بھارت اور اسلحے کے انبار
28 فروری 2018 (20:40) 2018-02-28

کہنے کو توبھارت کا شمار دنیا کی سب سے تیز رفتار کے ساتھ ترقی کرنے والی معیشتوں میں کیا جاتا ہے لیکن کئی برسوں سے اسے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک میں مہنگائی تقریباً دس فیصد ہے جسے قابو کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے وضع کردہ پیمانے کے مطابق بھارت کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزارتی ہے ۔عالمی ادارے نے انسانی ترقی پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں اکسٹھ کروڑ لوگ غریب ہیں۔ بھارت میں غریبوں کی اصل تعداد پر کافی عرصے سے بحث جاری ہے ۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ حال ہی میں اس بحث میں اس وقت شدت پیدا ہوگئی جب منصوبہ بندی کمیشن نے سپریم کورٹ میں کہا کہ ’ جو لوگ 32 روپے یومیہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں انتہائی غریب ہونے کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا‘۔خود حکومت کی تشکیل کردہ ٹینڈولکر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’ ملک کی آبادی کا سینتیس فیصد حصہ انتہائی غربت کے زمرے میں آتا ہے لیکن یو این ڈی پی نے غریبوں کا تعین کرنے کے لیے جو طریقِ کار اختیار کیا ہے وہ ٹینڈولکر کمیٹی اور منصوبہ بندی کمیشن کے طریقوں سے مختلف ہے۔یو این ڈی پی آمدنی، صحت اور تعلیم کی بنیاد پر وضع کیے جانے والے اس انڈیکس کو پیمانہ بناکر دنیا کے زیادہ تر ممالک کی ایک فہرست تیار کرتا ہے۔دو ہزار گیارہ کی رپورٹ میں ایک سو ستاسی ممالک کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں بھارت کو ایک سو چونتیسواں مقام حاصل ہوا ہے‘۔ ایک طرف بھارتی حکمرانوں کا جنگی جنون انہیں دنیا بھر میں اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار بنا رہا ہے تو دوسری طرف عالمی بینک اسے خبردارکر رہا ہے کہ ’ بھارت میں غربت کی شرح 68.7 ہے‘۔ غربت کی اس ناقابل رشک اور ناپسندیدہ صورت حال کی وجہ سے بھارت کے محروم طبقات میں منفی قدریں پنپ رہی ہیں۔ بھوک اور افلاس کی اس بڑھتی شرح کی وجہ سے بھارت کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے ،جہاں جرائم کی شرح بھی جنوبی ایشیائی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ ڈکیتیوں،چوریوں،قتل و غارت گری، رشوت ستانی اور بدعنوانی نے بھار تی معاشرے کو اخلاقی اور تمدنی لحاظ سے پست ترین سطح پر لاکھڑا کیا ہے ۔ شہریوں کی اکثریت گوناگوں جسمانی اور نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ انہیں علاج معالجہ کی معیاری سہولیات بھی میسر نہیں۔ ممبئی، کلکتہ ،بنگلور اور نئی دہلی ایسے شہروں میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں، ٹرنک پائپ لائنز ، گندی بستیوں اور جھونپڑ پٹیوں میں پیدا ہوتے، وہیں پلتے بڑھتے ، جوان ہوتے، شادیاں کرتے، بچوں کو جنم دیتے اور مرجاتے ہیں۔ اور تو اور اخلاقی اور معاشرتی قدریں مفقود ہورہی ہیں اور بعض صورتوں میں یہ محرومیاں، بھوک اور مفلسی معاشرے میں جرائم، قتل و غارت گری اور فتنہ و فساد کے فروغ کا باعث بن جاتی ہیں۔


گزشتہ برس جنوری میں فرانس کے صدرفرانسوا اولاندنے تین روزہ دورہ ٔ بھارت شروع کیا ۔ انہوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر فوجی پریڈ میں بہ حیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ بھارت نے اگلے روز بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت وہ فرانس سے 6کھر ب روپے کے 36رافیل لڑاکا طیارے خریدے گا۔ طیاروں کی خریداری کو دنیا کی بڑی دفاعی ڈیل قرار دیا جا رہا ہے۔صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ ’ 6کھرب روپے کے رافیل جنگی طیاروں کا بھارت کے ساتھ معاہدہ صحیح راہ پر ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان بے مثال صنعتی اور تکنیکی تعاون کی راہ آئندہ 40 برسوں کے لیے ہموار ہوگی‘۔جب کہ فرانسیسی خلائی ایجنسی CNES کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ بھارت کے اگلے مریخ مشن میں شامل ہو۔ فرانسیسی کمپنیاں بھارت میں اگلے پانچ برسوں میں صنعتی شعبے میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔اولاند نے بھارت کے مختلف شعبوں میں ہر سال ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا۔


یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 15 اپریل 2015ء کوبھارت اور فرانس کے درمیان دفاعی اور جوہری توانائی معاہدہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اپریل 2015 ء میں جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کا سرکاری دورہ کیا تو اس موقع پر دونوں ممالک میں علاقائی تعاون سمیت دفاع اور جوہری توانائی کے حوالے سے اہم معاہدے ہوئے ۔ معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی پلانٹ تیار کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ فرانس، بھارت میں چھ جوہری پلانٹ کے لیے دو ارب یورو کی سرمایہ کاری کرے گا۔جبکہ فرانس بھارت کو تین سمارٹ شہر بنانے میں بھی مدد کرے گا۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ 25 دسمبر 2015ء کو بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے روس کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 16 اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے۔ نریندر مودی نے ماسکو میں جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ’ بھارت میں روسی ساخت کایامووف 226 ہیلی کاپٹر بنانے پر ہونے والا سمجھوتہ،’ میک ان انڈیا ‘ کے تحت پہلا بڑا دفاعی منصوبہ ہے۔ روس بھارت کو فوجی ساز و سامان مہیا کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ بھارت کے پاس موجود ٹینک، جنگی طیارے، آبدوزیں اور دیگر جتنے بھی تباہ کرنے والے ہتھیار ہیں وہ سب بھارت نے روس سے لیے ہیں۔
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ بھارت دنیا بھر سے جدید ترین اسلحے کے انبار اس لیے لگا رہا ہے کہ براستہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی اور دراندازی کے واقعات کو بڑھاوا دیا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے پاک افغان سر حد سے متصلہ شہروں اور قصبوں میں3درجن سے زائد قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں۔ ان قونصل خانوں میں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ ، ملا فضل اللہ کی ٹی ٹی پی اور سندھ کے لسانی پریشر گروپس کو عسکری تربیت دینے کے بعد پاکستان روانہ کردیا جاتا ہے۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ ان قونصل خانوں ہی کے ذریعے ۔ بلوچستان ، فاٹا، کراچی اور صوبہ سرحد میں ہونے والے جملہ دہشت گردی کے حملوں کو کنٹرول کیا جا تا ہے اور حملہ آور افغانستان ہی سے پاکستان میں داخل ہوکر یہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ گویا افعانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گرد ایکسپورٹ کرنے کے کھلے بندوں استعمال کی جا رہی ہے۔یہ دہشت گرد پاکستان میں آسان اور کمزور اہداف کو نشانہ بنا تے ہیں۔اس پہلو سے صرف نظر نہیں کیاجانا چاہیے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مقصد پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے دنیا میں منفی پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ ہر جان لیوا بزدلانہ حملے کے بعد قومی قیادت احتجاج کرتی ہے کہ ’’ہم لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ وفاقی حکومت پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لائحہ عمل کا اعلان کرے‘۔ ان مواقع پر کئی رہنما حکومت کو پاک افغان سرحد سیل کرنے کا مشورہ بھی دہتے ہیں ۔ جبکہ مٹھی بھر دانشوروں کا کہناہے ’’پاکستان اور افغانستان کی چوبیس سو کلومیٹر طویل سرحد ہے، اسے سیل کرنا ممکن نہیںا،پاکستان میں پندرہ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اور پندرہ لاکھ سے زیادہ غیر قانونی طور پر افغان، رہائش پذیر ہیںجبکہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی بھی افغانستان میں کام کررہے ہیں ایسے میں بارڈر سیل کرنے کے منفی اثرات کوبھی سامنے رکھنا ہو گا‘‘۔ یہ تو طے ہے کہ اس طرح کے حملے غیر ملکی تعاون کے بغیر ممکن نہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ افغانستان میں موجود لوگوں کو کوئی نہ کوئی تو فنڈنگ کررہا ہے۔ عوامی حلقے کھل کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھا کر بھارت اور افغانستان سے کھل کر بات کرے اور وہ اپنی سرحدوں سے دہشت گردوں کی آمد و برآمد بند کرکے دہشتگردی کے خاتمے میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔


ای پیپر