ایک کپ چائے کیساتھ آدھا گھنٹہ مفت انٹرٹینمٹ
28 فروری 2018 (18:20) 2018-02-28

کرناٹکا :کاروبار چھوٹا ہو یا بڑا لیکن اگر منصوبہ بندی کیساتھ کیا جائے تو یہ چھوٹے سے چھوٹا کاروبا ر بہت بڑا بن جا تا ہے اور بڑے سے بڑا کاروبار کرنے والا گھاٹے کا سودا کر بیٹھتا ہے ۔ایسا ہی کچھ بھارت کے ایک گاﺅں میں ایک لڑکے نے کمال کر دکھا یا ۔


کرناٹکا کے چھوٹے سے گائوں کا چائے والا گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے 5 روپے کی چائے کے ایک کپ کے ساتھ آدھے گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت مفت فراہم کر رہا ہے، اس اقدام نے نوجوان ہوٹل والے کو سوشل میڈیا پرمقبول بنادیا۔تفصیلات کے مطابق 23 سالہ سید قدر علی باشا نے آبائی کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اپنے ہوٹل میں چائے پینے والوں کے لیے انٹر نیٹ کی مفت سہولت فراہم کرنے کا مشکل فیصلہ کیا جس پر نوجوان کو خاندان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا تاہم اس نے اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا کامیاب تجربہ کیا جسے شہریوں نے سراہا۔

میٹرک پاس نوجوان نے ایم بی اے کی ڈگری لیے کسی شخص کی طرح چائے کے ہوٹل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور اس سلسلے میں سب سے پہلے اپنے ڈھابے کی شکل و صورت کو تبدیل کیا اور پھر اس میں فری وائی فائی کا انتظام کیا اور صرف 5 روپے فی پیالی کے ارزاں قیمت پر آدھے گھنٹے مفت انٹر نیٹ فراہم کر نیکامنصوبہ بنایا ۔


بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے چائے کے ہوٹل پر آنے لگا اور دو سال قبل 2016 میں انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے مفت وائی فائی سروس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ہوٹل میں آنے لگی اور آج ہمیں اپنے مختصر سے ڈھابے کو قدرے وسیع ہوٹل میں تبدیل کرنا پڑا ہے۔نوجوان چائے والا کے ہوٹل میں آدھے گھنٹے کے بعد مزید انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کوایک کپ چائے اور پینا ہو گی اس طرح قدر علی کی روزانہ کی فروخت میں اضافہ بھی ہوا اور نوجوانوں کی بڑی تعداد اس کے ہوٹل پر آنے لگی، نوجوان چائے والا کے اس منفرد اقدام کو کچھ نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس کے بعد کرناٹکا کا یہ نوجوان پورے بھارت میں مشہور میں ہوگیا۔


ای پیپر