انتہا پسندی اور فرقہ پرستی : قومی وحدت کیلئے زہر قاتل
28 فروری 2018 (20:42)

وقت آگیا ہے کہ منبرومحراب سے اسلام کا حقیقی بیانیہ جاری ہو اورمدارس کی تعلیم بھی اسی بیانیے کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔تمام مسالک کے علماء اور قائدین کو فتووں سے آگے نکلنا ہوگا۔علماء کرام سطحی اور فروعی مسائل کو ہوا دے کر قوم کو انتشار کی دلدل میں مت دھکیلیں۔ اسی پر بس نہیں وہ صوبائی تعصب کے خلاف بھی آواز بلند کریں،حکومت اور علماء کرام معاشرے میں انتشار پھیلانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے اجتماعی کوششیں کریں اور اپنی مشترکہ کوششوں کے ساتھ ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں اوراسے مستحکم کریں ۔ دریں چہ شک کہ انتہا پسند عناصر مسلمانوں میں تقسیم کے بیج بورہے اور انہیں تقسیم کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ جن استعماری قوتوں اور طاقتوں کا یہ ایجنڈا ہے وہ دنیا بھر میں اسلام کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ان قوتوں نے عالم اسلام میں فرقہ واریت کے منفی جذبات کو ہوا دیکر اور جہاد کے حقیقی پیغام کو مسخ کیا اور انتہا پسندی پھیلائی۔ ستم بالائے ستم یہ پاکستان میں نہ صرف مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر قوم کو تقسیم کیا جا رہا ہے بلکہ وحدت پاکستان کے مخالف عناصر کی طرف سے صوبائی بنیادوں پر بھی نفرتوں کے بیج بونے کی کو ششیں کی جاتی رہی ہیں۔


اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فرقہ وارانہ انتہا پسندی ملکی سالمیت اور قومی وحدت کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ فرقہ واریت اور مسلکی انتہا پسندی یقیناً کسی بھی ملک کی بقاء کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ3 عشروں سے فرقہ پرست عناصر کی قوم دشمن اور وطن مخالف سرگرمیوں کی جولان گاہ بنا ہوا ہے۔ حقائق و حالات سے یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ فرقہ واریت کے علمبردار ماضی میں مختلف بیرونی ممالک سے وسائل اور امداد حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس بارے میں یقیناً دو آراء نہیں ہو سکتیں کہ اس قسم کی ملک دشمن سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اندرونی ذرائع سے تائیدو تعاون حاصل کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی کے حکمرانوں کو اس امر کی اطلاع نہیں تھی کہ کون کون سے ممالک کس کس پرست اور مسلکی انتہا پسندی کی پرچم بردار جماعت کو مالی امداد فراہم کرتے رہے ہیں؟ حکمرانوں کے خالی خولی اس اعلان سے کہ فلاں فلاں مسلکی انتہا پسند اور فرقہ پرست جماعت کو ’’بعض ممالک‘‘ کی مالی آشیرباد حاصل ہے، اس مہلک وباء پر قابو نہیں پایا جا سکتا تھا۔ یہ بات علیٰ وجہ البصیرت کہی جا سکتی ہے کہ مسلکی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کوئی ناقابل تشخیص روگ نہیں ہیں۔ وہ حکمران جو ملی ہمدردی کے حقیقی جذبات سے سرشار ہوتے ہیں، ان کیلئے کوئی مشکل نہیں ہوتا کہ وہ اس ناسور کیلئے ’’آلات جراحت‘‘ بروئے کار لائیں۔یہ امر محب وطن عوامی حلقوں کیلئے موجب طمانیت ہے کہ وزیر اعظم نے اس عزم صمیم کا اظہار کیا ہے کہ وہ فرقہ واریت کے زہریلے پودے کی معصوم شہریوں کے خون سے آبیاری کرنے والے عناصر کی بیخ کنی کیلئے ٹھوس اور نتائج خیز اقدامات کریں گے۔ یقیناً یہ ایک مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں۔


ہمارے نزدیک وفاقی حکومت چاروں صوبوں کے تمام اضلاع میں مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ رجحانات کے خاتمہ اور اتحاد بین المسلمین کیلئے امن کیمٹیوں کو متحرک اور فعال بنانے کیلئے اقدامات کرے ۔ تمام اضلاع میں یہ کمیٹیاں اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے اجلاس منعقد کریں ، جن میں انتظامیہ حکام، ضلعی و تحصیل ناظمی اور دیگر معززین شرکت کریں ۔جہاں تک امن کمیٹیوں کا تعلق ہے تو اس امر کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ ان کے اراکین کی بھی سکروٹنی کی جائے۔ مدت مدید سے انتظامیہ کے تابعداران اور سپیشل برانچ کے سفارشی علماء و مشائخ ہی ان کمیٹیوں کے اراکین چلے آ رہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ مختلف مسالک کے بڑے دینی مدارس کے مہتممین پر مشتمل اتحاد بین المسلمین کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ ضلعی انتظامیہ اور تھانوں کے ٹائوٹوں سے ڈنگ ٹپائو کام تو لیا جا سکتا ہے لیکن بین المسالک اتحاد و یکجہتی کیلئے یہ عناصر پائیدار بنیادوں پر کام کرنے کی اہلیت و صلاحیت نہیں رکھتے۔ امن اور رواداری کے حوالے سے کام کرنے کیلئے ایسے علماء و ذاکرین کا انتخاب کیا جانا چاہئے جن کی جہاں ایک طرف اپنے اپنے فقہی اور مسلکی حلقوں میں مقبولیت و محبوبیت عام ہو، وہاں دوسری طرف انہیں دیگر مسالک و مذاہب کے اکابرین بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہوں۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ وطن عزیز میں ایسے سنجیدہ فکر اور بالغ نظر علماء و مشائخ کی کمی نہیں۔ البتہ ان کے اس وصف کو
ملحوظ خاطر رکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ یہ لوگ صلے کی تمنا اور ستائش کی پروا سے بے نیاز ہو کرسادہ لوحی سے زندگی بسر کرتے ہیں اوراس امر کا قوی امکان ہے کہ وہ ’’مروجہ آداب سلطانی‘‘ سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ اس کے باوجودیہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ وہ انتہائی بے لوثی اور بے نفسی کے ساتھ اپنے اپنے حلقہ ہائے اثر میں ابلاغ حقائق کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ وہ جاہ پسند اور نمود شعار روایتی علماء و ذاکرین کی طرح وزیروں اور مشیروں کے آستانوں پر حاضری دینے کے قرینے سے آگاہ نہیں۔ ارباب حکومت کا فرض منصبی ہے کہ وہ اقتدار و اختیار کی شہ نشینوں سے نیچے اتر کر ان علماء کے آستانوں پربھی حاضری دیں اور انہیں وسیع تر ملی مفاد کی خاطر اتحاد بین المسلمین کیلئے کام کرنے کی دعوت دیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اتحاد بین المسلمین ملی وحدت اور ملکی استحکام کیلئے ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ و فاقی اور صوبائی حکومتیں اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اس ضمن میں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اہم اقدامات کی مزید ضرورت ہے۔


ای پیپر