حسن اتفاق
28 فروری 2018 (20:41)

15جنوری 2013ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور پلانٹس میں کرپشن کا کیس چل رہا تھا۔ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر نے کے بعد اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دے چکے تھے ۔ یہ ملکی تاریخ میں کسی غیر سیاسی مذہبی تنظیم کا پہلا منظم دھرنا تھا جس نے وفاقی حکومت کا دن کا چین اور راتوں کی نیند اڑا دی تھی۔ آپ دھرنے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ طاہر القادری صاحب نے اپنے پیروکاروں سے اللہ اور رسول کے نام ہر حلف لیے کہ جب تک انقلاب نہیں آجاتا آپ لوگ گھر نہیں جائیں گے۔ دوسری طرف طاہرالقادری صاحب نے وفاقی حکومت کو یہ فرمان جاری کر دیا کہ وزیراعظم پاکستان، تمام وزرا، صدر پاکستان اور چاروں صوبائی وزرا اعلی فورا مستعفی ہو جائیںاور قومی اور صوبائی اسمبلیاں فورا تحلیل کر دی جائیں۔بات صرف یہاں پر نہیں رکی بلکہ انھوں نے اپنی تمام تقاریر میں وزیراعظم اور صدر کو سابق وزیراعظم اور سابق صدر بھی کہنا شروع کر دیا۔ اسی دوران عمران خان بھی میدان میں آ گئے اور کرپشن کو بنیاد بنا کر اسمبلیاں توڑنے ، وزیراعظم کے مستعفی ہونے اور وقت سے پہلے الیکشن کروانے کا مطالبہ بھی کر دیا۔


حکومت سمیت تمام عالمی طاقتیں اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھیں اور ہر پاکستانی کی زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ اب کیا ہو گا۔ کیا حکومت کو گھر جانا پڑے گا؟ کیا وزیراعظم استعفیٰ دیں گے؟ ابھی یہ سوالات جنم لے رہے تھے کہ اسی دوران چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کو رینٹل پاور پلانٹس کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس صاحب سے جب کہا گیا کہ مائی لارڈ سپریم کورٹ کے باہر دھرنے والے بیٹھے ہیں، الیکشن سر پر ہیں اس وقت اتنا بھیانک فیصلہ دینا الیکشن پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے تو چیف جسٹس پاکستان نے جواب دیا کہ ہمیں نہیں علم کے باہر کوئی دھرنے پر بیٹھا ہے یا نہیں اور نہ ہی ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ یہ فیصلہ الیکشن پر اثر انداز ہو گا یا نہیں ہم نے فیصلے قانون کے مطابق کرنے ہیں۔چیف جسٹس صاحب یہ فیصلہ سنا کر چلے گئے لیکن ملک کی سٹاک ایکسچینج کریش کر گئی۔ اور دھرنے پر بیٹھے طاہرالقادری صاحب نے اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ دھرنے کے شرکا کو مبارکباد دی کہ ہم کامیاب ہو گئے۔ ہمارا دھرنا کامیاب ہو گیا۔ مبارک ہو مبارک ہو مبارک ہو۔ سپریم کورٹ زندہ باد۔ چیف جسٹس پاکستان زندہ باد۔


آپ خود فیصلہ کریں کہ جس وقت سپریم کورٹ کے سامنے وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے لئے دھرنا چل رہا ہو عمران خان وقت سے پہلے الیکشن کروانے کی باتیں کر رہے ہوں عین اس وقت چیف جسٹس صاحب وزیراعظم کو نا اہل کر دیں تو کیا اس سے یہ تاثر نہیں ابھرے گا کہ سپریم کورٹ کا وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا فیصلہ حکومت مخالف منصوبے کا حصہ ہے اور اگر اس موقع پر چیف صاحب فرمائیں کہ ہم فیصلے قانون کے مطابق کرتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ باہر کیا ہو رہا ہے تو کون چیف جسٹس صاحب کی بات پر یقین کرے گا؟جبکہ چیف جسٹس صاحب یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ اس طرح کا فیصلہ دھرنا ختم ہونے کے بعد بھی دیا جاسکتا تھا تا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ متنازعہ نہ ہو اور سپریم کورٹ کا فیصلے میں پارٹی بننے کا تاثر نہ ابھرے۔ لیکن انھوں نے غلط وقت پر فیصلہ دے کر جلتی پر تیل کا کام کیاتھا۔


آپ ان حقائق کو سامنے رکھیں اور ان کا مقابلہ آج کے واقعات سے کریں تو آپ یقینا ایک دلچسپ صورت حال کا مشاہدہ کر سکیں گے۔اکتوبر2017ء میں میاں محمد نواز شریف نااہلی کے بعد دوبارہ مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہوئے۔ جنوری 2018ء میںآصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ سینیٹ الیکشن ن لیگ نہیں جیتے گی ۔نواز شریف کو سینیٹ الیکشن سے پہلے پارٹی صدارت سے فارغ ہونا ہو گا۔ شیخ رشید بھی پروگرامز میں دعوی کرتے رہے کہ سینیٹ الیکشن سے پہلے ہی ن لیگ کو بڑا جھٹکا لگ جائے گا اور ن لیگ سینیٹ الیکشن میں نہیں ہو گی۔ عمران خان اور شیخ رشید سمیت تیرہ لوگوں نے سپریم کورٹ میں نااہل شخص کے پارٹی صدر بننے کے خلاف درخواستیں دے دیں۔اسی دوران سینیٹ الیکشن کا شور مچ گیا اور تمام پارٹیوں نے اپنے اپنے امیدوار وں کے نام الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیے۔قومی اسمبلی میں دو تہا ئی اکثریت ہونے کی وجہ سے ن لیگ کا سینیٹ الیکشن جیتنا یقینی تھا۔ الیکشن کمیشن میں فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ 8فروری تھی۔ 9فروری کو امیدواروں کی لسٹ لگی، 12فروری تک کاغذات کی چھان بین کی گئی ۔ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے منظور یا مسترد کرنے کے خلاف اپیل کی آخری تاریخ 15فروری تھی۔ 21فروری 2018ء کو جب واپسی کے تمام راستے بند ہو گئے تو سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے ناہل قرار دے دیا۔اس کے ساتھ ہی نواز شریف کے منتخب شدہ سینیٹ نمائندوں سمیت تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ن لیگ کے تمام سینیٹرز کو آزاد امیدوار نامزد کر دیا گیا اور ان پر یہ پابندی لگا دی گئی کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھی آزاد ہی تصور کیے جائیں گے کیونکہ ن لیگ نام سے کوئی بھی پارٹی اس مرتبہ سینیٹ الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی۔نواز شریف کو نااہل کرنے کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے فرمایا کہ ہم فیصلے قانون اور آئین کی روشنی میں کرتے ہیں اور ہمارے فیصلے سیاسی نہیں ہیں۔


مائی لارڈ آپ یقینا سچ کہ رہے ہوں گے لیکن اگر ہم آصف علی زرداری اور شیخ رشیدکے دعووں کو سامنے رکھیں اور اس کے ساتھ آپ کے فیصلے کے وقت کو بھی مدنظر رکھیں تو کسی بھی ذی شعور انسان کے دماغ میں یہ سوال ضرور ابھرے گا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 8فروری سے پہلے بھی آسکتا تھا تاکہ سینیٹ الیکشن اثر انداز نہ ہوتے اور ن لیگ سینیٹ الیکشن سے آوٹ نہ ہوتی۔اس کے علاوہ اگر نااہلی کے بعد یوسف رضا گیلانی کے فیصلوں کو کالعدم نہیں کیا گیا تو نواز شریف کے کیے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار کیوں دیا گیا ؟ کیونکہ آپ کے اس فیصلے نے الیکشن سے تین ماہ پہلے اپوزیشن کی جماعتوں کو فائدہ پہنچایا ہے جس طرح جنوری 2015ء میں افتخار چوہدری کے فیصلوںنے اپوزیشن کو فائدہ پہنچایا تھا۔ افتخار چوہدری بھی قسمیں کھاتے تھے کہ ان کے فیصلے سیاسی نہیں ہیں لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ سیاسی فیصلے تھے۔


مائی لارڈ عجیب حسن اتفاق ہے کہ 2013 ء میں الیکشن سے پہلے سپریم کورٹ کے فیصلوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا تھا اور آج 2018ء میں بھی الیکشن سے تین ماہ قبل سپریم کورٹ کے فیصلوں نے ن لیگ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ دونوں واقعات حسن اتفاق ہو سکتے ہیں لیکن مورخ انہیں حسن اتفاق نہیں لکھے گا ۔ مورخ لکھے گا کہ ملک پاکستان میں فیصلے قانون کے مطابق نہیں بلکہ وقت کے مطابق ہوتے تھے۔


ای پیپر