سری دیوی کے لیے ۔۔۔
28 فروری 2018 (20:32)

وہ وی سی آر کا دور تھا۔جب سری دیوی نے فلم دینوں کے دلوں پر راج کیا۔تن تنہا تو نہیں۔البتہ اپنی ہم عصر دیگر فلی ہیروئنوں کی مانند، اس کی اپنی فین فالوونگ تھی۔تاہم سری دیوی نے 80 کی دہائی کے پہلے چند سالوں میں سکرین کی دنیاپر بلا شرکت غیرحکمرانی کی۔اقتدار کو زوال آتا ہے۔وہ کسی ملک کا اقتدار ہو کھیل کی دنیا ہو یا پھر گلیمرورلڈ کروڑوں دلوں پر راج کرتی شخصیت کو پتا بھی نہیں چلتا کہ اچانک اس کا کوئی حریف اس سے زیادہ حسین زیادہ ٹیلنٹڈ،زیادہ با صلاحیت اور بعض حالات میں زیادہ مقدر کادھنی آتے ہی فاتح بن جانے کا نصیب لے کر پیدا ہونے والااس سے کہیں آگے نکل چکا۔شہرت کے رو پہلے تخت نشین کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس کی بادشاہی چھن چکی۔اس کا شہر بھنبھور لٹ چکا۔شاید معلوم بھی ہوتا ہے۔لیکن بے اعتبار دل قبول نہیں کر پاتا۔جس طرح شہرت ہر کسی کو ہضم نہیں ہوتی اسی طرح زوال کی تلخی کے گھونٹ کو حلق سے اتار نے کیلئے بھی بڑا ٹمپرامنٹ چاہیے۔ بر صغیرکی فلمی دنیا میں ایسے نامور سٹار گزرے ہیں جنہوں نے عروج کے بعد بے نامی اور گمنامی کوہنسی خوشی گلے سے لگایا۔کئی ایسے ہیں جنہوں نے چکا چوندکی دنیا کو عملی طور پر چھوڑ دیالیکن شہرت ان کے گرد حالہ بن کررقصاں رہی۔ سری دیوی بھی ان خوش نصیبوں میں سے تھی جوگلیمرس کی دنیا سے آؤٹ ہونے کے بعد کسی نہ کسی شکل میں ان رہی۔


دو ایجادات نے برصغیر کی فلمی دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کی شکست میں بھی دو ایجادات وی سی آر اور ٹیپ ریکارڈر نے اہم کردار ادا کیا۔وجوہات اور بھی بہت سی ہیں۔یہ ایجادات مڈل ایسٹ جانے والے پاکستانیوں اور بھارتیوں کے ذریعے ہمارے گلی، محلوں،
گھروں تک پہنچیں۔ 1980 ء کی دہائی میں بھارتی فلمیں وی سی آر کے ذریعے بیڈ روم تک پہنچیں۔ ان فلموں کے مقبول عام گانے آڈیو کیسٹوں کے ذریعے ہر شائق کی دسترس میں آئے۔ پاکستان میں بھارتی فلمیں بین تھیں۔لیکن ان کی کیسٹیں سمگل ہو کر پاکستان پہنچ جاتیں۔بازار میں فلموں کی ویڈیو کیسٹیں دستیاب تھیں۔ نتیجہ نکلا کہ ہمارے سینما گھر ویران ہوتے گئے۔ فلمی شائق زیبا،دیبا، آسیہ، فردوس،نغمہ اورایسی ہی ملکوتی حسن کی مالک شاندار آرٹسٹوں کو بھول گئے۔اور ان کی جگہ بھارتی فلم انڈسٹری پر چھائے میل،فی میل آرٹسٹوں کی نئی نسل نے لے لی۔وی سی آر نہ ہوتا تو کسے معلوم ہوتا کہ ریکھا، سری دیوی ، پدمنی کولہ پوری، سمیتاپاٹیل، منداکنی، ہیما مالنی کون ہیں۔ان کی شکل و صورت کیسی ہے۔انہوں نے کون سی مووی میں پرفارم کیا ہے۔وہ مشہورعام جو دن رات سنے جاتے ہیں۔کس ہیرو،ہیروئن پر فلمائے گئے۔وی سی آر نہ ہوتا تو شاید بھارت کی یہ عشو وطراز فلمی پریاں بھی تامل کناڈا،ملیا لم فلموں تک محدود رہ جاتیں۔شاید کم لوگوں کو معلوم ہے کہ بھارت میں ہندی فلموں کی مارکیٹ بہت محدود ہے۔جبکہ اصل مارکیٹ علاقائی فلموں کی ہے۔ سری دیوی کے پاس 4 سال کی عمر سے چائلڈ سٹار کے طور پر اور 13 سال کی ایج میں تامل مووی میں پرفارمنس کا وسیع تجربہ تھا۔1972ء سے لے کر 1979ء تک ان گنت تیلگو فلموں میں تہلکہ مچا چکی تھیں۔لیکن ابھی ان کے فن کا چرچا ہندی فلموں کے شائقین تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ہندی فلموں کا بند دروازہ سری دیوی پر ڈرامائی مووی سولواں ساون کی شکل میں کھلا یہ ناکام فلم ان کے کیرئیرپر کوئی اثر نہ ڈال سکی۔ فلم دینوں کو پتا بھی نہ چلا کہ کون سی اداکارہ آئی اوربغیر کوئی تاثر چھوڑے علاقائی فلموں کی دنیا واپس لوٹ گئی۔چند سالوں بعد سری دیوی کو ایک مرتبہ پھر انٹری کا موقع ملا۔اس مرتبہ تقدیرکا چکر ان کے حق میں چل پڑا تھا۔شہرت کا مہربان ان دیکھا پرنداان کے سر پر اترنے کیلئے تیار تھا۔یہ بلاک بسٹر مووی ہمت والا تھی جس نے شہرت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ علاقائی فلموں کی سانولی سلونی ناٹے قد نارمل حسن کی مالک سری دیوی سپر سٹار بن گئی۔ان کی بے ساختہ اداکاری بے باک ادائیں۔فطری والہانہ پن ان کو دور جدید کی پہلی سپر سٹار آرٹسٹ کا درجہ دلوا گیا۔اس دور کے زیادہ تر مقبول عام گانے سری دیوی پر پکچر ائز ہوئے۔ان کے اکثر رومانوی دوگانے انیل کپور،جیتندراور بنگالی بابو متھن چکرورتی کے ساتھ فلمائے گئے۔ سری دیوی کا پیدائشی نام تو نہایت مشکل مدراسی زبان کا لفظ تھا۔لیکن وہ زمانے میں سری دیوی کے نام سے جانی گئیں۔ سری دیوی نے علاقائی فلموں سے لے کر ہندی مووی تک 300 فلموں میں کام کیا۔چاندنی،مسٹر انڈیا،ناگن،گمراہ،خدا گواہ اور ایسی ہی درجنوں فلمیں ایک سے بڑھ کر ایک۔ان فلموں نے اس کو پیسہ بھی دیا اور شہرت کی بارش سے سیراب کیا۔قلمکار نے فلمیں بہت کم دیکھ رکھی ہیں۔خاص طور پر رومانوی فلمیں۔ایک ہی طرح کی یکسانیت کا شکار۔البتہ فلمی موسیقی سے لگاؤ جنون سے ایک درجہ اوپر ہی ہو گا۔بہت سی مشہور زمانہ فلمیں مقبول عام گانوں کی وجہ سے دیکھنا پڑیں۔عالم جوانی میں بھی کسی فلی ہیروئن کے عشق میں مبتلا ہونے کی غلطی تو سر زد نہیں ہوئی۔البتہ خوبصورت دھنوں،انمول شاعری سے مزین گانوں نے دل کو بے قرار کیا۔ سری دیوی کی فلمیں یاد نہیں۔البتہ کھنکتے،لہکتے چہچہاتے گانے ہمیشہ یاد رہیں گے۔البتہ اس کی نسبتاََکم مشہور فلم ’لمحے‘ کبھی نہیں بھولے گی۔ یہ خوبصورت فلم ہمیشہ یاد رہے گی۔ بہت عرصہ سے فلمیں دیکھنا چھوڑ رکھی ہیں۔اب خوبصور ت نغمے بھی ذرا کم ہی تخلیق ہوتے ہیں۔ سری دیوی کے دیہانت کی خبر سنی تو سارے ناقابل فراموش نغمے،وہ نٹ کھٹ آرٹسٹ کی کئی بار دیکھی مووی لمحے سب کچھ یاد آگیا۔فرصت ملی تو لمحے ضرور دیکھوں گا۔آخری بار۔


ای پیپر