دسمبر کے زخم 
28 دسمبر 2020 2020-12-28

 سال کا آخری مہینہ دسمبر اپنے ساتھ بہت سی یادیں اور اداسیاں لے کر آتا ہے۔ قومی سطح پر ملنے والے کئی زخم ہرے ہو جاتے ہیں ۔ دسمبر شروع ہوتے ہی کچھ قومی سانحات اور شخصیات مجھے یاد آنے لگتی ہیں۔ 16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ کا المناک حادثہ ہوا تھا۔ ہمار ا ملک پاکستان دو ٹکروں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک ٹکڑا آج بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش کئی شعبوں میں ہم سے آگے نکل چکا ہے ۔اس کے ایک ٹکے کی قدر و قیمت پاکستان کے تقریباً دو روپے کے برابر ہو چلی ہے۔ سانحہ سقوط ڈھاکہ کو یاد کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ خیال آتا ہے کہ کس قدر محبت اور محنت کیساتھ قائد اعظم نے یہ ملک حاصل کیا تھا۔برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں نے اس کے حصول کیلئے کیا کیا قربانیاں دی تھیں۔تخلیق پاکستان کے محض 24 سال بعد ہم نے اس ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔اپنے گریبان میں جھانکنے اور اصلاح احوال کی کوئی سنجیدہ کاوش نہیں کی۔ آج بھی ہم اسی روش پر گامزن ہیں ، جس پر چل کر ہم اس المناک حادثے سے دوچار ہوئے تھے۔ کچھ برس سے فرق یہ پڑا ہے کہ ہم نے 16 دسمبر کی یاد منانے کا سلسلہ بھی ترک کر دیا ہے۔اس برس بھی سقوط ڈھاکہ کی یاد میں شاید ہی کوئی قومی سطح کی تقریب منعقد ہوئی ہو۔ دسمبر کی 16 تاریخ کو ہی سانحہ آرمی پبلک سکول ہوا تھا۔ دہشت گردی کا یہ افسوسناک واقعہ 2014 میں ہوا ۔ کم و بیش ڈیڑ ھ سو معصوم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان معصوموں کا خون ناحق بھی ہوا کا رزق ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد ہماری قومی قیادت مل بیٹھی ۔ بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان تشکیل پایا۔ مگر اس پلان کے بیشتر نکات پر آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ جس طرح ہمیں سیاسی اور صحافتی سطح پر سقوط ڈھاکہ کے ضمن میں مرتب کردہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کا تذکرہ دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات اور انکے نفاذ کا ذکر بھی سننے کو نہیں ملتا۔ 

  دسمبر کے مہینے میں مجھے اپنی پسندیدہ شاعرہ پروین شاکر بھی یاد آتی ہیں۔ 1994 میں 26 دسمبر کی صبح ایک ٹریفک حادثے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔پروین شاکر نہایت عمدہ شاعرہ تھیں اور ایک قابل سرکاری افسر بھی۔ سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے سے پہلے اپنی پہلی کتاب" خوشبو "کی وجہ سے مشہور ہو چکی تھیں۔ پاکستان اور بھارت میں انکی شاعری کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔ سنتے ہیں کہ جب مقابلے کا امتحان دے رہی تھیں تو امتحانی پرچے میں ایک سوال خود ان کی( پروین شاکر کی) شاعری سے متعلق تھا۔ پروین شاکر کی وفات کو چھبیس برس بیت چکے ہیں۔ اتنے برس گزرنے کے بعد بھی وہ اپنی شاعری کی وجہ سے زندہ ہیں۔ ان کی کتابیں آج بھی نہایت ذوق و شوق سے خریدی اور پڑھی جاتی ہیں۔

ماہ دسمبر ہی میں ہم نے محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی زیرک سیاستدان کو کھو دیا تھا۔مشرف دور آمریت میں کئی سال جلا وطن رہنے کے بعد محترمہ انتخاب لڑنے کیلئے وطن واپس آئی تھیں۔انتخابی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ 27 دسمبر 2007 میں انہوں نے راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ریلی سے واپسی پر وہ دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں۔برسوں پہلے 16 اکتوبر 1951 کو اسی جگہ ( کمپنی باغ میں) اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قاتلوں کا سراغ لگا یا جا سکا، نہ ہی پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی نشاندہی ہو سکی ۔ لیاقت علی خان گولی کا نشانہ بنے تو ان کے قاتل کو موقع پر ہلاک کر کے اصل قاتلوں تک پہنچنے کا راستہ بند کر دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئیں تو جائے حادثہ کو دھو کر شواہد مٹا دئیے گئے ۔ 

کیا کیا اعزازات تھے جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی وجہ سے پاکستان کے حصے میں آئے۔ محترمہ 35 برس کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ برسوں تک یہ اعزاز محترمہ (بلکہ پاکستان) کے ماتھے پر سجا رہا۔آج کل یہ اعزاز فن لینڈ کی وزیر اعظم کے پاس ہے۔ محترمہ کو یہ شرف بھی حاصل رہا کہ آپ اسلامی دنیا کی پہلی سربراہ حکومت منتخب ہوئیں۔ اگرچہ بعد ازاں حسینہ واجد اور خالدہ ضیا نے بھی بنگلہ دیش میں حکمرانی کی۔ تاہم اسلامی دنیا کی پہلی سربراہ حکومت ہونے کا اعزاز ہمیشہ پاکستان کے پاس رہے گا۔محترمہ کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا روشن چہرہ متعارف ہوا۔ آج بھی ان کا نام ہمارے لئے ایک قابل فخر حوالہ ہے۔ یہ سطریں لکھ رہی ہوں تو مجھے امریکی پروفیسر ڈاکٹر جین سے چند برس پہلے ہونے والی ملاقات یاد آ رہی ہے۔ دوران گفتگو جب اس نے کہا کہ پاکستا ن ایک قدامت پرست ملک ہے، جہاں خواتین کو کسی قسم کی آزادی اور حقوق حاصل نہیں، تو میں نے بتایا تھا کہ میرا ملک اتنا بھی قدامت پرست نہیں ہے ۔اسے جتایا تھا کہ ہمارے ہاں ایک خاتون ( بے نظیر بھٹو) دو بار ملک کی وزیر اعظم رہی ہے۔ جبکہ تمہارے ملک امریکہ میں آج تک کوئی خاتون سربراہ حکومت نہیں بن سکی۔مجھے یا د ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح ، بیگم نصرت بھٹو اوربیگم کلثوم نواز کی سیاسی جدوجہد کے تذکرے کے ساتھ میں نے ڈاکٹر جین سے مریم نواز شریف کاذکر بھی کیا تھا۔اسے کہا تھا کہ جس ملک کو تم قدامت پرست کہتی ہو اس کی سیاست پر نگاہ رکھنا، ہو سکتا ہے آنے والے برسوں میں اس ملک کو ایک اور خاتو ن وزیراعظم مل جائے۔ 

کچھ برسوں سے ملکی سیاست کا حال دیکھ کر بے نظیر بھٹو کی کمی شدت سے محسو س ہوتی ہے۔ خیال آتا ہے کہ کاش محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں۔ محترمہ کے سیاسی نظریات اور انداز حکمرانی سے اختلاف رکھنے والے بھی ان کی جمہوری جدوجہد سے انکار نہیں کر سکتے۔ بی بی جیسی تجربہ کار سیاسی راہنما کو کھو دینا واقعتا کسی المیے سے کم نہیں۔

کل27 دسمبر کوپیپلز پارٹی نے حسب روایت محترمہ بے نظیر بھٹو کی 13 ویں برسی منائی ہے۔ یہ برسی گزشتہ سالوں سے مختلف تھی۔محترمہ کی برسی میں اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نمائندوں کی شرکت نہایت اہمیت کی حامل تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نواز نے محترمہ کی برسی میں شرکت کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ یہ اچھی سیاسی روایت ہے۔ بے نظیر بھٹو اور مریم نواز دو مخالف جماعتوں کی نمائندہ ہیں۔ بلکہ یہ ایک دوسرے کی حریف جماعتیں ہیں۔ لیکن محترمہ کی روح کو اس حوالے سے یقینا خوشی ہو گی کہ ان کے بعد ایک اور خاتون میدان سیاست میں متحرک ہے اور انہی کی طرح عوام کے حق میں آواز بلند کرتی ہے۔ 


ای پیپر