افغان جنگ ، امریکہ اور پاکستان کو درپیش چیلنجز
28 فروری 2018 (20:43)

افغانستان کی جغرافیائی حیثیت صدیوں سے مخصوص اہمیت کی حامل رہی ہے کیونکہ افغانستان جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے ساتھ ساتھ ایران، روس، چین اور ترکی کا ہمسایہ ہونے کے ناتے مختلف ادوار میں ان تمام قوموں کے مابین مختلف مہمات اور معرکوں کے دوران اکھاڑہ بنا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بارہویں صدی عیسوی میں چین کے منگول علاقے کے خونخوار تارتاری یہاں سے مشرق وسطیٰ داخل ہوئے اوراسلامی تہذیب کے اہم مراکز بغداد اور شام میں انسانی بربادی اور تباہی کی بدترین مثالیں قائم کیں۔ منگول تاتاریوں کی فوجیں بھی کابل کے راستے ہندوستان پرحملہ آور ہوئیں لیکن دریائے جہلم عبور نہ کر سکیں۔ سلطان محمود غزنوی بھی یہاںسے ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور تمام دولت لوٹ کر سنٹرل ایشیا لے گیا۔ ہندوستان پر ایک طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے مغل خاندان کا بانی ظہیرالدین بابر بھی سرگانہ میں اپنی با دشاہت کھو جانے کے بعد افغانستان کے راستے ہندوستان پر قابض ہوا۔ ہندوستان پر مغلوں سے قبل مسلمانوں کی تمام حکومتیں جس کا آغاز قطب الدین ایبک سے شروع ہوا اور بعد میں ماملوک، خلجی ، تغلق ، لودھی، سید خاندان وغیرہ سب ترک اور ایرا نی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور یہ سب حکمران کابل کو روند کر یہاں پہنچے۔ انیسویں صدی میں افغانستان روس اور برطانیہ کے درمیان بارڈر ایریا تھا۔روس اس زمانے میں سپر پاور تھا اور برطانیہ کو شدید خطرات تھے کہ کہیں روس اس کی کالونی پر قبضہ نہ کر لے۔ اس مقصد کے لیے برطانیہ نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے یہاں کے مقامی افراد کو اسلحے کی فیکٹریاں لگا کر دیں اورقبائلیوں کو خودمختاری بھی دی تاکہ اگر روس پیش قدمی کرے تو مقامی قبائل خود اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ بیسویں صدی سے ہی پسماندہ رہا کیونکہ حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز یہاں موجود نہ تھی۔ 1980ء کی دہائی میں روس نے گرم پانیوں تک رسائی کا منصوبہ بنایا اور کابل کی طرف پیش قدمی کی لیکن امریکی سی ائی اے نے پاکستان کی مدد سے روس کے تمام منصوبے ناکام بنا دیئے جس کے نتیجے میں روس کے اپنے حصے بخر ے ہوگئے ۔ 9/11 کے بعد امریکہ نے جب یہاں قدم جمائے تو ماہرین کے بقول اب چین، روس اور ایران درپردہ طالبان جنگوؤں کی حمایت کرکے امریکہ کو شکست دینے پر تلے ہیں۔ چنانچہ تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہو تا ہے کہ افغانستان شروع سے ہی طاقتور ریاستوں کے درمیان لڑائی کا اکھاڑہ بنا رہا ہے اور معلوم نہیں کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔


شاید ا فغان مسئلے کا پائیدار حل نکالنے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اپنی صدارت کا ایک سال مکمل ہونے پرسٹیٹ آف یونین خطاب میں امریکہ کی نئی دفاعی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہو نا ہے کیونکہ ماہرین کے بقول شام کے مسئلے پر روس نے امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں تمام عزائم خاک میں ملا دیے اور اب امریکہ کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ افغانستان میں بھی امریکہ اور نیٹو افواج طالبان کے خلاف کامیابیاں سمیٹنے سے اس لیے قاصر ہیں کیونکہ یہاں روس؛چین اور ایران طالبان کی حمایت میں مصروف ہیں۔ کابل میں پے درپے دہشت گردی کے واقعات اور سیکڑوں قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد اس بیانیے کو تقویت مل رہی ہے۔


کیونکہ اس مرتبہ طالبان نے اپنی موسم بہار کی کارروائیوں کا بڑے پیمانے پر آغاز کر دیا ہے۔ ا ب کی بار جنگجو کابل کے ہائی سکیورٹی زون کو بھی پے درپے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں حالانکہ ان جگہوں پر افغان فوج کے ساتھ ساتھ نیٹو اور امریکی افواج بھی تعینات ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کی ساری توجہ امریکہ پر مرکوز رہی اور ٹرمپ بھول گیا کہ سپر پاور ہونے کے ناتے پوری دنیا کے معاملات امریکہ کو دیکھنا پڑتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے عالمی اداروں کی مالی امداد کی بندش اور دیگر کئی اہم عالمی امور پر جب ٹرمپ انتظامیہ نے کان نہ دھرے تو مجبوراً تیسری دنیا کے ممالک نے چین اور روس کی طرف دیکھنا شروع کیا اور اب دیکھتے ہی دیکھتے چین کا ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کا منصوبہ پوری دنیا میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے جس کے تحت چین نے کئی ممالک میں پڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ آپ پاکستان کو ہی دیکھ لیں ایک زمانے میں پاکستان امریکی امداد کی طرف دیکھتا تھا لیکن اب چین پاکستان کی معاشی اہمیت کے تقریباً تمام منصوبوںکو فنڈنگ کر رہا ہے اسی طرح چین نے ایشیا کے علاوہ یورپ سمیت افریقہ کے کوئلے اور سونے کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری شروع کر رکھی ہے اور اب کئی بڑے ممالک چین کے ساتھ لانگ ٹرم شرکت داری چاہتے ہیں۔ اسی طرح روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی اپنے ملک میں مثبت اصلاحات لانے کے بعد شامی حکومت کا ساتھ دینے کے ساتھ عالمی منظر نامے پر اپنے کردار سے دنیا کو حیران کر دیا ہے کیونکہ روس کی شام میں مداخلت کے بعد نہ صرف داعش اور کئی دیگر چھوٹی دہشت گرد جماعتوں کا صفایا ہوا اور شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا اقتدار بچایا بلکہ ماہرین کے مطابق روس نے پورے مشرق وسطیٰ کو لڑائی میں جھونکنے سے بچایا کیونکہ امریکہ شام، ایران، عراق اور ترکی کے اہم علاقوں میں کردستان ریاست کا خواہش مند ہے۔ چین اور روس کے علاوہ ایران بھی شروع سے ہی نہ صرف شام بلکہ اب افغانستان میں بھی امریکی فوج مخالف قوتوں کو سپورٹ کر رہا ہے۔ اس لیے افغانستان میں امریکی اور نیٹواتحادی فورسز کی کامیابی کے امکانات بہت ہی کم ہیں اور امریکہ یہاں اب کئی مشکلات میں گھر چکا ہے۔ امریکہ ساری صورت حال میں بہتر پلاننگ کرنے کی بجائے ساری صورت حال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے پر تلا ہوا ہے اورصرف یہ ہی نہیں افغانستان حکومت اور بھارت بھی اس وقت مکمل طور پر امریکی بیانیے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ امریکہ نے پہلے ہماری امداد روک لی اور اب مزید پریشر میں لانے کے لیے پاکستان کا نام گلوبل ٹیریر فنانسنگ واچ لسٹ میں ڈالا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور غیر ملکی امداد سے جاری منصوبوں کو مزید جاری رکھنے میں مشکلات درپیش آ سکتی ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان کو مؤثر سفارت کاری اور دنیا کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے ملک سے دہشتگردوں کا صفایا کر دیا اور اس لعنت کے مکمل خاتمے کیلئے ابھی بھی متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اب کابل میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کیلئے امریکہ اور افغانستان کو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔


ای پیپر