سائبر حملے ،نقصان کے خدشات ،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
28 فروری 2018 (21:48) 2018-02-28

اسلام آباد:پھیلتی ہوئی سائبر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات میں شامل سائبر اٹیک پاکستان کی معیشت اور سلامتی کے لئے شدید خطرہ ہے۔ گزشتہ سال بہتر اور بروقت سائبر سیکورٹی کے اقدامات اٹھانے کے باعث عالمی معیشت میں سائبر کے ذریعے نقصان تقریباً 450بلین ڈالر رہا جو کہ 2019تک 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ۔

انہتائی سنجیدہ حفاظتی انتظامات و اقدامات نہ اٹھانے والے ممالک اور اداروں کو ایسے نام نہاد حملہ آوروں کی زد میں آسکتے ہیں جس سے تحفظ کےلئے مل کر کوشش کرنا ناگزیر ہے ۔ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام” سائبر خطرات اور ہماری پیش بندی “ کے موضوع پر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام سٹڈی گروپ کا 61واں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ممبر عبدالصمد ، ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری ، بریگیڈئیر محمد یاسین، سیکورٹی ایکسپرٹ عمار جعفری اور پی ٹی اے ، پی ٹی سی ایل اور پیمرا کے سابق چیئرمین کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام سے وابستہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس کے دوران ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ سائبر سیکورٹی خطرات سے تحفظات کے لئے غیر روائتی خطرات ہیں اور ہم چوتھے صنعتی انقلاب کے وورمیں ہیں جہاں بڑھتی ہوئی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں محنت کش انسانوں کی جگہ ربوٹ لے رہے ہیں وہاں سائبر کے شدید خطرات موجود ہیں۔

خطرات کی شدت سویلین اور عسکری اداروں کو بھی ہے اور اس سے نبردآزما ہونے کےلئے ضروری ہے کہ اس کےلئے انتہائی حفاظتی انتظامات ، رازداری کے ساتھ سویلین اور عسکری اداروں کے پاس کنٹرول ہونا چاہئے تاکہ ہم انفرادی اور مجموعی طور پر سائبر حملہ آوروں سے محفوظ رہ سکیں ، اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے سینئر ایڈوائزر بریگیڈیئر (ر) محمد یاسین نے کہا کہ دنیا بھر میں سائبر حملوں اور ہائکرنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حریفوں کے مابین آئندہ جنگ سائبر کے ذریعے یعنی سائبر وار ہوگی جس میں اس پر انتہائی مہارت رکھنے والا حریف اپنے ٹارگٹ کامیابی سے ٹارگٹ کر سکے گا۔ جس کے ذریعے کسی بھی ملک یا ادارے کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کے عمل کو تباہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر سطح کے تعلیمی اداروں ، تمام شعبہ جات بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اور عسکری اداروں کے تحفظ کےلئے بین الاقوامی معاہدہ جات کی اشد ضرورت ہے تاکہ سائبر کی دنیا کو محفوظ تر بنایا جا سکے ۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ممبر عبدالصمد نے کہا کہ سائبر سپیس کے حوالے سے پاکستان کے پاس قومی سطح پر جامع حکمت عملی موجود ہے۔ جس کو استعمال کرتے ہوئے ہم اس کے مضرخطرات سے اپنا تحفظ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا اس کے باوجود آئے دن نئے سے نئے خطرات درپیش رہتے ہیں جس پر مسلسل کام جاری رہتا ہے۔


ای پیپر