New Year, dangerous, last year, pandemic, unemployment, PTI government, incompetence
28 دسمبر 2020 (12:49) 2020-12-28

2020ء کا ہنگامہ خیز سال گزر گیا۔ کوئی تبدیلی، کوئی خوشخبری، ناں بابا ناں، ہلچل ہی ہلچل، اس کے سوا کچھ نہیں۔ قومی زندگی کا ایک سال برباد، عمر عزیز کا ایک سال کم۔ ’’گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی‘‘ سال گزشتہ کے دو نادر تحفے کرونا وائرس اور رلا دینے والی مہنگائی اس کے علاوہ نرے وعدے۔ ’’تیرے وعدوں پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا‘‘ میر کتنے سادہ ہیں جانتے بوجھتے انہی وعدوں پر جی رہے ہیں۔ خوشحالی کی موہوم سی امید ،غربت کے خاتمہ کے دعوے، وعدے ایک کروڑ نوکریوں کے بلند بانگ دعوے آنکھوں میں امید کی جوت جگائی تھی۔ ڈیڑھ کروڑ بیروزگار ہوگئے امید کی شمع گل ہوگئی۔ حالانکہ اسے ہر رنگ میں سحر ہونے تک جلنا تھا لیکن جس سحر کے لیے جھولیاں بھر کے ووٹ دیے تھے یہ وہ سحر تو نہیں، دو ڈھائی سال بعد اعتراف کہ حکومت چلانے کا تجربہ نہیں تھا۔ کنارے پر بیٹھ کر لہریں گنتے رہے، سمندر کی تہہ میں پلنے والے طوفانوں کا علم نہ ہوسکا۔ کسی نے ایک ڈاکٹر سے پوچھا، تجربہ کہاں سے حاصل کیاْ بولے کلینک کے عقب میں دو قبرستان کیا تیرے پیو (باپ) نے آباد کیے ہیں‘‘ نو کمنٹس، اپوزیشن نے صحرا میں اذان دی ہے جلسوں کے بعد لانگ مارچ دھرنے اور استعفوں کا آپشن، لیکن ترجمانوں کے بیانات، دھمکیوں، گرفتاریوں مقدمات اور دیگر اقدامات کے بعد بھی کیا لانگ مارچ ہوگا؟ اہم سوال نئے نویلے وزیر داخلہ نے بڑے رسان سے کہہ دیا کہ ’’استعفے دو یا لانگ مارچ کرو استقبال کریں گے۔‘‘ کیا واقعی؟ کوئی روک ٹوک، کوئی مقدمہ، کوئی گرفتاری نہیں ہوگی؟ اللہ کرے شیخ صاحب اپنے وعدے پر قائم رہیں وزیر اعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایک ہفتہ تک دھرنے پر بیٹھے رہے تو استعفے کا سوچوں گا۔ دل خوش کن وعدہ، ایسا کبھی نہیں ہوا، بلاول بھٹو کی فضول سی خواہش اسلام آباد پہنچ کر استعفیٰ چھین لیں گے۔ ایسا بھی کچھ نہیں ہوا نہ ہوگا، کیا وزیر اعظم استعفیٰ جیب میں لیے گھوم رہے ہیں عالم جوش میں ہوش بھلانے والے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق بڑے سر گرم، جھلسا دینے والے بیانات دے رہے ہیں۔ کہا کہ عمران خان کا اسلام آباد میں ایک ہفتہ دھرنے کا خواب پورا کردیں گے۔ جماعت اسلامی منظم پارٹی یقینا وزیر اعظم کی خواہش پوری کردیں گی۔ لیکن استعفے کا وعدہ، کچھ پتا نہیں لوگ ابھی تک موجودہ حکومت کے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہیں۔ ایک سیانے بیانے سالخوردہ تجزیہ کار نے بڑے یقین سے کہا موجودہ حکومت سر تا پا جمہوری، جمہوری اقدار کی محافظ، آمرانہ دور کی واحد نشانی، وزیر داخلہ تھے۔ انہیں منشیات کے اسمگلروں کے پیچھے لگا دیا گیا۔ قریب بیٹھے دوسرے تجزیہ کار نے بات کاٹی کہ اصل وجہ اور ہے، رانا ثناء اللہ پر ہیروئن اسمگلنگ کا کیس ہے۔ عجیب احمق اسمگلر کہ 15 کلو ہیروئن گاڑی میں لیے گھوم رہا تھا۔ آج کل ضمانت پر ہیں قابو نہیں آرہے، شاہ صاحب ضرور کوئی جھرلو چلائیں گے اور لانگ مارچ سے قبل حوالہ زنداں کرنے میں کامیاب رہیں گے۔’’ بے مہار ‘‘ن لیگی لیڈر کو اس طرح آزادانہ نقل و حرکت بلکہ ہیروئن کی آزادانہ نقل و حمل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ویسے تو ماشاء اللہ نیب نے پرانے فارمولے آمدن سے زائد اثاثے کے تحت رانا کے خلاف شکنجہ تیار کرلیا ہے۔ جلد ہی طلبی ہوگی۔ طلبی پر گھر واپس نہیںآئیں گے۔ تادیر نیب کے مہمان رہیں گے۔ جمہوری حکومت میںآمرانہ تڑکا، جموریت دو آتشہ ہوجائے گی۔ 2021ء کے آغاز میں دو دھماکوں کا امکان، لانگ مارچ، سینیٹ الیکشن سے قبل استعفے، دونوں غیر یقینی، استعفوں کا آپشن پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے مسترد کردیا۔ مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف سے رابطہ کے دوران سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے پر بضد، اصرار کیا کہ سینیٹ الیکشن سے قبل استعفے نہ دیے جائیں بلکہ مل کر الیکشن لڑا جائے۔  15 سیٹیں مل جائیں گی۔ نواز شریف نے تجویز کی مخالفت کی۔ استعفوں پر زور دیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں غور کریں گے۔ طے پایا کہ پی ڈی ایم میں بھی معاملات درست نہیں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کھیل کے ماہر ہیں۔ پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن کے بعد استعفے دے دے گی یہ بھی مشکوک وہی حشر ہوگا جو آصف زرداری کے ہاتھ کھینچنے سے مولانا کے دھرنے کا ہوا تھا۔ بلاول بھٹو موصول شدہ استعفوں کا اچار ڈالیں گے؟ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے فوری رد عمل دیا کہ استعفے نہیں لطیفے ہیں۔ لانگ مارچ ناکام بنانے کے لیے بھی حکمت عملی تیار، بڑے بڑے ذہین لوگ پڑے ہیں ہر روز پو پھٹتے ہی کان پر رکھ کر قلم نکلے، وزیر اعظم ہائوس کا رخ کرتے اور سراپا انتظار وزیر اعظم کو ایسے ایسے زریں مشورے دیتے ہیں کہ بندہ عش عش کر اٹھے۔ وزیر اعظم کے چہرے پر یک گو نہ اطمینان ان ہی مشوروں کا مرہون منت ہے۔ ’’بات پہنچی تیری ذہانت تک‘‘ ورنہ بندہ کس قابل ہے، حکمت علی کا پہلا مرحلہ نیب کے تعاون سے پنجاب خصوصا لاہور سے ن لیگی رہنمائوں کو قابو کرنا، اس کے لیے آمدن سے زیادہ اثاثوں پر کارروائی بہترین فارمولا۔ انتقام کا اس سے بہتر طریقہ ہو ہی نہیں سکتا۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے تو یہی سوال چیئرمین نیب سے کردیا آمدن سے زائد اثاثے؟ جواب آیا الزامات کا جواب مناسب وقت پر دیں گے۔ احتساب عدالت نے احسن اقبال پر فرد جرم عائد کردی۔ نیب سے گواہ طلب گواہ مل جاتے ہیں ڈھونڈنے والا چاہیے۔ جو گلی گلی آوازیں لگاتے پھرتے ہیں۔ ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں۔‘‘ اپوزیشن کے کتنے لیڈر نیب کے ریڈار پر آگئے۔ نواز شریف قصہ پارینہ، شہباز شریف اور حمزہ کوٹ لکھپت جیل کے قیدی، شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، سعد رفیق، کیپٹن صفدر، مریم نواز، پی پی کے آصف زرداری، آغا سراج درانی، خورشید شاہ، منظور وسان، نثار کھوڑو، یوسف رضا گیلانی، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر متعدد لیڈر انکوائریز  اور ریفرنسوں کے دور سے گزر رہے ہیں۔ سب پکڑے جائیں گے۔ آصف زرداری اپنے اور اپنے ارکان کے بچائو کے لیے استعفوں کے خلاف کھیل رچا رہے ہیں۔ تب مریم نواز لانگ مارچ کے لیے بندے ڈھونڈتی پھریں گی۔ خالص جمہوری حکومت میں آمریت کا تڑکا نہیں، گرفتاریاں بھی جمہوریت کا حسن ہیں، جلسوں کے شرکا کی تعداد کیسے کم کی گئی۔ ماہرانہ سوچ کام آئی۔ جلسہ سے کچھ روز قبل اجازت نہ دینے کا اعلان، دوسرے تیسرے دن کنٹینروں سے راستے بند، سارے وزیر، مشیر اور ترجمان ہمہ وقت سرگرم، عوام کو ڈرانے دھماکنے کے جناتی بیانات، ایک دن ہدایت ملی ’’روکو، مت جانے دو‘‘، ایک دن قبل اعلامیہ جاری، ’’روکو مت‘ جانے دو‘‘۔ جلسہ کے بعد مقدمات کا اندراج ،لانگ مارچ میں بھی یہی کچھ ہوگا۔ بالآخر’’ مارچ ‘‘کی مکمل آزادی ہوگی لیکن وہ لانگ نہیں ہوگا۔ شارٹ مارچ حکومت کا کیا بگاڑے گا۔ ہزار دو ہزار شرکا کے خلاف مقدمات درج کرلیے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں پی ڈی ایم کی پوری قیادت کو دہشتگرد حملہ کی وعید سنا کر خوفزدہ کرنے کی کوشش، شیخ رشید نے بروقت نفسیاتی حربہ استعمال کیا کہ مولانا فضل الرحمن سمیت پی ڈی ایم کے 20 رہنمائوں کو سیریس سیکیورٹی تھریٹس ہیں۔ شیخ صاحب نے دھمکی کیوں دی؟ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ سیاستدانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے۔ جو ’’بے خطر آتش نمرود‘‘ میں کودنے کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ حکمرانوں کی عقل محو تماشائے لب بام ہے۔ سو باتوں کی ایک بات، وزیر اعظم اور دیگر وزیروں کو اپوزیشن کے استعفوں اور دھرنے کا یقین ہی نہیں آرہا۔ اتنی رکاوٹیں ڈالی جائیں گی کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ’’ہنوز دلی دوراست‘‘ کا منظر پیش ہوگا۔ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ اساتذہ کا حشر دیکھ لیا۔ پولیس والوں نے منجمد کردینے والی سردی میں بنی گالہ کی طرف جانے والے اساتذہ پر شیلنگ میں وہ سرگرمی دکھائی کہ تعریفی اسناد کے حقدار قرار پائے وزیر اعظم کے بقول سوا دو سال رہ گئے اسی میں کچھ کرنا ہوگا۔ کیا کریں گے۔ ’’پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ‘‘ فی الحال اپوزیشن استعفوں کی حوصلہ شکنی اور لانگ مارچ روکنا اولین ترجیح، قوم کی بد قسمتی اپوزیشن جماعتیں بھی بکھری ہوئی بھیڑوں کی طرح شکار ہونے کو تیار کہنے لگے توانائی کے شعبہ میں راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ غالب صرف قرض کی مے پیتے تھے اور کہتے تھے ’’نیند کیوں رات بھر نہیں آتی‘‘ یہاں تو گوناگوں مسائل قطار اندر قطار کھڑے ہیں۔ قرضہ اوڑھنا بچھونا،’’ لے کے قرضہ پھنس گیا ہیِ دے کے قرضہ چھوٹ جا‘‘ کھربوں کے قرضے، غیر ملکی دبائو، ملکی مصائب کے سانپ بچھو ڈسنے کو تیار، عوام کی چیخ و پکار، پر سکون نیند کیسے آئے گی۔ اب تک مسائل حل نہیں ہوئے تو آئندہ سوا دو سال میں کون سی بوتل کا جن مسائل حل کرنے آئے گا۔ وہی مشیر وہی وزیر، ’’یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘‘ پیپلز پارٹی کے منظور وسان نے بڑے دنوں بعد بھیانک خواب دیکھا ہے۔ کہنے لگے 2021ء سال گزشتہ سے بھی زیادہ خطرناک ہو گا۔ میرے حساب سے حالات اچھے نہیں جا رہے، سینیٹ الیکشن سے پہلے کچھ اور ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کیا ہو گا؟ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ جنوری فروری میں دمادم مست قلندر ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو کوئی ’’قلندر‘‘ ہی آکر ملک سنبھالے گا۔


ای پیپر