز ہوا۔ اس جنگ میں جرمنی، جاپان، روس اور دیگر یورپین کنٹریز تھے۔ یہ جنگ 7 سال تک جاری رہی تو اس جنگ میں ساڑھے 4 کروڑ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ اس جنگ میں ایک بہت بڑا واقعہ پذیر ہوا۔ وہ واقعہ یوں تھا کہ اس جنگ میں ایٹم بم استعمال کیا گیا۔

یہ 6 اگست 1945 کا ایک خوفناک دن تھا ،صبح کے وقت جاپان کے شہریوں نے تین امریکی جہازوں کو نہایت نیچی پروان کرتے دیکھا ۔ ٹھیک 8 بج کر 25 منٹ پر ایک 29.B جہاز جس کو کرنل پول چلا رہے تھے ہیروشیما شہر کے اوپر پہنچا یکدم جہاز کی بلندی 31 ہزار چھ سو فٹ تک جا پہنچی اور جہاز سے چار ہزار چار سو کلو وزنی ایٹم بم ہیروشیما پر گرا دیا گیا۔43 سیکنڈ کی وقفے کی بعد ایٹم بم 19000 فٹ کی بلندی پر پھٹ گیا اور بم پھٹے کے ایک نینو سیکنڈ میں شہر کا درجہ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا جو کہ سورج کے درجہ حرارت سے بھی کہیں زیادہ ہے۔یہ درجہ حرارت صرف چند لمحوں کے لیے رہا اور پھر گرنے لگا لیکن ایک میل کے دائرے کے اندر ہر چیز جل کے راکھ ہو گئی یہاں تک کہ پختہ ترین عمارتوں کے بالائی حصے پگل گئے۔ ایٹم بم پٹھنے کہ صرف ایک سیکنڈ کے اندر 70 ہزار لوگ بھاپ بن کر اڑ گئے۔نہ ہوا میں کوئی پرندہ زندہ بچا نہ زمین پر انسان اور حیوان۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر گئیں۔ دھماکہ اس قدر خوفناک تھا کہ 31 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود کرنل پول کا جہاز ہچکولے کھا رہا تھا جبکہ پچھلے حصے میں بیٹھا پوپکیلن تباہی کی تصویریں بنانے میں مصروف تھا۔پورے جاپان کا ہیروشیما سے رابطہ کٹ چلا تھا۔ ناکامورا نامی مقامی صحافی جو دھماکہ ہوتے وقت شہر سے بہت دور تھا فورن اپنی موٹر سائیکل پر شہر پہنچا، وہ ہیروشیما کی تباہی دیکھنے والا پہلا صحافی تھا۔اس نے شہر سے واپس آکر جو اپنے اخبار کو بریکنگ نیوز بھیجی وہ یہ تھی

’’ سوا آٹھ بجے دشمن کے دو جہازوں نے ہیروشیما پر کوئی خاص بم گرا دیا ہے اور شہر مکمل طور پر تباہ ہو گیا‘‘۔

جب اخبار کے بیورو چیف کو یہ خبر ملی تو اس نے یقین کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ

’’ فوج اس بات کو تسلیم نہیں کر رہی کہ شہر تباہ ہو گیا اور اتنی تعداد میں لوگ مر گئے ‘‘

اس نے ناکامورا سے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کو کم کر دے۔

جس پر ناکامورا نے تاریخی جواب دیا کہا کہ

’’ فوج بیوقوف ہے‘‘۔

حالات جاننے کے لیے جاپانی فوج نے ایک فضائی جہاز کو ہیروشیما بھیجا۔جہاز فضا میں تین گھنٹے تک چکر لگاتا رہا اور واپس آ کر اپنے حاکموں کو بس اتنا بتا سکا کہ

’’اسے نہیں خبر کہ شہر کو کیا ہوا اس نے شہر کے اوپر کالے دھویں اور سیاہ بادل دیکھے بس‘‘۔۔۔

گزشتہ کچھ دنوں سے جب میں سرحد کے دونوں جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی ، دونوں ممالک کی ایٹم بم کی دھمکیوں اور نوجوان نسل کی فیس بک پر ہونے والی گفتگو پڑھتا ہوں تو میرے دل سے صرف ایک دعا نکلتی۔

’’یا اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے یہ نہیں جانتے کہ وہ کس تباہی سے گزرنے والی بات کر رہے ، یہ ایٹم بم تو صرف خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے، انسانیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تو ہرگز نہیں ‘‘۔

اگر مودی اپنے ناپاک عزائم اور اپنی گھناؤنی سازش سے باز نہ آیا تو یہ تیسری بڑی جنگ ہو گی اور واضح رہے کہ یہ دوسری بڑی ایٹمی جنگ ہو گی ۔ مودی کو دوسری جنگ عظیم کے نتائج بھی سامنے رکھنے چاہئیں اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ پاکستان مئی 1998ء سے باقاعدہ ایٹمی قوت کے طور پر دنیا کے نقشے پر واضح ہو چکا ہے۔ ہم مسلمان مذہب پر، دین اسلام جس قدر بھی عمل پیرا ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے مگر ہم اپنے مذہب اور دین اسلام پر آنچ نہیں آنے دیتے اور اسلام کی خاطر اور ملک پاکستان کی خاطر جان دینے سے گریز نہیں کرتے۔ بقول شاعر

ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکوں

نادان یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم میں قوتِ للکار نہیں

کاش کوئی انھیں بتا دے

ہم پوسٹ ٹروتھ کے جس دور میں زندہ ہیں اس میں اصل حقائق میڈیا کی طاقت کے بل بوتے پر نگاہوں سے اوجھل کر دیے جاتے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے بھی کچھ حقائق اپنے عوام کی نگاہوں سے اوجھل کر رکھے ہیں۔ کاش کوئی شخص بھارتی عوام اور انتہا پسندوں تک یہ حقائق پہنچا دے۔

پاکستان انڈین گجرات نہیں ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر بھی نہیں ہے۔ پاکستان بھارت کے مقابلے میں نسبتاً کمزور سہی، مگر بہرحال ایک ایٹمی قوت ہے۔پاکستان کے پاس جو ایٹمی ہتھیار ہیں وہ انڈیا کے ہر حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس چھوٹے ایٹمی ہتھیار بھی ہیں جو شہروں کے بجائے کسی فوج کو میدان جنگ میں تباہ کر دیتے ہیں اور ان کو وہاں تک پہنچانے والا میزائل کا نظام بھی ہے۔پاکستان فوجی اور اس سے کہیں بڑھ کر معاشی طور پر انڈیا سے بہت پیچھے ہے۔ مگر اس میں خوش ہونے کی کوئی بات نہیں۔ یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر پاکستان جنگ کی ابتدا ہی میں چھوٹے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہو گا۔ چھوٹے کے بعد بڑا ایٹمی ہتھیار استعمال ہوتے دیر نہیں لگے گی ۔اس لیے بھارتی انتہا پسند صورت حال کی نزاکت کو محسوس کریں۔ معاملات کو وہاں تک نہ لے کر جائیں جہاں جنگ کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتی۔ جنگ ہمیشہ چھوٹے چھوٹے واقعات سے شروع ہوتی ہے اور پھر اپنے فیصلے خود کراتی ہے۔ آپ زیادہ سے زیادہ پاکستان کے تمام شہروں پر ایٹم بم مار کر انھیں تباہ کر دیں گے۔ مگر اس سے پہلے آپ کے تمام اہم شہر بھی شمشان گھاٹ میں بدل چکے ہوں۔ اس لیے جنگ کا راگ الاپنے کے بجائے امن کو موقع دیجیے۔

آخری بات پاکستانی انتہا پسندوں سے۔ اس خطے میں اب جب بھی جنگ ہو گی ، ایٹمی جنگ ہو گی ، جس کے بعد صرف قبرستان باقی بچیں گے، اور قبرستان میں جشن منانے کے لیے کوئی باقی نہیں رہتا۔ اس لیے مہربانی کر کے جنگ کی باتیں کرنا بند کر دیں۔


ای پیپر