صحت کو بہتر بنانے کے صرف پانچ سنہری اُصول
28 فروری 2018 (19:35) 2018-02-28

جان ہے تو جہان ہے ۔جی ہاں ہم میں سے کون چاہتا ہے جو بیمار ہو ۔ بیماری تو نہ صرف اِنسان کا جینا دوبھر کرتی ہے بلکہ یہ جیبیں بھی خالی کر دیتی ہے۔اس کی وجہ سے آپ کی طبیعت بیزار رہتی ہے، آپ کام پر یا سکول نہیں جا سکتے، کمائی نہیں کر سکتے اور اپنے گھر والوں کی دیکھ بھال بھی نہیں کر سکتے۔دوسروں کو آپ کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو علاج اور دوائیوں پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑے۔

اگر زندگی گزارتے صحت کے چند اُصولوں پر پابندی کر لی جائے تو ہم ضرور اپنا اور اپنی جیب کا خیال رکھ سکتے ہیں ۔صحت مند رہنے کیلئے صرف چند احتیاطی تدابیر کو اگر اپنا لیا جائے تو ہم اپنی زندگی ہنسی خوشی صحت مند گزا ر سکتے ہیں۔

ہاتھ اچھی طرح دھوئیں
جسم اور دانتوں کی صفائی کے لیے چیزیںبہت سے صحت کے اداروں کے مطابق ہاتھ دھونا بیماریوں اور اِن کے پھیلاﺅ سے بچنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔عام طور پر لوگوں کو نزلہ، زکام اور فلو اس لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ گندے ہاتھوں سے اپنی ناک یا آنکھوں کو ملتے ہیں۔ان بیماریوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ دن میں اکثر ہاتھ دھوئیں۔ آپ زیادہ سنگین بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں جیسے کہ نمونیا اور دست وغیرہ۔ ایسی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال 20 لاکھ سے زیادہ بچے موت کا شکار ہوتے ہیں جن کی عمر پانچ سال سے کم ہوتی ہے۔

صاف پانی استعمال کریں

بعض ملکوں میں لوگوں کو صاف پانی حاصل کرنے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن جن ملکوں میں صاف پانی عام دستیاب ہے وہاں پر بھی سیلاب، آندھی طوفان، پانی کا پائپ پھٹنے یا پھر کسی اَور مسئلے کی وجہ سے صاف پانی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر وہ جگہ صاف نہیں جہاں سے پانی آ رہا ہے یا پھر پانی کو صحیح طرح ذخیرہ نہیں کِیا جاتا تو ایسا پانی پینے سے آپ کے اندر خطرناک جراثیم داخل ہو سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ کو ہیضے،ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس یا دست کی جان لیوا بیماری ہو سکتی ہے۔ ہر سال تقریباً 1 ارب 70 کروڑ لوگ دست کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔اِس کی ایک وجہ پینے کا آلودہ پانی ہے۔

کھانے میں احتیاط برتیں
اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ آپ متوازن اور غذائیت بخش خوراک کھائیں۔ اِس بات کا خیال رکھیں کہ آپ بہت زیادہ نمک، چکنائی اور چینی اِستعمال نہ کریں اور ایک ہی وقت میں حد سے زیادہ کھانا نہ کھائیں۔اپنی خوراک میں پھل اور سبزیاں ضرور شامل کریں اور کوشش کریں کہ آپ ہر روز ایک ہی طرح کی غذا نہ کھائیں۔ لال آٹے کی روٹی سفید آٹے کی روٹی سے زیادہ ریشےدار ہوتی ہے۔ اِسی طرح لال آٹے کی ڈبل روٹی، دلیہ اور پاستا، میدے سے بنی ہوئی چیزوں کی نسبت زیادہ ریشےدار اور غذائیت بخش ہوتے ہیں۔ اِس لیے اِنہیں خریدتے وقت اِن پر لکھی معلومات کو غور سے پڑھیں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ یہ لال آٹے سے بنی ہیں یا میدے سے۔ پروٹین حاصل کرنے کے لیے ایسا گوشت کھائیں جس میں زیادہ چربی نہ ہو۔ اِس بات کا بھی خیال رکھیں کہ آپ حد سے زیادہ نہ کھائیں۔ اگر ممکن ہو تو ہفتے میں ایک دو بار مچھلی کھائیں۔ بعض ملکوں میں لوگ پروٹین حاصل کرنے کے لیے گوشت کے علاوہ ایسی اشیا بھی اِستعمال کرتے ہیں جو اناج سے بنی ہوتی ہیں۔

اگر آپ چکنائی سے بھرپور اور میٹھی غذائیں بہت زیادہ اِستعمال کرتے ہیں تو آپ موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اِس لیے میٹھے مشروب پینے کی بجائے پانی اِستعمال کریں اور میٹھے پکوان کی جگہ پھل اِستعمال کریں۔ گوشت، مکھن، پنیر، کیک اور بسکٹ وغیرہ بھی کم لیں کیونکہ اِن میں بھی چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اور کھانا پکانے کے لیے گھی یا چربی اِستعمال کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کوئی اچھا تیل اِستعمال کریں۔کھانے میں بہت زیادہ نمک لینے کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے جو نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ اِس مرض میں مبتلا ہیں تو اپنے کھانے میں نمک کی مقدار کم کریں اور اگر آپ کوئی پیکٹ والا کھانا خریدتے ہیں تو ا±س کے لیبل پر نمک کی مقدار ضرور چیک کریں۔

باقاعدگی سے ورزش کریں
آپ کی عمر چاہے جو بھی ہو، صحتمند رہنے کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرنا ضروری ہے۔ آجکل بہت سے لوگ ا±تنی ورزش نہیں کرتے جتنی ا±ن کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ورزش کرنا اِتنا اہم کیوں ہے؟ ورزش کرنے سے نیند اچھی آتی ہے۔جسم لچکدار رہتا ہے۔ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔وزن کم ہوتا ہے یا مناسب رہتا ہے۔ڈیپریشن ہونے کا خطرہ کم رہتا ہے۔کم عمر میں مرنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

نیند پوری کریں
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہماری نیند کی مقدار بھی بدلتی جاتی ہے۔ نوزائیدہ بچے دن میں 16 سے 18 گھنٹے سوتے ہیں ایک سے تین سال کا بچہ 14 گھنٹے سوتا ہے اور تین یا چار سال کا بچہ 11 یا 12 گھنٹے سوتا ہے۔ سکول جانے والے بچوں کو کمازکم 10 گھنٹے، نوجوانوں کو تقریباً 9 یا 10 گھنٹے اور بالغوں کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم جتنے بھی گھنٹے سوئیں، ا±س سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ماہرین کے مطابق بھرپور نیند سونابچوں اور نوجوانوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
اگر اِن تمام تجاویز پر عمل کرنے کے بعد بھی آپ کو رات میں اچھی نیند نہیں آتی یا دن کے دوران بہت زیادہ نیند آتی ہے یا پھر نیند کے دوران سانس اکھڑنے کی وجہ سے آپ اٹھ بیٹھتے ہیں تو کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


ای پیپر