احساس کی دولت سے مالا مال اور من موجی لوگ۔۔۔؟
28 فروری 2018 (20:24) 2018-02-28

تاریخ میں یہ سچ لکھا جاتا ہے کہ ’’ من موجی ‘‘ قسم کے لوگوں کی رائے بدلنا، اُن کو قائل کرنا، نہیں ہے کسی کے بس کی بات ؟ جو کہہ دیا، جو ٹھان لی، وہ سفر شروع کر دیا چاہے وہ سفر آخرت بن جائے، ماں کا حکم ہوتا تھا کوئی جیکٹ کوئی کوٹ لے جاؤ، سخت سردی میں مری جا رہے ہو؟ لاہور سے روانگی کے وقت احساس ہی نہ رہتا کہ ماں کا حکم مان لیا جائے اور پھر سردی کے ہاتھوں مری کی برف پوش پہاڑیوں پر جو ذلت اٹھانی پڑتی اوپر سے پورے مری میں ایک ہی میڈیکل سٹور تھا اور بس ۔۔۔ آپ خود سمجھدار ہیں ۔۔۔؟ ویسے اس کو ہٹ دھرمی بھی کہا جا سکتا ہے ۔۔۔؟

حافظ شفیق الرحمن ایک شاہ جی کا ذکر فرماتے ہیں جو لاہور راج گڑھ کے علاقے کے رہنے والے اور ساغر صدیقی کے عاشقوں میں شمار ہوتے تھے، ہم دونوں ساغر کو تلاش کرتے پھرتے، اُس کا اِن حدود میں رہنا اُس کے ساغر ہونے کی بڑی نشانی تھی، حافظ صاحب نے مزید بتایا ’’کہتے رہتے لوگ کہ ساغر صدیقی یہ لو کپڑے پہن لو، اوڑھ لو بدن پہ کچھ، مایوس چہرے پر خوشی بکھیر لو ۔۔۔ ساغر کی ایک آنکھ میں شاید زیادہ مے نوشی کے باعث ذرا سا بھینگا پن تھا جو ساغر کے Miserable چہرے پر اور بھی اداسی بپا کر دیتا، یہ مخصوص مزاج کے لوگ ہوتے ہیں، انارکلی بازار کے شیخ صاحب اُس دور میں جب لاہور میں رضائی اوڑھنے کا دور تھا کم کم لوگ کمبل سردی میں لیتے تھے کیونکہ imported کمبل خاصے مہنگے ملتے تھے، انارکلی بازار کے شیخ صاحب کو بھی ساغر صدیقی کے ٹھکانوں کا پتہ تھا، چوبرجی کے گرد کہاں ہو گا ساغر کو وہ ڈھونڈھ لیتے، اپنی گاڑی سے اتر کر دو زانو بیٹھ جاتے ساغر کے سامنے، ساغر صدیقی کیا حلیہ بنا رکھا ہے کمبل کہاں گیا ابھی تین دن پہلے تمہیں نیا کمبل لا کر دیا تھا، تمہیں پتہ ہے ناں، کتنا مہنگا تھا وہ کمبل؟ ۔۔۔ یہ موڈی لوگ ہوتے ہیں، یہ پیسے، مہنگائی، لالچ، پیسے کی دھونس، یہ لوگ اس بات سے بدکتے ہیں یوں کہہ لیں مائنڈ کرتے ہیں ۔۔۔ ’’مہنگا تھا تو نہ دیتا میں مانگنے گیا تھا‘‘ ۔۔۔ عقل والے ان خود پسند لوگوں کو کہاں ناراض ہونے دیتے ہیں ۔۔۔ ’’اچھا اچھا ناراض نہ ہونا سردی بہت ہے، کمبل اوڑھ کے رکھا کرو‘‘ ۔۔۔؟ ’’وہ کسی اور کو دے دیا تھا سردی مجھے نہیں لگتی، مجھے سرد گرم کا احساس کہاں؟ وہ کسی ٹھٹھرتے انسان پر ڈال دیا تھا میں نے‘‘ ۔۔۔؟!؟

’’واہ‘‘ یہ احساس کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں لوگ ، میں بیٹی کے ساتھ نہر کنارے مغلپورہ سے گزر رہا تھا ۔۔۔ چار اینٹیں رکھ کے سڑک سے کچھ جگہ علیحدہ کر رکھی تھی لوگوں نے ۔۔۔ ایک فٹ کے قریب جگہ پر خون پڑا تھا اور پاس ہی ایک چھوٹا سا سرخ رنگ کا بستہ پڑا تھا ۔۔۔ دو تین کتابیں بھی پاس ہی بکھری پڑی تھیں گاڑی، موٹر سائیکلیں رُک رُک کر دیکھ کر گزر رہی تھیں، کچھ لوگ کھڑے تھے، کچھ گزرتے ہوئے اُس خون کے دھبوں اور چھوٹے لال بستے اور بکھری دو چار کتابوں کے گرد رکھی چار پانچ اینٹوں کو دیکھتے ہوئے سرخ بھیگی آنکھوں کے ساتھ گزرتے چلے جا رہے تھے ۔۔۔ ’’پاپا ۔۔۔ یہ بچہ تو مر چکا ہو گا جس کا بستہ کتابیں اور خون سڑک پر پڑا ہے ۔۔۔ پاپا ۔۔۔ اس کی ماں ۔۔۔ بھی تو اُس کی چھوٹی سی لاش دیکھ کر مر گئی ہو گی ۔۔۔ ہے ناں پاپا‘‘ میں گھبرا گیا ۔۔۔ نہ وہاں لاش تھی نہ وہاں رونے والی یا بے ہوش ہوتی ماں تھی مگر ایک خوفناک منظر تھا میں رو دیا ۔۔۔ ’’پاپا مجھے تو رونا نہیں آ رہا‘‘ ۔۔۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔

’’بیٹی تم کیوں اداس ہو ۔۔۔ کیوں رو رہی ہو ۔۔۔ شاید وہ بچہ جس کی یہ کتابیں ہیں، جس کا یہ بستہ ہے، جس کا خون سڑک پر ان چار پانچ اینٹوں کے پاس پڑا ہے بچ گیا ہو‘‘ ۔۔۔ وہ با آواز رونے لگی ۔۔۔ اور روتے روتے بولی ’’نہیں پاپا ۔۔۔ کتابیں نہایت چھوٹے بچے کی ہیں، بستہ اُس کی عمر بتا رہا ہے اور خون ۔۔۔ اتنے چھوٹے بچے میں ۔۔۔ اس سے زیادہ تو نہیں ہوتا ہو گا‘‘ ۔۔۔

اس دوران ایک ٹریفک پولیس کا سارجنٹ اپنی بڑی موٹر سائیکل پر آیا ۔۔۔ ہجوم، اینٹیں، تھوڑا سا سڑک پر بکھرا خون، چھوٹا سا بستہ، چھوٹے بستے سے نکلی دو چار قاعدے کتابیں ۔۔۔ اُس ٹریفک پولیس کے سارجنٹ کی اس منظر پر نظر پڑی ۔۔۔ موٹر سائیکل ایک طرف اُس کا بھاری بھر کم جسم دوسری طرف لُڑھک گیا ۔۔۔ وہ بے ہوش تھا ۔۔۔

میں نے کک لگائی، بیٹی کی بھیگی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور آخری نظر اُس سڑک پر احساس کی دولت سے مالا مال لیٹے سارجنٹ پر ڈالی اور ہجوم سے باہر نکل آیا نہ بیٹی سکول گئی نہ ہی میں دفتر جا سکا ۔۔۔

حافظ شفیق الرحمن جیسے ماضی میں جھانک رہا ہو، اُس کی آنکھوں میں وہ منظر ہو جب ساغر صدیقی، دربار داتا صاحب، چوبرجی کے گندے نالے یا گوالمنڈی کے ارد گرد کمبل اوڑھے آہستہ آہستہ چل رہا ہو، کسی اپنی زبان زد عام ہونے والی غزل کا کوئی شعر گنگناتے ہوئے ۔۔۔

مظفر صاحب ۔۔۔ شیخ صاحب بھی عجب احساس والے انسان تھے، وہ اپنی گاڑی کی طرف جاتے ڈکی میں پڑا نیا کمبل نکالتے اور ساغر صدیقی کو اوڑھا دیتے ۔۔۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ ساغر صدیقی ایسے نئے مہنگے کمبل کسی نہ کسی دوسرے کو اوڑھاتا چلا جاتا اور لاہور کے انارکلی بازار کے شیخ صاحب ڈکی سے نکال نکال کر نئے کمبل سردی میں ٹھٹھرتے ساغر صدیقی کو اوڑھاتے چلے جاتے ۔۔۔ ہم سری دیوی کی موت پر تو گھنٹے گھنٹے کے پروگرام کر رہے ہیں ہمیں اپنے ساغر صدیقی، احسان دانش، علم و ادب سے وابستہ ایسے لوگ اکثر بھول جاتے ہیں ۔۔۔

دورانِ سفر ساغر صدیقی، نظیری نیشا پوری، ملتان کے جاوید ہاشمی کے تذکرے جاری رہے اور بیسیوں شعر اس کے علاوہ تھے جن میں زیادہ تر اشعار فارسی کے تھے حیرت کی بات ہے کہ میں بھی چھ گھنٹے کے سفر میں پہلی بار صرف دو چار منٹ بولا ایک اچھے ’’طالبعلم‘‘ کی طرح ورنہ ۔۔۔ میں چھ گھنٹے کے سفر میں ساڑھے پانچ گھنٹے ضرور بولتا ہوں چاہے کسی کو اچھا لگے یا بُرا ۔۔۔؟ اس وقت احساس کی دولت سے مالا مال لوگ ’’چپ‘‘ ہیں یا شاید ’’چپ سادھے‘‘ بیٹھے ہیں کیونکہ لوگوں کا احساس کرنے والا نواز شریف اس وقت گرفت میں ہے ۔۔۔ کیوں ہے؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ نہ کوئی استاد دامن ہے نہ ہی کوئی حبیب جالب یا ساغر صدیقی، ایسے شاعر ایسے شکیب جلالی اب کہاں سے آئیں گے؟ شیو کمار بٹالوی منوں مٹی تلے سو چکا ہے ۔۔۔ شاید اب شاعروں کو بھی شیخ صاحب کے دئیے کمبل کی ضرورت نہیں ۔۔۔ جو وہ کسی دوسرے فقیر کو اوڑھا دیتے ہوں ۔۔۔ اب ادب، شاعری سے وابستہ لوگوں کو بھی شاید بڑی گاڑی میں سفر کرنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔؟ جیب میں پانچ پانچ ہزار کے نوٹ اُن کی بھی ضرورت ہیں ۔۔۔

لیکن میں یہ نہیں مانتا ۔۔۔ کیونکہ احساس کی دولت سے مالا مال لوگ تو دور ویرانوں میں ہوتے ہیں، ہوتے ہوں گے؟ لیکن نہ تو ہم اب اُس ’’محبت‘‘ سے اُن کی تلاش میں نکلتے ہیں نہ ہی اُنہیں معاشرے میں ہونے والی بے انصافیوں کا احساس ہوتا ہے کیونکہ پہلے زمانے میں یہ سب ’’ٹیلی پیتھی‘‘ کے ذریعے ہوتا تھا ۔۔۔ جو اب Latest ماڈل موبائل فون یا 4G نیٹ ورک سے ہو پاتا ہے ۔۔۔ کیونکہ پہلے لوگ چار چار پانچ پانچ میل کندھوں پر اٹھا کر اپنے پیاروں کا جنازہ قبرستان چھوڑنے جاتے تھے اور اب کرائے کی بس میں جنازہ لے جایا جاتا ہے اور ارد گرد بیٹھے عزیز و اقارب ’’سٹاک مارکیٹ‘‘ میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہوتے ہیں یا اُن کا موضوع ’’عمران خاں کی پیرنی سے تیسری شادی اور بنی گالا میں رکھے خونخوار پالتو کتے‘‘ ؟ ہوتا ہے اور مرنے والے کا بیٹا نوٹ سیدھے کر رہا ہوتا ہے جو اُس نے گاڑی والے کو بطورِ کرایہ دینے ہوتے ہیں؟ ۔۔۔

اور بہت سے عورتیں مرد اس ’’آس‘‘ میں بیٹھے انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کب جنازے کے بعد زیادہ مرغی کا گوشت ملی بریانی آئے اور وہ سب دھواں نکلتی گرم گرم بریانی نوش فرمائیں! ۔۔۔؟ اور ہنسی خوشی واپس لوٹ جائیں ۔۔۔


ای پیپر