جیل سے ہسپتال تک کی سیاست…!!
28 فروری 2018 (20:43)

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے انقلابیوں نے جیل میں رہ کر انقلاب برپاکیا اور امر ہو گئے ہیں یعنی ایسے بے شمار اور انگنت سیاستدان اور مذہبی و سماجی ر ہنماء ہیں جو کسی نہ کسی مقصد کو لے کر باہر آئے مگر وقت کے طاقتور وںنے اِن سے ایک حد تک اختلاف یا اختلافات اور مخالفت کے باعث اِنہیں جیلوں میں بند کیا مگر کب تک ؟ بالآخر اُنہیں اِن انقلابیوں کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے اوراِنہیں رہا کرنا پڑایوںیہ انقلابی اپنے عزم میںسُرخرو ہوئے اور دُنیا میں انقلاب برپا کرکے تاقیامت امر ہوئے۔


مگر آج 21ویں صدی میں سِوائے پاکستان کے دنیا کے کسی بھی مُلک کے سیاستدان اپنی سیاست کو جیل کے بجائے ہسپتال سے نہیں چلارہے ہیں آج جتنے کہ پاکستان کے سیاستدان اور اِن کی اولادیں کسی نہ کسی وجہ(بالخصوص چھوٹے بڑے حکومتی اور سرکاری کرپشن یا کسی بے گناہ کے قتل کی وجہ سے عدالتوں ) سے سزا یافتہ ہو نے یا تحقیقات کے لئے گرفتار ہو نے پراپنی بہت سی باطنی بیماریوںکا بہانہ بنا کر جیلوں سے ہسپتال منتقل ہوجاتے ہیںاور ہسپتالوںکے مکمل جدیداور آرام دہ کمروں میں لگے نرم و گداز فوم کے بستروں پر سو کراور اپنی خدمات کراکر سزائیں پوری کرتے ہیں ایسا تو دنیا کے کسی بھی مُلک میں نہیں ہوتا ہے کیو ںکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قیدی قیدی ہوتا ہے خواہ کو ئی کتنا بڑاکیوں نہ ہو؟ مگر برسوں سے جیسا کہ مملکتِ پاکستان میں ہورہاہے اَب آپ اِ سے سرزمین پاکستان کی بدقسمتی کہیں کہ آج جو جتنا بڑا کرپٹ ہے اُس کی اتنی ہی دھوم دھام سے تاجپوشی اور بعداز جیل جا نے کے بیماری کا بہانہ بنا کر مہنگے اور جدید آرام دہ گدوں (بستروں) پر سونے کے لئے جیل کا عملہ پیسے لے کر یا ترقی کی لالچ میں کرپٹ سیاستدانوں اور قتل کے کیس میں بند سیاستدانوں کی اولادوں کو بھی ہسپتال منقل کردیتا ہے۔آخر ایسا کب تک سرزمین پاکستان میں ہوتا رہے گا ؟کہ قومی چور سیاستدان اور سیاستدانوں کی اولادیں قتل کی سزا جیلوں میں کاٹنے کے بجا ئے ہسپتالوں میں سو کراور ہسپتالوں کے میل فی میل عملوں سے اپنی خدمات کراکر گزاریں گے جبکہ برسوں سے سیکڑوں ، ہزاروں اور لاکھوں مُلکی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے والے غریب قیدی بھی ہیں جو جیلوں میں بند ہیںمگر یہ بیچاری بنیادی اِنسا نی حقوق اور ضرورتوں سے بھی محروم ہیںیقینا یہ قا نون اور آئین کی بے توقیری ہے آج جنہیں جیلوں میں قیدیوں سے قا نون اور آئین کی پاسداری کرانی چاہئے تھی وہی اپنی ترقی اورہزاروں اور لاکھوں کی رشوت لے کر کرپٹ سیاستدانوں ، افسر شاہی اور سیاستدانوں کی قاتل اولادوں کو بھی جیلوں سے ہسپتال منتقلکرکے قانون شکنی کرتے ہیں ۔

اگرچہ، آج یہ مملکتِ پاکستان کے 98فیصد غریب اور محنت کش محب الوطن شہریوں اور باسیوں کے لئے خوش آئندامر ہے کہ اعلیٰ عدلیہ سُپریم کورٹ نے کرپٹ سیاستدانوں اور قتل کیس میں جیلوں میں بند سیاستدانوں کی اولادسمیت دیگر افراد کا جیلوں سے بیماریوں کے بہانے ہسپتال منتقل کئے جا نے کا نوٹس لے لیا ہے جس کے بعد اعلیٰ عدلیہ نے پیپلز پارٹی کے رہنماء سابق وزیرشرجیل انعام میمن سمیت جیل سے ہسپتال منتقل کئے گئے ملزمان کو فوری جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے اِس طرح شرجیل میمن، شاہ رخ جتوئی، انعام اکبر ، علی رضا، فداحُسین سمیت تمام قیدی ہسپتال سے جیل منتقل کردیئے گئے ، نہ صر ف یہ بلکہ یہاںیہ امر بھی قابل تعریف اور لائق صداحترام اورقابل ستائش ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے آئی جی جیل خانہ جات سے ہسپتالوں میں داخل سندھ بھر کے قیدیوں کی فہرست بھی طلب کر لی ہے قوم خاطر جمع رکھے مثبت نتائج مرتب ہوں گے۔


بہر کیف ،دنیا کی کسی بھی تہذیب کے کسی بھی مُلک کے کسی بھی معاشرے کے کیسے بھی سیاست دان ہوں یہ اپنی فطرت اور خصلت کے لحاظ سے ایک سے بڑھ کر ایک ہوتے ہیں اِنہیں اپنے لئے ایک نمبر سے زیادہ دونمبر سے دس نمبر تک ہو نے کی فکر لا حق ہوتی ہے یہی وجہ ہے اِن لوگوں کو دو سے دس نمبر تک کے سارے کام خو ب کرنے آتے ہیں مگر جن مما لک میں آئین اور قا نون کی پاسداری پر سختی سے عمل دارآمد ہورہاہوتا ہے وہاں پہ شیطان کے گروہ اِن سیاستدانوں کا ـ’بس‘ بھی بس..!! پاکستان کے شہر کراچی میں چلنے والی ’’بس‘‘ کی طرح ہوتا ہے جو کبھی چل گیاتو کبھی رک گیایعنی اپنے مفاد کے لئے چاہا تو بہت کچھ کرلیا ورنہ کچھ بھی نہیں کیاویسے یہ اپنی مرضی سے تو اپنی ذات اور اپنے مفادات کے خاطر بہت کچھ کرنا ، کرانا اورکر لینا چاہتے ہیں مگر اپنے مُلک میں عدلیہ اور قانون نافذ کرانے والے اداروں کی قا نون اور آئین کی سختی سے عملدرآمد کے باعث یہ اُتنا نہیں کرپاتے کہ جتنا یہ چاہتے ہیں مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کر جاتے ہیںجو یہ کرناچاہتے ہیں۔


آہ…! !مگر اُن کے برعکس مملکتِ پاکستان میں سیاستدان جب چا ہیں مُلکی آئین اور قا نون کو اپنی مرضی سے موم کی ناک کی طرح جہاں اور جب چاہتے ہیں موڑ لیتے ہیں اور جب چاہا آئین اور قا نون کا کان پکڑ کر اینٹھ دیا اور اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔یہاں راقم الحرف کو یہ کہنے دیجئے کہ گزشتہ ستر سالوں کے(سِوائے اول کے چارپانچ سالوں کو چھوڑ کر) پاکستان اور پاکستانی معاشرے اور تہذیب سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی سِول اور آمر حکمران اور سیاستدان آئے اور گئے سب ہی دونمبر سے دس نمبر تک کی رینکنگ کے ہیں، تھے اور رہیں گے کو ئی بھی ٹھیک طرح سے اپنی فطرت اور خصلت کے اعتبار سے ایک نمبر ہو نے کے قریب سے بھی نہیںگزرا ۔ اِنہیں مُلک اور عوا می مفادات سے کبھی بھی اپنے سو فیصد ہونے کی فکر لاحق نہ ہو ئی سب ایک سے بڑھ کر ایک ثا بت کرنے، کرا نے اور ہونے میں ایک دوسرے کا ریکارڈ توڑتے رہے اور توڑرہے ہیں اِن دِنوں بالخصوص ن لیگ اور بالعموم پی پی پی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں والوںنے تو جھوٹ ، بدیانتی اور ظلم کرنے میں حد ہی کردی ہے مُلک کے موجودہ سیاسی پس منظر میں اِس لحاظ سے ن لیگ سرِ فہرست ہے جو مُلکی تاریخ میں جھوٹ ، بدیانتی اور ظلم کے تمام ریکارڈ توڑکر اول درجے پرپہنچ چکی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ میرے دیس پاکستان میں سیاستدانوں نے اپنی سیاست کی بنیاد جھوٹ ، بدیانتی اور ظلم پر رکھی ہے یہی وجہ ہے کہ آج زمین مقدس پاکستان پر جو جتنا بڑا جھوٹا ، بدیانت اور ظالم ہے وہ اُتنا ہی بڑا سیاستدان ہے اور حکمران ہے ایسے سیاسی کھلاڑیوں اور حکمرانوں سے زمینِ پاکستان بھر پڑی ہے اِن سیاسی پینترے بازوں اور شاطروں کی شاطرا نہ چالوں سے ایسا لگتا ہے کہ اِن سبھوں نے مل کر سیاست کو ایک ایسا پیشہ بنادیا ہے جس میں کسی قا بلیت و مہارت کی ضرورت نہیں بس عیارو مکاراور دھوکہ باز ہونا لازمی ہے یہی وجہ ہے کہ آج سیاست میں سے قوم کے وجوداور فلاح کی بنیاد ختم ہوگئی جبکہ گوئٹے کا سیاست کے بارے میں یہ عظیم قول ہے کہ’’ سیاست اِنسان کی آسمانی سرگرمی ہے جس سے لاکھوں اِنسانوں کی زندگیاں اور تقدیریں وابستہ ہوتی ہیں‘‘ جبکہ آج گوئٹے کہ اِس قول سے سیاست کی اصل روح کی تلاش ممکن ہی نہیں ناممکن بھی ہوگئی ہے جبکہ عوام جانتے ہیں کہ سیاستدانوں کی بیماری بھی سیاسی ہوتی ہے۔


ای پیپر