مرد جیون ساتھی کیلئے خوبصورت یا ذہین عورت کا انتخاب کرتے ہیں ؟
28 فروری 2018 (19:17)

کیلی فورنیا :ایک نوجوان جب کسی لڑکی کو بیوی کی حیثیت سے دیکھے تو اس میں مختلف خوبیاں تلاش کرتا ہے۔مثال کے طور پر بہت سے نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی بیوی ذہین ہو۔یہ تمنا کرنا فطری بات ہے۔ ایک ہوشیار عورت کی سوچ ایک مرد کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر ایک تحقیق نے یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ حقیقی دنیا میں مرد کے سامنے کھڑی ہوئی ذہین عورت شوہرکو جیون ساتھی کے روپ میں متاثر کرنے میں ناکام رہتی ہے۔تحقیق کے نتائج عیاں کرتے ہیں کہ بہت سے مرد ذہین عورت کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کے حوالے سے پرجوش نہیں ہوتے۔امریکہ کے تین تعلیمی اداروں بفلویونیورسٹی،کیلی فورنیا یونیورسٹی اور ٹیکساس یونیورسٹی سے متعلق ماہرین عمرانیات کی ایک مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ مرد اہلیت اور مسابقت جیسی خصوصیات کو اپنے لیے بہت اہم سمجھتے ہیں۔

شاید اسی لیے عورت کی ذہانت مرد کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔محققین کو معلوم ہوا کہ بیشتر مرد عورتوں میں ذہانت کی خوبی پسند کرتے ہیں۔ لیکن خود سے زیادہ ہوشیار عورت کو جیون ساتھی بنانے کا خیال انھیں خوفزدہ کر دیتا ہے۔محققین کہتے ہیں، یہ بتانا مشکل ہے کہ ان کے نتائج کو رائے قائم کرنے میں کتنا قابل اعتماد سمجھا جائے لیکن ایک بات تعجب انگیزضرور ہے۔ محققین جاننا چاہتے تھے اگر ایک مرد یہ کہے کہ وہ ذہین عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، توکیا وہ اصل میں اس عورت کی طرف متوجہ ہوا جب وہ اس کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔

ایک ابتدائی سروے میں 86 فیصد مردوں نے بتایا کہ انھیں خود سے زیادہ ذہین عورت کے ساتھ رومانوی ملاقات کر کے خوشی ہو گی۔ بعد میں چھ تجربات سے تحقیق کاروں نے ان کے دعوﺅں کی جانچ پڑتال کی۔تحقیق کے پہلے مرحلے میں محققین نے 105 انڈر گریجویٹ مردوں کو ایک فرضی منظر نامہ پڑھ کر سنایا جس میں ایک فرضی عورت نے ٹیسٹ میں ان سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔پھر شرکا سے پوچھا گیا کہ ان کے لیے یہ خاتون جیون ساتھی کے روپ میں کتنی پسندیدہ ہے۔دوسرے مرحلے میں 151 انڈر گریجویٹ مردوں سے انگریزی اور ریاضی کی ذہانت کا ایک ٹیسٹ لیا گیا۔پھر ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیچے ہال میں بیٹھی ایسی خاتون سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جس نے ذہانت کے ٹیسٹ میں ان سے زیادہ اسکور حاصل کیا ہے۔دونوں جائزوں کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ جب مردوں نے ایک فرضی ذہین خاتون کا تصّور کیا یا ایسی عورت کے ساتھ رومانوی ملاقات کرنے کا سوچاجو وہاں غیر حاضر تھی تو انھوں نے اس سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔

تحقیق کے اگلے دو مرحلوں میں مردوں کی ملاقات ان خواتین سے کرائی گئی جنھوں نے ذہانت کے ٹیسٹ میں ان سے زیادہ یا کم نمبر لیے تھے۔پھر مردوں سے پوچھا گیا کہ انھوں نے پہلی ملاقات میں ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے قائم کی۔اس مشاہدے میں محققین نے کرسیوں کے فاصلے سے بھی اندازا لگایا کہ مرد کی جانب سے ذہین عورت کو جیون ساتھی کے روپ میں کتنا پسند کیا گیا۔جو مرد زیادہ نمبر لینے والی خواتین کے ساتھ بیٹھے، انھوں نے ان کے ساتھ اپنی کرسی کا فاصلہ زیادہ کرلیا اور خود کو ان سے دور کرنے کی کوشش کی تھی۔علاوہ ازیں انھوں نے ذہین خواتین کو ان عورتوں کے مقابلے میں کم پرکشش اور جیون ساتھی کی حیثیت سے نامناسب خیال کیا جنھوں نے ٹیسٹ میں کم نمبرپائے تھے۔تحقیق کے آخری دو مراحل سے پتا چلا کہ مرد ایک ذہین خاتون کے ساتھ بات چیت کرنے اور اس کے ساتھ رابطے رکھنے میں کم دلچسپی دکھاتے رہے۔گویا سچائی یہ تھی کہ مرد فرضی ذہین عورت کے ساتھ ملاقات کرنے میں تو دلچسپی رکھتے ہیں مگر عملی لحاظ سے اس سے دور رہتے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ اکثر مرد ذہین عورت کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔تاہم یہ وضاحت ضرور ہوئی کہ اکثر مرد ذہین عورت کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کے حوالے سے پرجوش نہیں ہوتے۔


ای پیپر