خادمِ اعلیٰ غور فرمائیں
28 فروری 2018 (20:30)

نظام کوئی بھی ہو، سسٹم کیسا بھی ہو، اس کی کامیابی کی بنیادی شرائط میں طے شدہ قوانین اور قواعد و ضوابط پر بلا امتیاز عملدرآمد سر فہرست ہے۔ اگر چھوٹے بڑے، امیر غریب کیلئے الگ الگ پیمانے ہوں تو کوئی نظام کامیابی سے چل سکتا ہے نہ معاشرہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ ہمارا المیہ بھی یہی ہے کہ ہم اس عالمی تصور مساوات سے کوسوں دور ہیں۔ بے شمار مثالیں اس ضمن میں دی جا سکتی ہیں ۔یہ اصولی باتیں گزشتہ عرصہ میں سامنے آنے والے کچھ واقعات سے بڑی شدت سے یاد آئیں۔ ملتان میں ایک قدیم اور ممتاز تعلیمی ادارہ گورنمنٹ مسلم ہائی سکول کے نام سے پون صدی سے زیادہ عرصہ سے تعلیم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ چند ماہ قبل اس کے غریب چوکیدار کو ملازمت سے فارغ کیا گیا۔ الزام تھا کہ سکول کے اندر اس کے رہائشی کورٹر میں اس کی بیٹی کی بارات آئی تو کچھ مہمانوں کو سکول کے کلاس رومز میں بٹھا دیا گیا۔ چھٹی کا دن تھا۔ بینڈ باجے سے طلبہ کی تعلیم میں کوئی رخنہ ہوا نہ مہمان بٹھانے سے کوئی کلاس ڈسٹرب ہوئی۔ تعلیمی اداروں میں شادی کی تقریب پر پابندی ہے۔ چوکیدار نے یہ پابندی توڑی۔ میڈیا پر خبر آتے ہی اسے معطل کر دیا گیا۔مگر اس کے تھوڑے دن بعد اس سے بڑی مادرعلمی بہا ء الدین زکریا یونیورسٹی کے کھیل کے میدان میں شادی کی بہت بڑی تقریب ہوئی۔ سارے میڈیا نے دکھائی۔ شاہمحمود قریشی کے اکلوتے بیٹے زین قریشی کی دعوت ولیمہ تھی۔ امراء، رؤسا، تاجروں، صنعتکاروں، سیاستدانوں، بیورو کریٹوں سمیت ہزاروں افراد موجود تھے۔ میزبان نے گراؤنڈ استعمال کرنے کی فیس مبلغ پانچ ہزار روپے ادا کی۔ کسی نے پابندی کی خلاف ورزی کا نوٹس نہیں لیا۔ اس سے پہلے اسی گراؤنڈ پر سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ، سابق سپیکر قومی اسمبلی سیدفخر امام، موجودہ گورنر ملک رفیق رجوانہ بھی اپنے بیٹوں کے ولیمے منعقد کر چکے ہیں۔ کسی کوکوئی نوٹس جاری ہوا نہ یونیورسٹی انتظامیہ سے کسی نے باز پرس کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑے لوگوں کو ایسے کام کرنے کی اجازت اور غریب چوکیدار کی بیٹی کی شادی پر کڑی سزا۔ غریب جس گھر میں چھوٹے سے کوارٹر میں رہتا ہے وہیں حیثیت کے مطابق شرعی فریضہ ادا کرتاہے۔ اُس پر اتنی بڑی سزا ۔امیروں کے بڑے بڑے محلات اور پورے پورے گاؤں بھی ناکافی۔ مگر اس پر کوئی نہ فیصلہ آتا ہے، نہ قانون نافذ ہوتا ہے۔ اور ستم دیکھئے کہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ گزشتہ دنوں جنوری کی ایک سرد ٹھٹھرتی رات ملتان شہر کے معروف تعلیمی ادارے، ملتان پبلک سکول و کالج برائے طلبہ میں ایک ایم ۔پی۔اے کے بیٹے اور نجی کمپنی نے کمرشل بنیاد پر ایک پرائیویٹ میوزیکل شو منعقد کیا۔ اس کے بلامبالغہ کروڑوں روپے کے ٹکٹ فروخت کئے گئے۔ شو کے لئے اس تعلیمی ادارے کے چیئرمین کمشنر ملتان سے ادارے کے تقدس کو پامال کرنے اور تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت لی گئی۔ ادارے کے سارے عملے کو نجی شو میں ڈیوٹی کی اذیت سے دوچار کیا گیا۔ خاص کر خواتین معلمات کو طوفان بد تمیزی کا سامنا کرنے کے لئے پابند کیا گیا۔ رات گئے تک اُنہیں شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک جم غفیر تھا۔ ہلڑ بازی تھی ۔ اور توڑ پھوڑ ہوئی۔ خواتین، بچوں اور بچیوں کو شدید بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ سکیورٹی خطرے میں پڑ گئی تو اس صورتحال سے نپٹنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری بلائی گئی، مگر پولیس بے بس تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔ وہ ہجوم کو کنٹرول نہ کر سکی بھگدڑ مچ گئی۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے، اُنہیں خطروں میں نہیں ڈالا جاتا، سخت سردی اور دُھند کے باعث جب کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ایسے میں خدانخواستہ دہشت گردی کا کوئی سانحہ رونما ہو جاتا تو کیا اس کا ذمہ دار دہشت گرد ہوتا۔ ہمیشہ کی طرح صرف دہشت گرد؟؟؟


خادم اعلیٰ غور فرمائیں اس شو کے انعقاد سے ہونے والی قانون شکنی چوکیدار کی بیٹی کی شادی سے زیادہ نہیں؟ امراء کے شوق کی تکمیل وہ بھی تعلیمی اداروں کے تقدس اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈال کر۔ کیا یہ پنجاب حکومت کے اپنے ہی قوانین کی کھلی خلاف ورزی نہیں۔۔؟؟؟ بات یہ ہے کہ قوم و ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعوے کرنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ کیا امیر اور غریب کے ساتھ سلوک اور رویوں میں اس طرح کی تفریق سے معاشرے اور نظام کا مستقبل محفوظ رہ سکتا ہے؟؟؟


ای پیپر