Tayyip Erdogan, Turkey, Syria, US, Russian forces
28 دسمبر 2020 (12:02) 2020-12-28

گزشتہ ماہ صدر رجب طیب اردوان نے روسی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کیلئے ماسکو کا ایک روزہ دورہ کیا۔ اس دورے سے پانچ روز قبل دونوں رہنماؤں کے مابین ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی مگر لگتا ہے کہ دونوں بالمشافہ جامع بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ ماسکو میں ون ٹو ون ملاقات کے دونوں نے بیانات جاری کئے جو کہ ظاہر کر رہے تھے کہ معاشی امور، روس کی جانب سے ترکی میں نیوکلیئر پاور سٹیشن کی تعمیر، ترک سٹریم گیس پائپ لائن کی تکمیل، دفاعی سازوسامان کی مشترکہ پیداوار، روسی ساختہ فائٹر طیاروں کی خریداری سمیت کئی مختلف امور پر اتفاق ہو گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے لیبیا، کشمیر اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات چیت کی۔ روسی سپیس ایجنسی کے سربراہ ڈمیٹری روگوزین  نے صدر طیب اردوان کو 2023ء میں روسی ٹیم کے ساتھ خلا میں ترکش خلا نورد بھجوانے کی پیش کش کی۔ 2023ء ترکش جمہوریہ کے قیام کی ایک صدی مکمل ہونے کا سال بھی ہے۔

تاہم، ادلب کے معاملے پر دونوں کے اختلافات برقرار ہیں۔ پوتن اردوان ملاقات سے ایک دن قبل وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے روس کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 19 ستمبر کو خان شیخون کے قریب ترکش فوجی قافلے پر شامی فورسز کا حملہ مکمل طور پر جائز اور قانون کے مطابق تھا۔ ادلب سے دہشت گرد صرف شامی فورسز پر ہی نہیں، حمیم میں روس کی ملٹری بیس پر بھی حملے کئی حملے کر چکے ہیں۔ ان دہشت گردوں کی نرسریوں کو نشانہ بنانا ایک فطری عمل تھا۔ روس نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا کہ دہشت گردوں پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ روس کی یہ پالیسی شام سے متعلق سکیورٹی کونسل کے قرارداد کے عین مطابق ہے۔

یہی بات پوتن نے اردوان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کی تھی، اس لئے ادلب سے متعلق روس کے موقف سے اردوان پوتن کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات سے قبل آگاہ تھے۔ ملاقات کے بعد اردوان نے انقرہ کا موقف دہراتے ہوئے کہا: ’’ترکی 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے؛ لاکھوں شامی اس وقت بھی ترکش سرحد کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں؛ ترکی نے ان کیلئے سرحد کے قریب شامی علاقے میں ہی کیمپ قائم کر دیئے ہیں اور شامی علاقے میں ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘‘۔ دراصل یہی کام ترکی کو کئی سال پہلے عالمی برادری کے تعاون کے ساتھ کرنا چاہیے تھا، جب شام کی خانہ جنگی شروع ہوئی تھی۔ اس کے برعکس انقرہ نے ترکی میں پناہ گزین کیمپ قائم کرنے کو ترجیح دی اور دیگر ملکوں کا تعاون حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ادلب سے مزید شامی پناہ گزینوں کی ترکی میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش خود انقرہ کیلئے سکیورٹی رسک بن جائے گی، کیونکہ پناہ گزینوں میں دہشت گرد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اردوان کہتے ہیں کہ سوچی معاہدے کی شرائط کو فعال بنانے کا واحد راستہ شہری آبادی پر سرکاری فوج کے حملے روکنا ہے۔ اردوان کی خواہش کے باوجود شامی فورسز شہری آبادی پر حملے جاری رکھ سکتی ہے تاکہ انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جائے، جس کے بعد وہ مسلح اپوزیشن کا وجود مٹانے کیلئے حملوں کا سلسلہ تیز کر دیں گی۔ وہ اس لئے بھی ایسا کر سکتی ہے تاکہ سرحد پر کثیر تعداد میں پناہ گزینوں کی موجودگی سے ترکی پریشان ہو۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے دوران پوتن نے جن موضوعات پر گفتگو کی، ان میں 2 باتیں قابل ذکر ہیں۔ ایک بات انہوں نے یہ کی کہ دونوں ملکوں نے ادلب سمیت شام کے دیگر علاقوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنے کا فیصلہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردوان سے گفتگو کے بعد پوتن نے اپنا ابتدائی موقف تبدیل کرنے کے بجائے ترکش صدر کو دہشت گرد گروپوں کے خاتمے میں تعاون کی دعوت دی۔ دوسرا پوتن نے سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2254 کا حوالہ دیا۔ ترکی کبھی اس قرارداد کا ذکر نہیں کرتا جس میں کہا گیا کہ القاعدہ اور حیات تحریر الشام جیسی دہشت گرد تنظیموں کو جنگ بندی کے باوجود ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ قرارداد کے تحت دہشت گرد تنظیموں  کے خلاف لڑائی جاری رکھنا ہر ملک کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے ترکی کے لئے شامی حکومت کے اقدامات کے خلاف اپنی شکایات دلائل کے ساتھ اٹھانا ممکن نہیں۔

ترکی کو سمجھ لینا چاہیے کہ شام سے آنیوالی ہواؤں کا رخ اس کے خلاف ہو رہا ہے۔ بیشتر مسلح گروپوں کو شکست دینے کے بعد اب شامی فورسز کا ہدف ادلب ہے۔ واحد مسلح گروپ جس پر شامی حکومت نے ابھی تک فوکس نہیں کیا، وہ کردوں کا ہے، تاہم ان کی نوعیت مختلف ہے۔ مسلح اپوزیشن کے ہر گروپ کے خاتمے کیلئے شامی فورسز کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ اس کوشش میں انہیں روس کا مکمل ساتھ حاصل ہے، کیونکہ حمیم ایئر بیس ادلب کے قریب ہے۔ ایک اور وجہ ادلب میں چیچن نژاد دہشت گردوں کی موجودگی ہے، اگر ان کا خاتمہ ادلب میں نہ ہو سکا تو وہ کسی بھی طرح واپس چیچنیا پہنچ سکتے ہیں۔ ماسکو کی اولین ترجیح یہی ہے کہ ادلب میں ہی ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔


ای پیپر