بھارتی پولیس نے اپنی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا بھانڈا پھوڑ دیا
28 دسمبر 2020 (20:12) 2020-12-28

نئی دہلی : بھارتی فوج کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیرمیں ریاستی دہشتگردی کےنئے ثبوت دنیا کے سامنے آگئے۔جموں و کشمیر پولیس نے بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کو جعلی مقابلے میں شہید کیے جانے کی تصدیق کردی۔

بھارت کی ذلت اور رسوائی پر مبنی ایک اور رپورٹ  شائع ہو گئی۔ جعلی سرجیکل اسٹرئیکس، 2019 میں جھوٹے دعوؤں اور ای یو ڈس انفو لیب رپورٹ کے بعد جعلی مقابلوں اور ماوراے عدالت قتلوں کا اعتراف سامنے آگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلوں کا پول کھل گیا۔بھارتی فوج نے اعتراف کر لیا۔

قابض بھارتی فوج مظلوم کشمیریوں کی لاشوں کیساتھ ہتھیار باندھ کر انہیں حریت پسند قرار دینے لگی۔مقبوضہ کشمیر پولیس کی رپورٹ نے قابض فوج کے ہتھکنڈوں کو بےنقاب کر دیا۔ جولائی میں 3 مزدوروں کو جعلی مقابلے میں قتل کر کے ان کے جسموں سے ہتھیار باندھے گئے۔بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں شہری ہلاکتوں کا اعتراف کر لیا۔ 

جعلی مقابلوں کا اعتراف کرنے کے بعد بھارتی کیپٹن بھوپیندر سنگھ اور اسکے 2 سویلین ساتھیوں کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ کیپٹن بھوپیندر سنگھ نے کشمیوری مزدوروں کو قتل کر کے انہیں حریت پسند قرار دیا تھا۔ امیش پوراہ میں جعلی مقابلے کے بعد تینوں مزدوروں کو فورا دفنا دیا گیا۔ایک ماہ بعد راجوڑی میں اہلخانہ نے سوشل میڈیا پر تصاویر سے بیگناہ مزدوروں کو شناخت کر لیا۔ 

اہلکانہ کا کہنا ہے کہ تینوں مقتول سیب کے باغات میں مزدوری کے لئے گئے تھے۔ اور بھارتی فوج نے انہیں ظلم کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کر دیا ۔عوامی احتجاج کے بعد ستمبر میں قبر کشائی کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کئے گئے۔مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالے قانون کے تحت ملوث فوجیوں کیخلاف سول عدالت میں کارروائی نہیں ہو سکتی۔ 


ای پیپر