global epidemic Global Epidemic New Situation
28 دسمبر 2020 (15:46) 2020-12-28

حامدخان المشرقی

نومبر 2019ء کے اواخر اور دسمبر کے اوائل میں اکثر دُنیا کے لیے ایک نیا لفظ سامنے آیا جس کا مرکز تھا چین کا شہر ’’ووہان‘‘ اور یہ لفظ تھا ’’کرونا‘‘تھا، اس لفظ کے آتے ہی ایک دم پوری دُنیا میں ایک تہلکہ سا مچنا شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ کئی الفاظ استعمارے اور سازشی نظریے یعنی ’’Conspiracy Theories‘‘ نے جگہ بنانی شروع کردی اور پھر نیاسال 2020ء اسی کرونا کے خوف وہراس کے ساتھ آغاز ہوا۔ کرونا کے آغاز سے ہی اس کا ذمہ دار چائنیز کو ٹھہرایا جانے لگا اور پوری دُنیا میں موجود چائنیز کو انتہائی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے چائنیز باشندوں کو دیکھتے ہی اس جگہ سے بھاگ جانا ایک معمول بنا لیا۔ کہیں یہ کہا گیا کہ یہ وائرس ایک خاص قسم کے چمگادڑ سے آیا ہے اور کہیں جنگلی جانوروں کو زندہ کھانے سے اس وائرس کو منسوب کیا گیا اور پوری دُنیا میں چینیوں کی کھانے پینے کی عادات واطوار کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ پھر چین کی تمام گوشت کی مارکیٹیں ’’ووہان‘‘ صوبے میں جو تھی، وہ بند کردی گئیں اور تحقیقات اسی بات پر منتج ہوئیں کہ یہاں کی جانوروں کی منڈی ہی اس کی ذمہ دار ہے اور پھر ’’ووہان‘‘ کی وائرس ریسرچ لیبارٹری کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانے لگا۔ امریکی میرین فوجیوں پر چین کے خلاف جنگ کے ہتھیار کے طور پر کرونا پھیلانے کا الزام لگا۔ پھر دُنیا بھر میں موجود 5جی ٹیکنالوجی کو ’’کرونا‘‘ یا ’’Covid19‘‘ کا ذمہ دار ٹھہرایا جانے لگا۔ فروری 2020ء تک کرونا تقریباً آدھی دُنیا سے زیادہ جگہوں میں پھیل چکا تھا اور پھر فروری میں اٹلی میں ہونے والی روزانہ کی سینکڑوں ہلاکتوں نے یورپ کو دہلا کر رکھ دیا چونکہ سارے یورپ میں سفر کی آزادی ہے اس لیے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کرونا کہاں سے زیادہ پھیلا مگر دنوں میں تمام پابندیوں اور احتیاطوں کے باوجود کرونا نے پورے یورپ اور برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پھر اٹلی، جرمنی، فرانس، سپین، ہالینڈ اور برطانیہ سمیت سب جگہ ہزاروں ہلاکتیں اور لاکھوں کیسز آنا شروع ہو گئے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی کرونا نے فروری کے مہینے سے ہی تباہی مچانا شروع کردی اور ہزاروں امریکی اس Covid-19 کے ہاتھوں لقمہ اجل بن گئے اور پھر دُنیا نے وہ مناظر دیکھے جن کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جی ہاں! شہروں کیش ہر اور ملکوں کے ملک مکمل شٹ ڈائون اور لاک ڈائون۔ پوری دُنیا کی فضائی پروازیں معطل کردی گئیں اورشہر ایسے ویران ہو گئے جیسے کوئی بھوت پریت پھر رہا ہو، سب جگہ لوگوں نے لاک ڈائون سے پہلے سپرمارکیٹس میں دھاوا بول دیا اور دھڑادھڑ چیزیں سٹور کرنے کے لیے لڑائی جھگڑے ہوئے۔ تمام سپرمارکیٹس خالی ہو گئیں، لوگ انجانے خوف کی وجہ سے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے۔ دُنیا کا مصروف ترین شہر نیویارک میں لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے اور باہر صرف ایمبولینس کے سائرن اور پیرامیڈیکل کی ٹیمیں ہی نظر آتی تھیں۔ ایسے ہی مناظر لندن، پیرس، روم، وینس، بارسلونا، میڈرڈ، فرینکفرٹ، برلن، مانچسٹر، دہلی، کراچی، جکارتہ، کوالالمپور، دبئی، سڈنی، سنگاپور، شنگھائی، ٹوکیو، استنبول، خرطوم، شکاگو، لاس ویگاس اور ساری دُنیا کے تھے۔ بلاشبہ اس کرونا کی پہلی لہر کے لاک ڈائون نے تو دُنیا ہی بدل کر رکھ دی تھی۔ سبھی جانب ایک ایسا خوف جس میں لگے کہ موت کا اژدھا آپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اپنے پیارے مرنے والوں کی نہ تو تیمارداری کی اجازت اور نہ ہی جنازہ پڑھنے اور دفنانے کی آزادی، جو ہسپتال جاتا ایسا لگتا جیسے اس کو اپنے ہاتھوں سے موت کے سپرد کررہے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں لوگ اپنے کسی کو دیکھنے کی خواہش لیے پتھرائی آنکھوں کے ساتھ دُنیا سے چلے گئے اور اس کسک کے ساتھ جانے والا شاید کچھ کہنا چاہتا ہو، کچھ پیغام دینا چاہتا ہو، سب میتوں میں ہی دفن رہ گئے۔ کہیں تو ایسا محسوس ہوا کہ شاید اب دُنیا کا اختتام ہوا چاہتا ہے اور لوگوں پر بیک وقت ایسا آئے گا جب اپنی زندگی کو بچانے کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے پیاروں کو مارنا شروع کردیں گے اور ہر شخص دوسرے کو اپنا قاتل سمجھے گا۔ کہاں دُنیا میں ہر وقت دس ہزار جہاز فضا میں رہتے تھے اور کہاں وہ سب زمین بوس ہو گئے اور اسی کرونا کے بحران اور وباء نے تو ہر انداز میں دُنیا ہی بدل کر رکھ دی۔دفاتر بند ہو گئے اور گھر سے کام یعنی ’’Work from Home‘‘ نے نیا کلچر بنا دیا۔ لوگ اپنے گھروالوں کے ساتھ وقت گزارنے لگے اور زندگی میں رشتوں کی اہمیت اور افادیت جو اس زندگی کی دوڑ اور مادہ پرستی میں کہیں کھو گئی تھی دوبارہ اُجاگر ہونے لگی۔ اسی طرح جو انسان یہ سمجھنے لگے تھے کہ کام پر گئے بغیر اور کاروبار پر بیٹھے بنا تو زندگی ختم ہو جائے گی اور نظام کا پہیہ جام ہو جائے گا، ایسا بھی کچھ نہ ہوا بلکہ اگر اور کچھ نہیں تو اس کرونا نے انسانیت کو بہت کچھ اچھا بھی سکھا دیا ہے گو کہ جہازوں کی بندش سے بہت ساری فضائی کمپنیاں تو دیوالیہ ہو گئیں مگر ’’اوزون کی تہہ‘‘ سوسال کی سب سے بہتر حالت میں چلی گئی اور آلودگی سے اس میں پڑھنے والے شگاف بھی بھر گئے۔ اس کے ساتھ ہمارے معاشرے جو خاندانی نظام سے بالکل ناآشنا ہو گئے تھے خصوصاً یورپ میں سب دوبارہ ایک دوسرے سے جڑنے لگ گئے، لوگوںکو یہ احساس ہوا کہ دُنیا میں پیسہ کمانا اور بڑی بڑی گاڑیاں کوٹھیاں رکھنا تو کچھ بھی نہیں ہے یہ سب کچھ تو پلک جھپکتے بے معنی سا ہوسکتا ہے اور سب سے بڑھ کر میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کا رابطہ دوبارہ اس مالک کائنات سے جڑا جسے وہ اس دُنیا کی چکاچوند میں پھول چکے تھے اور کسی بھی خدا کے وجود کو نہ ماننا ایک طرح سے ماڈرن ہونے کی نشانی سمجھا جانے لگا تھا لیکن اس کرونا نے سب دُنیا کے لوگوں کو ایک دم سے احساس دلایا ہے کہ دُنیا میں وہی اللہ رب العالمین ہی سب سے بڑی طاقت ہے جس کے ایک حکم سے پوری دُنیا کا نظام تلپٹ ہوسکتا ہے۔ اس سال 2020ء میں کرونا نے پوری انسانیت کو جو سبق پڑھایا ہے وہ یہی ہے کہ تمام دُنیا کی سائنس اور ترقی ، ایجادات، چاند پر پہنچنا، مریخ پر خلائی جہاز اُتارنا اور دوسرے سیاروں میں مسکن کے خواب دیکھنا اس زمین پر موت کی شکست دینے کی باتیں کرنا سب کچھ اللہ پاک کی جانب سے دیئے گئے ایک جھٹکے سے مٹی ہو گیا اور بلاشبہ اللہ پاک کی ذات ہی اس کائنات کی مالک اور مختار ہے۔ انسان جتنی مرضی ترقی کرلے اللہ تعالیٰ کا ایک حکم اور ہلکا سا دیا گیا جھٹکا انسان کو مٹانے کے لیے کافی ہے۔ اسی لیے اس کرونا کی وباء کے بعد دیکھا گیا کہ جو جگہ سب سے زیادہ آباد ہوئی تھی وہ مسجدیں، عبادت گاہیں، گرجاگھر اور مندر تھے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اللہ پاک کی حقیقت کو ماننے ہی میں اس دُنیا کی بقاء ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں دُنیا نے نئے انداز اور اطوار سے جینا سیکھا وہیں دوسری لہر نے پھر سے زور پکڑ کر دُنیا کو خوف میں مبتلا کررکھا ہے اور کئی ملکوں اور شہروں میں لاک ڈائون اور سختیوں کے ذریعے اس پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سب سے اچھی خبر اس حوالے سے ہے کہ کرونا کی ویکسین کی تیاری اور دُنیا کے مختلف ممالک میں اس ویکسین کولگانے کے عمل کا آغاز ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے دوسال کے عرصے کے دوران پوری دُنیا کو ویکسین لگا کر اس بیماری سے محفوظ بنایا جائے گا مگر اس کی کیا گارنٹی ہے کہ کل کوئی اور بیماری پھر پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لی گئی۔ یہ تو سب اس مالکِ کائنات کے ہاتھ میں ہے اور اس کا نظام ہے، انسان کو صرف اللہ پاک کی طاقت کو ماننا اور اس کے آگے سر جھکانا ہی ہے وگرنہ دُنیا کی سب سپرطاقتیں اللہ پاک چند لمحوں میں نیست ونابود کرسکتاہے۔

٭…٭…٭


ای پیپر