کشمیر اور بھارت
28 فروری 2018 (20:17)


افتخار گیلانی بھارت کے جانے پہچانے صحافی ہیں۔۔۔ کشمیری النسل اور تحریک آزادی کشمیرکے قائد سید علی گیلانی کے بھتیجے اور داماد ہیں کشمیری عوام کے حق خود ارادی کا کھلم کھلا حامی ہونے کے باوجود انہوں نے بھارت کے صحافتی حلقوں میں اپنا مقام بنایا ہے۔۔۔ وہاں کے چوٹی کے سیاست دانوں اور ممتاز شخصیتوں کے اندر مستند اور ساکھ کے حامل صحافی کی پہچان رکھتے ہیں۔۔۔ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر ریاست کے اندر جاری جدوجہد آزادی کے ہر ہر پہلو پر خصوصی اور براہ راست نگاہ رکھنے کی وجہ سے انہیں بھارت کے اندر اور باہر بھی اس موضوع پر منعقد ہونے والے سیمینارز اور مختلف مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔۔۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں روانی کے ساتھ لکھتے ہیں۔۔۔ بھارت کے علاوہ پاکستان کے اخبارات میں بھی بھارتی سیاست اور کشمیر کی تازہ ترین حالات پر ان کے کالم اور تجزیے چھپتے رہتے ہیں ۔۔۔ افتخار گیلانی ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں گزشتہ شب ایڈیٹر اور کالم نگار ارشاد احمد عارف نے ان کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔۔۔ جس کے دوران ان کے ساتھ مقبوضہ وادی کی تازہ ترین صورت حال اور بھارت کی سیاست کے اتار چڑ ھاؤ پر کھل کر بات چیت ہوئی۔۔۔ عشائیے کی نشست کے شرکاء میں جناب مجیب الرحمن شامی، سجاد میر ،ہارون الرشید ، سلیم منصور خالد، عامر خاکوانی ، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ ، اشرف شریف اور راقم شامل تھے۔۔۔افتخار گیلانی عمر کے لحاظ سے چالیس پینتالیس کے پیٹے میں ہیں۔۔۔ دوران گفتگو ان کے چہرے کی سرخی اور آنکھوں کی چمک سے نمودار ہونے والی لہریں پیغام دے رہی تھیں کہ اس کشمیری دانشور اور باخبر صحافتی کو پورا یقین ہے اس کے ہم وطنوں کی مثالی جدوجہد اور بھارت کے پنجہ استبدار سے نجات حاصل کرنے کی خاطر لاتعداد قربانیاں جلد ثمر بار ثابت ہوں گی۔۔۔ آنے والے دور میں آزادی کا پکا ہوا پھل فطری عمل کے طور پر ان کی جھولی میں آن گرے گا۔۔۔ دھیمے انداز اور بااعتماد لہجے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے افتخار گیلانی نے نکتے کی بات یہ کہی جب 1989 کے لگ بھگ ان کی نسل کے افراد نے آزادی کشمیر کی پر زور لہر کو سر اٹھاتے دیکھا تو وہاں کے لوگوں میں بھارت مخالف جذبات کی فراوانی تھی وہ Anti India تھے ہمارے بعد پروان چڑھانے والی نسل محض مخالف نہیں بلکہ بھارت سے نفرت کرتی ہے ان کے ماتھوں پر زبان حال میں لکھا ہوا Hate India کا پیغام با آسانی پڑھا جا سکتا ہے۔۔۔ دوسرا نکتہ انہوں نے یہ اجاگر کیا کہ تحریک آزادی کی شدت محض وادی کے شہروں یا مخصوص مقامات پر نہیں پائی جاتی دور دراز کے قصبات اور دیہاتوں تک اسی جوش اور جذبے کے ساتھ سرائت کر چکی ہے۔۔۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا کچھ عرصہ قبل وہ بھارت کے ایک بڑے صحافی کو لے کر وادی کے اندر ایسی آبادی میں گئے جہاں کے لوگوں نے پہلے کبھی کسی اخبار نویس کو دیکھا تک نہیں تھابھارت کا صف اول کا صحافی ان سے مل کر اپنی حیرانی نہ چھپا سکا کہ آزادی کی لہر کشمیر کے لوگوں میں اس قدر نچلی سطح پر بھی موجزن ہے ۔۔۔ اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کی تحریک آزادی کی حقیقی اور نچلی تہہ تک کی خبریں بہت کم دنیا کے سامنے آتی ہیں۔۔۔ ان کے الفاظ میں Kashmir Struggle is the least reported phenomenon in the world جبکہ فلسطینی بھائیوں کو یہ فائدہ حاصل ہے وہاں کی سرزمین کے کونے کھدرے میں ہونے والا واقعہ بھی دنیا بھر کے میڈیا میں جگہ پا لیتا ہے۔


مقبوضہ کشمیر اور بھارت سے آئے ہوئے صحافی نے اہم بات یہ بھی بتائی کہ وادی کے عوام کی تمام تر جدوجہد جوہری اور حقیقی صورت کے لحاظ سے سیاسی ہے وہ پر امن طریقے سے مگر پوری عوامی قوت کے ساتھ اپنے لیے حق خود ارادی کے حصول کے لیے برسر پیکار ہیں۔۔۔ عسکریت کا عنصر بہت کم درجے کا ہے اگرچہ اس کی خبریں زیادہ چھپتی ہیں اور بھارت انہیں پھیلا کر اپنے حق میں اور پاکستان کے خلاف بہت پراپیگنڈا بہت کرتا ہے۔۔۔ برہان الدین وانی شہید بھی حصول آزادی کا سیاسی کارکن تھا۔۔۔ اسے پراپیگنڈے کی خاطر دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا۔۔۔ ان دنوں عسکریت پسندی کے واقعات میں قابل لحاظ کمی آئی ہے۔۔۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں سرحد کے اس پار زیادہ فعال نہیں رہیں۔۔۔ اس سلسلے میں پاکستان پر جو عالمی دباؤ ہے اس کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کو جلد اس دباؤ سے نکل آنا چاہیے۔۔۔ کیونکہ کشمیریوں کی جدوجہد داخلی طور پر اتنی مستحکم اور اپنے عوام کے اندر اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ وہ عسکریت پسند عناصر کے بغیر بھی اپنے آپ کو زندہ و تابندہ رکھنے میں کامیابی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔۔۔ اگرچہ کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جو بھارتی سکیورٹی اداروں کے لیے پریشانی کا باعث بنے مودی حکومت ان کی آڑ لے کر لائن آف کنٹرول پر ایک مرتبہ پھر Surgical Strike کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہے۔۔۔ ان سے سوال کیا گیا ستمبر 2016ء میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے جس واقعے کو بھارتی فوج اور حکومت نے سرجیکل سٹرائیک کا نام دیا تھا۔۔۔ وہ فی الواقعہ اس کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔۔۔ ایک سرحدی جھڑپ تھی۔۔۔ بھارتی میڈیا میں بھی اس کی نوعیت کے بارے میں سوال اٹھائے گئے۔۔۔ مگر گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے سیاسی طور پر اس کا خوب فائدہ اٹھایا۔۔۔ یوپی کی انتخابی مہم کے دوران اسے اپنے حق میں بہت اچھالا۔۔۔ اب بھی وہاں کی اعلیٰ حکومتی سطح پر سوچ پائی جاتی ہے کہ بھرپور سرجیکل سٹرائیک کر کے بھارتی جنتا کے اندر زیادہ پذیرائی حاصل کی جا سکتی ہے۔۔۔ راقم کا خیال ہے پاکستان کے حکومتی اور دفاعی پالیسی ساز بھارت کے ان عزائم سے بے خبر نہیں ہیں۔۔۔ اگر اس کی جانب سے ایسی کوئی مہم جوئی ہوتی ہے تو پاکستان کی فوج بھی بھرپور جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔ ایک سوال تھا کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے حق میں اس کی اصولی ، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر جو اپیل پائی جاتی ہے، کیا بھارت کے انسان دوست حلقوں کے اندر بھی اس کے اثرات پائے جاتے ہیں۔۔۔ خاص طور پر گزشتہ برس کے آغاز پر وہاں کی عالمی شہرت یافتہ جواہر لال یونیورسٹی (جینو) میں جو واقعات ہوئے۔۔۔ سٹوڈنٹ یونین کے پلیٹ فارم پر ہندو طلباء نے کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور جلد یہ لہر حیدر آباد اور دوسرے شہروں کی یونیورسٹیوں تک پھیل گئی۔۔۔ اس کا جواب دیتے ہوئے افتخار گیلانی نے کہا ان ہندو طلباء کا زیادہ تر تعلق بائیں بازو یا لبرل عناصر سے تھا۔۔۔ جن کے آج بھارت کے اندر اثرورسوخ میں بہت کمی آچکی ہے۔۔۔ مودی اور بی جے پی کے ہندو نیشنلزم نے وہاں کے قومی و سلامتی منظر پر اتنا غلبہ حاصل کر لیا ہے کہ بائیں بازو کے بچے کھچے عناصر کے ایسے خیالات کو باغیانہ قرار دے کر مسترد کر دینا آسان ہو گیا ہے۔۔۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جینو جیسی بھارت کی چوٹی کی یونیورسٹی کے غیر مسلم طلباء کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں آواز کی گونج عالمی سطح پر بھی سنائی دی گئی اور دنیا کے سامنے اس کا انسانی چہرہ نمایاں ہوا۔۔۔ تحریک آزادئ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں براہ راست مشاہدہ پیش کرتے ہوئے افتخار گیلانی نے اس پختہ رائے کا اظہار کیا کہ Independent Kashmir کے حامی تقریباً بے اثر ہو چکے ۔۔۔ وادی کے عوام پاکستان کے ساتھ بے پناہ محبت بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ الحاق کو واحد حل گردانتے ہیں۔۔۔ اگرچہ انہوں نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’آزاد‘‘ کشمیر کے حق میں باتیں اب صرف پاکستانی علاقے میں سننے کو ملتی ہیں وادی کے اندر کوئی ان پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔۔۔


بھارت کی داخلی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے نئی دہلی میں مقیم کشمیر ی صحافی نے بتایا اگرچہ نریندر مودی کی مقبولیت میں نوٹ بندی اور دیگر وجوہ کی بنا پر قدرے کمی واقعے ہوئی لیکن اب بھی ان کا گراف 65 فیصد کے قریب ہے۔۔۔ 2014ء کے عام انتخابات اور بعد میں یوپی کے ریاستی چناؤ میں کانگریس بہت پیچھے چلی گئی تھی۔۔۔ لیکن اب ریاست گجرات کے انتخابات میں اس نے انگڑائی لی ہے۔۔۔ 2019ء کے قومی انتخابات میں بھرپور طریقے سے مقابلے کی تیاری کر رہی ہے۔۔۔ مسلمانوں کا ووٹ بینک پہلے کی مانند مؤثر نہین رہا۔۔۔ موجودہ لوک سبھا کے اندر ماضی کے مقابلے میں انہیں سب سے کم نشستیں ملی ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جن حلقوں میں مسلمان ووٹروں کی تعداد زیادہ ہے وہاں مختلف پارٹیوں کا ٹکٹ حاصل کر کے مسلمان ہی ایک دوسرے کے مقابلے میں آن کھڑے ہوتے ہین۔۔۔ غیر مسلم امیدوار اس تفریق کا فائدہ اٹھا لیتا ہے۔۔۔ دلتوں (سب سے نیچی ذات) کی آبادی آج بھی ساٹھ فیصدسے کم نہیں۔۔۔ اگر ان کے اور مسلمانوں کے درمیان انتخابی اتحاد وجود میں آجائے تو وہاں کی سیاست میں اونچی ذات کے ہندوؤں کی اجارہ داری پر ضرب لگائی جا سکتی ہے۔۔۔ اس نکتے پر گیلانی صاحب کی توجہ اس جانب دلائی گئی اور انہوں نے اتفاق بھی کیا دلتوں اور مسلمانوں کے اتحاد کے بارے میں سوچ بچار تو پچھلے بیس سالوں سے جاری ہے لیکن عمل کی دنیا میں کچھ نہیں ہوتا دلت آخر کار بی جے پی یا کانگریس کے ساتھ اتحاد کر لیتے ہیں گیلانی صاحب کی رائے تھی کہ پھولن دیوی اور کاشی رام جیسی پرانی قیادت کی جگہ دلتوں کی جو نئی لیڈر شپ ابھری ہے اس سے بہتر توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔۔۔ ان کا کہنا تھا آج کے بھارت کے نظریاتی افق پر مودی اور بی جے پی کے ہندو قوم پرستی کے تصورات اتنے چھائے ہوئے ہیں کہ کانگریس بھی ماضی کے برعکس اپنے آپ سیکولر کی بجائے ہندو جماعت کے طو رپر پیش کرتی ہے۔۔۔ ان حالات میں بائیں بازو کی جماعتوں اور ان کے نظریات کو بہت پیچھے دھکیل دیا گیا ہے اور شمالی بھارت کے اندر جسے آج بھی ملکی سیاسیات کے اندر فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے نریندر مودی کی تمام تر سیاست کا دارو مدار گائے کی پرستش، مسلمانوں کے ساتھ نفرت اور پاکستان دشمنی کے جذبات اور نعروں کے گرد گھومتی ہے ۔۔۔ بھارت میں اردو زبان کے بارے میں ان کا کہنا تھا زبوں حالی کی شکار ہے۔۔۔ مسلمانوں کے بچے بھی بہتر نوکریوں کے حصول کے لیے ہندی اور انگریزی سیکھنے اور اردو کو نظر انداز کر کے ان زبانوں میں لکھنے پڑھنے یہاں تک بولنے پر مجبور ہیں تاہم اثنائے گفتگو یہ بات سامنے آئی کہ وطن مولود میں تمام تر غربت کے باوجود اردو اتنی سخت جان ثابت ہوئی ہے کہ وہاں مشاعرے جیسی روایت اسی زبان کی بدولت زندہ ہے۔۔۔ ہندی مشاعرے عوامی یا ادبی حلقوں میں جگہ نہیں پا سکے۔۔۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو، شاعری اور نثر کا کلاسیکل لٹریچر محفوظ کر لیا گیا ہے۔۔۔ اقبال ابو الکلام کے مقابلے میں زیادہ پڑھاجاتا ہے (اگرچہ دونوں کی زبان اردو ہے)۔۔۔ اقبال کے حوالے سے افتخار گیلانی نے بجا طور پر توجہ دلائی بھارت نے بڑی چابکدستی کے ساتھ اپنے قومی شاعر رابندر ناٹھ ٹیگور کے نام کو قومی تہذیبی علامت کے طور پر دنیا بھر میں مقبول کیا ہے پاکستان کے پاس بھی اقبال کی صورت میں بڑا ادبی اور تہذیبی اثاثہ موجود ہے جس کی مار وسطی ایشیا اور ایران سے لے کر پورے برصغیر تک ہے اسے عالمی سطح پر پاکستان کے روشن ترین ادبی ستارے کے طور پر متعارف کرایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔۔


ای پیپر