احد چیمہ کی گرفتاری اور افسر شاہی کا ردعمل
28 فروری 2018 (20:20) 2018-02-28

کسی بھی معمولی مسئلے اور معاملے کو غیر معمولی مسئلے اور معاملے میں تبدیل کرنے کی جو صلاحیت بحیثیت قوم ہم میں پائی جاتی ہے اس کا مقابلہ شاید ہی کوئی دوسرا کر سکے۔ اب احد چیمہ کی گرفتاری کے معاملے کو ہی دیکھ لیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید ملک میں پہلی بار کوئی بڑا افسر گرفتار ہوا ہے۔ کسی سرکاری ادارے نے گرفتاری کے وقت کسی معزز شہری کے ساتھ برا سلوک اور برتاؤ کیا ہے۔ اس ملک میں ہر روز پولیس اور ایف آئی اے ہزاروں لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں۔ کسی بھی غریب شخص کی زندگی اجیرن کرنے کے لئے تھانے میں محض ایک جھوٹی درخواست اور چند ہزارروپے کے نذرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ملک میں پولیس روزانہ چھاپوں اور گرفتاریوں کے نام پر گھروں میں گھس کر خواتین اور بزرگوں کی تذلیل کرتی ہے۔ سوال پوچھنے پر تھپڑوں اور گالیوں کی بارش ہو جاتی ہے۔ غریبوں ، مجبوروں اور بے بسوں کے ساتھ جو سلوک ملک میں رائج نظام اور ریاستی ڈھانچہ کرتا ہے اس پر نہ تو کوئی بڑا افسر احتجاج کرتا ہے اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ اس کا نوٹس لے کر اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے۔


مگر جیسے ہی یہ سلوک کسی بڑے افسر ، سیاستدان اور اشرافیہ کے کسی فرد کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس پر طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے واقعات اس سوچ اور تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ اس ملک کا ہر طاقتور فرد اور ادارہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔ طاقتور افراد ، گروہ اور ادارے جو ہر وقت آئین ، قانون اور ضابطوں کے حوالے دیتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کرنے کا درس دیتے ہیں مگر وہ خود کو ان سب سے بالاتر اورمبرا سمجھتے ہیں۔


اب احد چیمہ کی گرفتاری کے خلاف بطور احتجاج دفاتر کو تالے لگانے والے بڑے گریڈوں کے بڑے افسروں کے پاس اس طرز عمل اور رویے کا کیا جواز ہے۔ اگر ان کی اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ احد چیمہ کی گرفتاری کے وقت ان کی تضحیک کی گئی۔ ان کے سلاخوں کے پیچھے کھڑا کر کے جو تصویر بنائی گئی اور پھر میڈیا کو جاری کی گئی وہ درست عمل اور اقدام نہیں تھا۔ احد چیمہ کے خلاف نیب کے ایماء پر میڈیا میں کردار کشی کی مہم چلائی گئی۔ اگر ان سب باتوں کو درست بھی مان لیا جائے تو کیا افسر شاہی کو یہ اختیار ہے کہ وہ سرکاری دفاتر کو تالے لگوا دے۔ سرکاری فرائض کی انجام دہی سے انکار کر دے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی بھی تھانیدار کی گرفتاری کے خلاف لاہور کے تمام یا زیادہ تر تھانوں میں تالے لگا دیئے جائیں۔ پنجاب کے سیاسی حکمران اور افسر شاہی اچھی طرح سے جانتی ہے کہ جب ڈاکٹرز اور دوسرے سرکاری ملازمین ہڑتال کرتے ہیں یا سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں تو یہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ ان کی گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ وہ معطل ہوتے ہیں اور ان کو برطرف بھی کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے جاتا ہے کہ قانون اور ضابطے ڈاکٹروں کو ہڑتال یا احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ کیا قانون اور ضابطے اعلیٰ افسران کو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں کہ وہ دوسروں پر تو اطلاق کریں مگر خود کو ان سے مبرا اور بالا سمجھیں۔ یہ مان لیا کہ احد چیمہ کیگرفتاری درست نہیں تھی۔ نیب کا طریقہ کار اور رویہ درست نہیں تھا مگر کیا یہ سب کچھ ڈی ایم جی گروپ کے مخصوص افسران کو ایسا طرز عمل اختیار کرنے کا حق دیتا ہے۔


اگر ایسا ہی طرز عمل اور ردعمل بلوچستان یا سندھ کے افسران کی طرف سے سامنے آیا ہوتا اور وہاں کی صوبائی حکومت ان کی حمایت کر رہی ہوتی تو پنجاب کے حکمران ان کی حمایت کرتے یا ان پر قانون کی خلاف ورزی اور وفاقی اداروں کے خلاف بے بنیاد مہم چلانے کا الزام عائد کرتے۔ دوغلا پن اور منافقت اب ہمارے ہاں کے کلچر کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہماری سیاسی محاذ آرائی اور گروہی لڑائی اب اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ریاستی ادارے بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ یہی صورت حال میڈیا اور دانشوروں کی ہے ۔ ہم پوری طرح منقسم ہو چکے ہیں۔ اپنی اناؤں اور مفادات کی باہمی کشمکش میں ہم اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ آئین ، قانون اور ضابطے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ہم آپسی لڑائیوں اور گروہی مفادات کی اس جنگ میں اس قدر مگن ہیں کہ ہمیں یہ احساس بھی نہیں رہا کہ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے ۔ پاکستان کو کس قسم کے سنگین اور سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ہمارے بالادست طبقات اور اشرافیہ کو اس وقت تک یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہمارا نظام عام آدمی کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ پاکستان کے عام شہری اور محکوم و مظلوم طبقات سے تعلق رکھنے والے غریب عوام کس طرح روزانہ سرکاری اداروں اور اہلکاروں کے ہاتھوں اپنی تذلیل کرواتے ہیں مگر جیسے ہی اشرافیہ اور بالادست طبقات سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے ایسا سلوک ہو جائے تو پھر طوفان بدتمیزی کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ بڑا ظلم ہو گیا ہے۔ عام آدمی سے تہذیب اور شائستگی کا سلوک کرنے والے ادارے اور اہلکار اچانک بدتہذیب اور غیر شائستہ ہو گئے ہیں۔ نیب نے احد چیمہ کو گرفتار کر لیا تو یہ ایک اعلیٰ افسرکاری افسر کی تضحیک ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تو انہیں احساس ہوا کہ پاکستان میں انصاف بہت مہنگا ہے حالانکہ وہ تین دہائیوں سے اس نظام کا حصہ ہیں مگر وہ اتنے لاعلم اور معصوم تھے کہ انہیں اندازہ نہیں ہوا کہ پاکستان کے عام لوگ انصاف کے حصول کے لئے نظام عدم کے ہاتھوں کتنی اذیتیں، مشکلات اور تذلیل اٹھاتے ہیں۔


کیا ہمارے افسران بالا اور طبقہ اشرافیہ نہیں جانتے کہ نیب کے قواتین کس قسم کے ہیں ۔ یہ چیئرمین نیب کو کتنے اختیارات دیتے ہیں۔ نیب قوانین میں کتنی خامیاں اور کمزوریاں ہیں۔ نیب کا قانون اور طریقہ کار خامیوں سے پاک نہیں ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ نیب کے قوانین تبدیل کیوں نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے یکساں اور سب کے احتساب کے لئے آزاد اور طاقتور ادارہ کیوں نہ بنایا۔ نیب جب تک سیاسی مفادات اور بالادست قوتوں کے مفادات کے لئے استعمال ہوتا رہے گا اس وقت تک احتساب کا پورا عمل متنازع رہے گا۔ منتخب احتساب سپریم کورٹ کرے یا نیب اسے انتقامی کارروائی قرار دینا بہت آسان ہے۔ جب تک قانون ، آئین اور احتساب یکساں طور پر سب پر لاگو نہیں ہوتا اس وقت تک اس سارے عمل پر انگلیاں اور شکوک و شبہات اٹھتے رہیں گے۔ جب تک چند طاقتور اور غالب ادارے اپنے لئے استثنیٰ مانگتے رہیں گے اور خود کو آئین اور قانون سے بالااور مبرا سمجھتے رہیں گے اس وقت تک دوسروں کے لئے اس قسم کے رویے کی حوصلہ افزائی جاری رہے گی۔ ایسے رویے سماج اور اداروں میں پروان چڑھتے رہیں گے۔ فوج ، خفیہ اداروں، سیاستدانوں، افسر شاہی ، صنعت کاروں ، کاروباری افسراد اور تاجروں کے احتساب کا یکساں قانون اور طریقہ کار طے ہونا چاہئے۔ آزاد خود مختار اور طاقتور احتساب کا ادارہ وقت کی ضرورت ہے ورنہ بدعنوانی کا خاتمہ اور احتساب محض ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال ہوتا رہے گا۔ بتدریج خود کو قانون ، آئین اور ضابطوں سے بالاتر اورمبرا سمجھنے والے اداروں اور طاقتور گروہوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا ۔ موجودہ نظام میں احتساب انتقامی کارروائی ہی قرار دی جاتی رہے گی۔ اپنے ساتھی کی گرفتاری پر افسر شاہی کا ایسا ہی ردعمل سامنے آگے گا جو کہ یقیناًافسوسناک ہے مگر اس سے بھی افسوسناک اس فرسودہ نظام ، قوانین اور طریقہ کار کا موجود رہنا ہے۔ سول افسر شاہی مستقل حکمران ہوتے ہیں۔ صدر ، وزیر اعظم اور وزراء بدلتے رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر افسر شاہی اپنی جگہ پر موجود رہتی ہے۔


ای پیپر