East Pakistan, tragedy, responsible, India, Sheikh Mujibur Rahman, Zulfikar Ali Bhutto
28 دسمبر 2020 (12:40) 2020-12-28

 مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں بحث کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ سقوط ڈھاکہ سے متعلق اُن واقعات کا جائزہ لیں، جنہوں نے اس حادثے کے آثار ظاہر کرنا شروع کردیئے تھے۔ تو صاحبو یہ بات ہے اُس حادثے سے ایک سال پہلے، یعنی 1970 ء کی جب ملک میں پہلی مرتبہ حقیقی عام انتخابات ہوئے۔ مگر انتخابات کے نتائج منفی انداز میں حیران کن تھے۔ وہ یوں کہ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کی سیاسی پارٹی عوامی لیگ نے 160نشستوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی ، جبکہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 81 نشستیں حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ بلاشبہ دونوں پارٹیوں کی یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان میں اور عوامی لیگ نے مغربی پاکستان میں ایک بھی نشست حاصل نہ کی۔ گویا ان نتائج نے انتباہ کردیا کہ دونوں صوبوں کی ترجیحات ایک دوسرے سے قطعی طور پر مختلف ہیں۔ پھر تین جنور ی1971 ء کو شیخ مجیب نے ڈھاکہ میں ایک بہت بڑے جلسئہ عام سے خطاب کیا اور وہاں لاکھوں عوام کی موجودگی میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے منتخب نمائندوں سے پارٹی کے فیصلوں کا ساتھ دینے کا حلف لیا۔ مطلب یہ کہ کسی بھی ایسی صورت میں اگر حکومت کے فیصلے عوامی لیگ کے مفاد میں نہ ہوں تو وہ حکومت کا ساتھ نہ دیں۔ یہ علیحدگی کا کھلا اشارہ تھا۔ اُس کے بعد 23 مارچ کو اُس وقت کے سربراہ جنرل یحییٰ خان نے ڈھاکہ میں آل لیڈرز کانفرنس طلب کی۔ شیخ مجیب نے نہ صرف اس کی مخالفت کی، بلکہ اُس روز جبکہ مغربی پاکستان میں ہر سال کی طرح یوم پاکستان منایا جارہا تھا، تو شیخ مجیب کی ہدایت پر مشرقی پاکستان میں یوم مزاحمت منایا گیا۔ چنانچہ 25 اور 26مارچ کی درمیانی رات کو جنرل یحییٰ خان نے ذوالفقار علی بھٹو سے مشورے کے بعد عوامی لیگ کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ تب مشرقی پاکستان میں حکومت کے خلاف مظاہروں اور پُر تشدد و اقعات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کارروائی کا ایک بدترین نتیجہ یہ دیکھنے میں آیا کہ عوامی لیگ کے انتہا پسند کا رکن فرا ر ہوکر بھارت پہنچ گئے وہاں بھارتی حکومت نے اُنھیں بہترین جنگی تربیت اور جدید ترین ہتھیاروں سے ا ٓراستہ کرتے ہوئے مکتی باہنی کی صورت میں مشرقی پاکستان واپس بجھوایا۔ اُنہی دنوں مشرقی پاکستان سے جنرل ٹکا خان کو واپس بلوا کر اُن کی جگہ جنرل امیرنیازی کو مشرقی پاکستان روانہ کیا گیا۔

سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی تاریخ بتاتی ہے کہ اُسی سال 30 نومبر تک باقاعدہ اعلان جنگ سے پہلے بھارتی افواج نے مکتی باہنی کے دوش بدوش لڑتے ہوئے مشرقی پاکستان کے مشرقی حصوں کی سب ہی چیک پوسٹوں پہ قبضہ کرلیا تھا۔ یہاں کسی کو پاکستانی افواج کی بہادری پر شک اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ بھارتی افواج اور مکتی باہنی کا ساتھ بھارتی ایئرفورس ، پاکستانی افواج پرفضائی حملوں کی صورت میں دے رہی تھی۔ جبکہ پاکستانی افواج کو کسی قسم کی کوئی فضائی طاقت میسر نہ تھی۔ پھر اپنے مشرقی پاکستان کے ہم وطنوں کی جانب سے کوئی امداد میسر نہ تھی۔ عوامی لیگ کے پاکستانی افواج کے خلاف پروپیگنڈے نے بنگالیوںکے دلوں میں پاکستانی افواج کیخلاف زہر بھر دیا تھا۔یوں ایک بے سروسامانی کا عالم تھا جس میں پاک فوج کے گرد مکتی باہنی اور بھارتی افواج کا حلقہ تنگ ہوتا جارہا تھا۔ نہ صرف یہ کہ پاک فوج کو اسلحہ اور دوسرے فوجی سازو سامان کی فراہمی معطل ہوچکی تھی، بلکہ غذائی قلت کا بھی سامنا تھا۔ اُدھر مغربی پاکستان میں عوام کو ان حالات کی بھنک تک نہ تھی۔ پھر یہ 16 دسمبر کی وہ مخصوص گھڑی تھی، جب دن کے بارہ بجے کی خبروں میں پہلی مرتبہ یہ بتایا گیا کہ بھارتی افواج تیزی سے ڈھاکہ کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ یہ انتہائی اچانک اور دل شکن خبر تھی۔ پھر کچھ ہی دیر میں اصل حقیقت سامنے آگئی۔ بتایا گیا کہ مشرقی پاکستان بھارتی افواج کے زیر تسلط آچکا ہے۔ ایک مُردنی تھی، جو پوری قوم پہ چھانے لگی۔ چھلکتی آنکھوں سے لوگ ایک دوسرے کی جانب دیکھتے۔ کم اعتمادی کا گھیرا عوام کے گرد تنگ ہونے لگا۔ جذبوں سے گرم جوشی غائب ہوگئی۔ روز مرہ کی بات چیت سے  لطائف اور چٹکلے غائب ہوگئے۔ لوگ کبھی یحییٰ حکومت کو برا بھلا کہتے ، کبھی کہتے بنگالی تھے ہی غدار۔

کیا واقعی یحییٰ خان حکومت تمام تر سانحہ کی ذمہ دار تھی، یا بنگالی تھے ہی غدار؟ صاحبو! ان دونوں باتوں سے ایک بات بھی درست نہیں۔ دراصل قائد اعظم کی رحلت کو ابھی چند ماہ بھی نہیں گزرے تھے، کہ مغربی پاکستان میں حاکموں اور اسٹیبلشمنٹ نے مشرقی پاکستان کے عوام کے رہن سہن کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار شروع کردیا۔ اسمبلی میٹنگز میں اُنہیں یہاں تک کہا کہ آپ کو کموڈ وغیرہ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ آپ لوگوںکو رفع حاجت کے لیے کیلے کا ایک پتا ہی کافی ہے۔ مشرقی پاکستان کے مفاد پرست سیاستدانوںنے اس طرح کی باتوں کو نمک مرچ لگا کر وہاں کے عوام کے کانوں تک پہنچانے میں چنداں دیر نہ کی۔ یوں وہاں کے عوام نے خود کو مغربی پاکستان کا محکوم سمجھنا شروع کردیا۔ مشرقی پاکستان کے عوام کے دلوں میں مغربی پاکستان کی نفرت کو یہاں کی بابو شاہی نے خوب بڑھاوا دیا۔ چنانچہ دیکھنے میں آیا کہ وہاں کے عوام مشرقی پاکستان کے بنگالی افسروں کو اپنے نزدیک سمجھتے، جبکہ مغربی پاکستان کے افسروں کی جانب دیکھنے کے لیے اُنہیں اُنچائی کا سامنا کرنا پڑتا۔ آج جو میرے ہم وطن جنرل نیازی کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہیں، کیا بتائیں گے کہ اس تمام تر صورت حال میں جنرل نیازی کے پاس کون سا آپشن بچا تھا، سوائے اس کے کہ وہ وہاں کے عوام پہ سیدھی گولیاں چلائیں؟ہاں جنرل نیازی نے ایسا نہ کیا۔ کیونکہ وہ سب سے پہلے ایک انسان تھے، اور مسلمان تھے۔ اسلامی تعلیمات کہیں یہ حکم نہیں دیتے کہ زمین کی حفاظت کے لیے نہتے انسانوں اور اوپر سے مسلمانوںکا قتل عام کیا جائے۔ اور پھر جنرل نیازی تو اس سانحہ سے محض آٹھ ماہ پیشتر ہی مشرقی پاکستان پہنچے تھے۔ کیا کوئی بھی عام سی عقل سلیم رکھنے والا شخص یہ تسلیم کرے گا کہ صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں جنر ل نیازی نے مشرقی پاکستان کے عوم کے دلوں میں نفرت کو اس نہج تک پہنچا دیا؟

دراصل یہ پروپیگنڈا ہے، اُس بابو شاہی کاجو در پردہ ان سب حالات کی ذمہ دار رہی ہے۔ برملا کہتاہوں کہ اس بابو شاہی کی رہنمائی قدرت اللہ شہاب  نے کی۔ اس بڑے بابو کا بڑا عرصہ ملازمت ایوانِ صدر، جو اُن دنوں کراچی میں ہوا کرتاتھا، گزرا۔ تاریخ شاہد ہے کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں دوریاں اُس دوران بڑھیں، جن دنوں یہ بڑا بابو ایوانِ صدر میں براجمان تھا۔ اس عرصے کا زیاہ بڑا حصہ صدر ایوب کے دور اقتدار پر محیط ہے۔ آپ ذرا بڑے بابو کی تحریریں پڑھ کر دیکھ لیں۔ یہ تحریریں صدر ایوب کی تعریفوں سے پُر نظر آئیں گی جبکہ ایوب خان کے دور میں افسر شاہی نے اتنی قوت پکڑی کہ مغربی پاکستان میں عموماً اور مشرقی پاکستان میں خصوصاً سرکاری افسروں تک عوام کی پہنچ نہ رہی۔ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے 16 سو میل کی دوری پر تھا۔ بیچ میں ایک عیار دشمن حائل تھا۔ لیکن اس کے باوجود، مذہب اسلام دونوں کے درمیان ایسی مشترکہ قدر کے طور پر موجود تھا کہ سولہ سو میل کی دوری بے معنی ہوکے رہ گئی تھی۔ لیکن پھر بابو شاہی نے اپنے رویہ سے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ مشرقی پاکستان کے عوام یہ باور کرنے پہ مجبور ہوگئے، کہ اگر دو کلچر ایک دوسرے سے میل نہ کھاتے ہوں تو مذہب کی یگانگت اُنہیں اکٹھا رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔


ای پیپر