احد چیمہ کی گرفتاری اور احتجاجی رویہ
28 فروری 2018 (20:44) 2018-02-28

جو کیا اس کا حساب تو دینا ہے مرنے کے بعد۔۔ لیکن جہاں موت ہی نہ یاد ہو تو پھر کون سا مرنا اور کون سا حساب؟ مگر میرا ماننا ہے کہ ظلم کا حساب اس دنیا میں بھی ہو تا ہے ،؛جو کیا ،وہ بھگتنا ضرور پڑتا ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ اکثر انسان اپنے تکبر اور لالچ میں ایسا غرق ہوجاتا ہے کہ ملنے والی سزا کو محسوس ہی نہیں کرپاتا۔لیکن کبھی کبھی ایسے حالات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ قدرت کا انتقام بڑا واضح اور سبق آموز ہوتا ہے ۔ کراچی کی بڑے بھائی والی جماعت کی مثال لے لیں ، کس طرح پہلے اس دور کے فرعون کی فرعونیت پیروں تلے کچلی گئی اور پھر اس کابنایا ہوا گروہ، بلکہ کہنے دیں کہ ظلم کا قلعہ ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گیا۔ مانا کہ جس کی لاٹھی ہوتی ہے بھینس بھی اسی کی ہوتی ہے مگر یہ بھی مان لینا چاہئے کہ یہ لاٹھی غیر فانی نہیں ہوتی۔ ایک خاص عرصہ کے بعد اس نے ٹوٹنا ہی ہوتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ اب یہ عرصہ کم ہوتاہے یا زیادہ یا پھر بہت لمبا۔ تاریخ بھری پڑی ہے ایسے ظالموں کی داستانوں سے جنہوں نے ہاتھ میں لاٹھی لی اور پھر بھینس کو بھی اپنا ہی سمجھا مگر تاریخ ایسے لوگوں کا انجام بھی بتاتی ہے۔


لاہور اور اس کے مضافاتی اضلاع میں کس طرح غرباء کی زمینیں کوڑیوں کے بھائو ہتھیا کر کروڑوں میں بیچی گئیں، کبھی اس ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں جھانک کر دیکھیں، ظلم اور دغا بازی کی ایسی ایسی مثالیں ملیں گی کہ عقل دنگ رہ جائے۔ سب سے بڑا ظلم، اور ظلم یہ کہ اس ظلم کو ظلم سمجھا ہی نہیں جاتا، لہلہاتی فصلوں اور سر سبز باغات کا قتلِ عا م کر کے زرخیز زمینوں کو پتھر کے ڈھانچوں میں بدلا گیا۔ احد چیمہ نے جو کیا وہ تو ادارے نکال ہی لیں گے مگر میرے نزدیک اس شخص اور اس سے ملحقہ مافیا نے جو نیچر کے ساتھ کیا اور کرنے میں جو قدرتی ماحول کو تباہ کیا ، یہ گرفتاری قدرت کا انتقام ہے اور یاد رکھنا چاہئے کہ اس کی اجتماعی سزا ہم سب سموگ کی صورت میں بھگت چکے ہیں۔یہ جو طوطا ہاتھ آیا ہے اس میں ایک دو سیاستدانوں کی نہیںبلکہ اُس ریئل اسٹیٹ مافیا کی جان ہے سینکڑوں طاقتیں جس کا حصہ ہیں ۔


افسوس احد چیمہ پر نہیں کہ اس نے اپنی تربیت اور سسٹم کی ضروریات کے مطابق کیا ۔ جو کہا جا رہا ہے اگر اس نے کیا ہے تو اس کی سزا ضرور ملے گی اور جن کے لئے کیا ہے وہ بھی نہیں بچ سکیں گے خواہ کتنے ہی طاقتورکیوں نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی طاقت انہیں کسی رسمی سزا سے تو بچا لے مگرذلیل و رسوا ہونے سے انہیں کوئی نہیں بچا پائے گا۔ اصل افسوس ڈی ایم جی گروپ کے ان افسروں پر ہے جنہوں نے اس سارے معاملے میں ردعمل ظاہر کیا۔ اگر اس ملک میں سیاستدان کو پھانسی ہوسکتی ہے، وزیرِ اعظم کو جیل میں ڈالا جا سکتا ہے، پولیس کے افسروں کو سزائیں مل سکتی ہیں، چیف جسٹس کو بالوں سے گھسیٹا جا سکتا ہے ، پروفیسروں کو ہتھکڑیاں لگ سکتی ہیں تو یہ بابوکیا آسمان سے اترے ہیں ۔ بیوروکریسی کا کام ریاست کی رِٹ کو قائم کرنا ہے اور اگریہی لوگ اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھیں گے تو پھر یہ کسی ’اللہ رکھیـ‘ پر قانون کو کس حساب سے لاگو کر سکتے ہیں ۔ سنٹرل سپیرئر سروسز کے لئے پاکستان سے ان ہیروں کو اس لیے چنا جاتا ہے کہ اپنی برتر صلاحیت کی بدولت ریاست کی حفاظت کرتے ہوئے عوام کی خدمت کر سکیں۔ انہیں اچھی تنخواہیں اوراعلیٰ قسم کی مراعات دینے کے ساتھ ساتھ ان میں انا اور خودداری کوٹ کوٹ کر اس لئے بھری جاتی ہے کہ کسی بھی طاقت کی جانب سے کسی بھی قسم کا مفاد،لالچ یا خوف انہیں نیچا نہ دکھا سکے ۔ مگر بدقسمتی سے یہ بابو اپنے منصب سے گرکر ،انا اور خودداری کو تکبر میں بدلتے ہوئے، عوام سے کوسوں دور چلے جاتے ہیں اور عیاشی کی زندگی میں ڈوب کر ہر ظلم اور گناہ کو اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں۔


احد چیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریسی کے ایک مفاد پرست ٹولے کی جانب سے احتجاجی رویہ اور اس کی رہائی کے لئے آویزاں بینرز ، اس قوم کو شرم آ رہی ہے۔ یہ لوگ جو ڈاکٹر، اساتذہ،نرسز، نابینا افراد کے خلاف اس لئے ایکشن لیتے ہیں کہ انہوں نے ریاست کو چیلنج کیا ، آج کرپشن کے الزام میں گرفتار اپنے ایک ساتھی کے لئے تالے لگانے پر اتر آئے ہیں۔ کل کو پھر ہر ٹیکنو کریٹ بھی یہی کیا کرے گا کہ جس پر کرپشن کے خلاف کوئی انکوائری شروع ہو، سب دفتروں کو تالے لگائیںاور شہروں میں بینرز لگوا کربدمعاشی کریں۔ یہ کس طرف ریاست کو لے جا رہے ہیں۔ ایک شخص پر الزام ہے، وہ گرفتار ہوا ہے تو اداروں کو اپنا کام کرنے دیں ۔ اگر اس پر جرم ثابت ہوا تو سزا بھگتے گا اور اگر نہ ثابت ہو ا تو باعزت رہا ہو جائے گا۔ ہاں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی غیر قانونی کام کیا گیا تو پھر قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے ۔


ویسے بیوروکریسی کے دفتر وںمیں تالے لگنے سے عوام کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عوام کی ان لوگوں تک رسائی پہلے ہی سے نہیں۔ بیورکریٹس اگر حقیقی احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو صرف ایک کام کریں۔ چند ہفتے کام کرلیں۔ہر بیورکریٹ صبح آٹھ بجے دفتر میں آ کر بیٹھے اور شام سات بجے گھر جائے، اور ایمانداری اور خودداری کے اعلیٰ درجہ پر پہنچتے ہوئے قانون کے مطابق خوب ٹکا کر کام کرے ۔ امید ہے کہ صرف پندرہ دن میں عوام کے ساتھ ساتھ سسٹم کی بھی چیخیں نکل جائیں گی اور ان کے احتجاج کا یہ غیر معمولی انداز ایسا مئوثر ثابت ہو گا کہ اس ملک کی ہر طاقت اور یہاں پر احتساب کا ہر چیمپئن ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ بد قسمتی سے یہی ہے ہمارا سسٹم، جس کا ہم سب بھی حصہ ہیں۔


ای پیپر