بیوروکریسی ۔۔۔گریڈ ہمارا پلاٹ تمہارا
28 فروری 2018 (20:21) 2018-02-28

میاں نواز شریف جب احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آتے ہیں جہاں ان پر 300ارب روپے کے غبن کے مختلف مقدمات زیرسماعت ہیں تو ان مقدمات اور ان کے انجام سے قطع نظر مجھے دو چیزیں حیرت کے سمندر میں غرق کردیتی ہیں۔پہلی تو یہ ہے کہ ان کی گاڑیوں کے کارواں پر گلابوں کی بارش اتنی موسلادھار ہوتی ہے کہ ان کی لینڈ کروزرکی ونڈسکرین کلیئر کرنے کے لیے ڈرائیور کو گاڑی کے وائیپرچلانے پڑتے ہیں اور ان کی گاڑی پھولوں سے دھکی ہوئی سڑک پر عدالت کے سامنے رکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ گاڑی کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے بڑے بڑے بیوروکریٹ سوٹ اور ٹائی پہنے کسی ریس کے گھوڑے کی طرح نہایت برق رفتاری سے بھاگ رہے ہوتے ہیں اور ہرایک کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح میاں نواز شریف کی ایک نظران پر پڑ جائے تو ان کی دنیا بدل جائے۔ ایک سیاستدان کے ساتھ ریاست کے ایک افسر کی جاں نثار کردینے والی وفاداری اور حدسے بڑھی ہوئی خوشامد کے پیچھے کیا محرک ہے یہ سب کو پتا ہے۔ حکمران بیوروکریٹس کو زمین سے اٹھاکر ساتویں آسمان تک پہنچانے میں خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ ایسی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ 18ویں گریڈ کے افسر کو تمام قواعدوضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور طریق کار کو پاؤں تلے روند کر 20ویں گریڈ میں پوسٹ پر تعینات کردیا جاتا ہے۔ اس کی ویسے تو بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں سے ایک احد چیمہ ہے جو آج کل قومی پریس کی زینت بنا ہوا ہے۔ اس پر 14ارب روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں نہ صرف 17سال کی ملازمت کے دوران ان کی پاکستان کے اندر اور باہر وسیع جائیدادیں ہو بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وہ شہباز شریف کے فرنٹ مین کی حیثیت سے لاہور کے تمام بڑے بڑے پراجیکٹس کے کرتا دھرتا رہے ہیں اور ان کا شمار شہباز شریف کے کلیدی بااعتماد وفادار افسروں میں ہوتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب کی تفتیش کے بعد وہ شہباز شریف کا حقِ نمک ادا کرتے ہوئے سارا کچھ اپنے سرلے کر خادم اعلیٰ کی بریت کا باعث بنیں گے، اس کا امکان بہت کم ہے کیونکہ بیوروکریٹ ہونے کے ناتے ان کی تربیت اور روایات یہی ہیں کہ سیاسی قیادت کو قبلہ وکعبہ ضرور سمجھو مگر جب بات آپ کی ذات پر آجائے تووعدہ معاف گواہ بننے میں ایک لحظے کی تاخیر نہ کرو۔ آخر ہماری بیوروکریسی اخلاقی پستی کی اس حدکو کیوں چھورہی ہے۔ مجھے ٹاپ لیول بیوروکریسی کے ریٹائرڈ لوگ بتاتے ہیں کہ مجازاتھارٹی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہماری بیوروکریسی کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو معلوم نہیں کیاکچھ کر گزرتے ہیں۔

پاکستان میں کرپشن بدعنوانی ناقص طرز حکمرانی ، رول آف لاء یا عوامی امنگوں کے قدجیسے جتنے سنگین الزامات ہیں۔ ان کا نشانہ عمومی طورپر سیاستدانوں اور فوج کو بنایا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں طبقے اقتدار میں براہ راست شریک ہوتے ہیں تیسرے نمبر پر تنقید کا رخ عدلیہ کی طرف ہوتا ہے جو عام آدمی کو انصاف کی فراہمی سے آج بھی قاصر ہے لیکن ہماری بیوروکریسی جو اپنی نوکری بچانے کی خاطر اور اپنی ترقیوں اور من پسند پوسٹنگ اور مال بنانے کی خاطر سب سے زیادہ کرپشن کی مرتکب ہوتی ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ فوج اگر غلط کرتی ہے تو اس پر عالمی دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے۔ جب سیاستدان بدعنوانی کرتے ہیں تو وہ اندر سے خوف میں جیتے ہیں کہ اگلے انتخاب میں لوگ انہیں مسترد کردیں گے بیوروکریسی ایسا طبقہ ہے جس پر کسی طرح کا کوئی چیک موجود نہیں ہے۔ یہ سیاہ وسفید کے مالک ہیں۔ ان کی سب سے بڑی سزا یہ ہوتی ہے کہ انہیں اوایس ڈی بنادیا جاتا ہے جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ آپ گھر بیٹھے تنخواہ اور مراعات لیتے رہیں۔ آپ کو کوئی کام اس لیے نہیں دیا جارہا کہ کہیں آپ پھر سے بے ایمانی نہ کریں۔ یہ گویا ایک سزا ہے۔ اس کے بعد اگر نیب میں یہ پکڑے بھی جائیں تو انہی کا اپنا بنایا ہوا پلی بارگین کا قانون انہیں پیشکش کرتا ہے کہ اگر ایک کروڑ کی بدعنوانی ہے تو 10لاکھ واپس کردیں باقی کی قسطیں مقرر کردیں۔ اور جیل سے رہا ہوکر گھر چلے جائیں۔ ان کا لائف سٹائل دیکھیں ایک ایک افسر کے آگے ملازموں کی فوج ہے جس میں ڈرائیور ، چوکیدار، خانساماں ، مالی اور پتا نہیں کیا کیا کچھ فوج ہوتی ہے جو تنخواہ حکومت سے لیتے ہیں اور افسروں کے ذاتی کام کرتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ساری بیوروکریسی کرپٹ ہے۔ ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ پانچوں انگلیاں برابر ہوں لہٰذا اگر کوئی بیوروکریٹ پانچ مرلے کے گھر میں رہتا ہوا پایا جائے تو وہ مستثنیٰ ہے۔ سرکاری پلاٹ ان کو مفت مل جاتے ہیں۔ ہم نے تو یہاں تک بھی سنا ہے

کہ 21ویں سے 22ویں گریڈ میں ترقی کے موقع پر مروجہ Entitlementکے علاوہ اسلام آباد میں ایک کنال کا پلاٹ ملتا ہے۔ ماضی میں یہ بھی ہوتا رہا کہ سیاسی قیادت ان افسروں کے پاس اپنا بندہ بھیجتی تھی کہ پروموشن لینی ہے تو گریڈ تمہارا پلاٹ ہمارا کے اصول کے تحت ہمارے ساتھ ڈیل کرلیں، جو پلاٹ ملے گا وہ ہمیں دے دیں۔ اس میں بیوروکریسی کے لیے پلاٹ سے دست برداری کوئی مہنگا سودا نہیں تھا کیونکہ یہ خسارہ تو وہ ایک مہینے میں ہی پورا کرلیتے تھے۔

’’میں نے پی ایم ایس کے جونیئر ترین افسروں کو دوران تربیت رشوت اور کرپشن کی منصوبہ بندی کرتے دیکھا ہے‘‘ یہ بات میں نہیں کہہ رہا بلکہ یہ سابق آئی جی موٹروے ذوالفقار چیمہ کے الفاظ ہیں جن کا شمار ایماندار افسروں میں ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں تھانے اور پٹوار خانے کیوں ٹھیکے پر چلتے ہیں، کرپشن کا ایک مکروہ نظام ہے جس کے پیچھے ہماری بیوروکریسی بیٹھی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ پٹواری اور ایس ایچ او جو پیسے لیتے ہیں اس میں سیاستدانوں کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ محکمے کا ایک نادیدہ نظام ہے جس میں حرام کا یہ مال نیچے سے اوپرتک جاتا ہے۔

کہتے ہیں کووں کا اتفاق مشہور ہے کہ ایک کوے کو کچھ ہوجائے تو کائیں کائیں کرکے وہ سارے شہر کے کوے جمع کرلیتا ہے لیکن احد چیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریسی جس طرح اس کی حمایت میں اٹھی ہے ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک دفعہ ہم نے سندھ میں ڈاکوؤں کے احتجاج کی خبر سنی تھی کہ پولیس ہمیں ناجائز تنگ کرتی ہے اور ہماری آمدنی سے نصف سے زیادہ حصے پر مجبورکرتی ہے لیکن لاہور کی بیوروکریسی کا احتجاج تو ان سے بھی آگے ہے۔ خاص طورپر ڈی ایم جی گروپ نے تو ایک ٹریڈ یونین یا Drug cartetکی شکل اختیار کرلی ہے تاکہ کوئی انہیں ہاتھ لگانے کی جرأت نہ کرسکے۔

ان کی کوششیں بار آور ثابت ہوئی ہیں۔احد چیمہ کو عدالت لاتے ہوئے اس کی فوٹیج آپ نے دیکھی ہوگی۔ انہیں بغیر ہتھکڑی لگائے پیش کیا گیا۔ اگر زیرحراست سابق وزیراعظم کو ہتھکڑی لگائی جاسکتی ہے تو ایک افسر کو کیوں نہیں۔ ان کے کپڑے اور گیٹ اپ بالکل وی آئی پی تھا۔ ان کے چہرے پر اعتماد تھا۔ کسی طرح سے وہ پریشان نہیں لگ رہے تھے کیونکہ ان کے ساتھی پولیس افسران ان کے ساتھ وہی سلوک اور خندہ پیشانی دکھارہے تھے جوپنجاب میں گھر آئے داماد کے ساتھ کی جاتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اب انہیں عدالت لانے اور لے جانے کی ذمہ داری رینجرز کو دی جارہی ہے۔


ای پیپر