وفاق صوبوں کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے؟
28 دسمبر 2019 2019-12-28

مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس دھواں دھار رہا۔ اجلاس میں ہونے والی بحث اور مختلف آئٹم سے پتہ چلتا ہے کہ صوبوں اور مرکز کے درمیان متعدد معاملات طے ہونا باقی ہیں جن پر کوئی فیصلہ نہ کرنے یا اعتماد میں نہ لینے کے نتیجے میں صوبوں میں بیگانگی بڑھ رہی ہے۔ نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بلانا ضروری تھا، تاکہ نئی حکومت صوبوں کو اپنی پالیسیوں سے متعلق بتا سکے اور انہیں اعتماد میں لے سکے۔ آئینی تقاضا بھی ہے کہ ہر تین ماہ بعد صوبوں کے درمیان معاملات حل کرنے سے متعلق اس اہم ادارے کا بلانا ہے۔ لیکن ہوتا یہ رہا ہے کہ نواز شریف ہوں یا عمران خان اس دارے کا اجلاس وقت پر نہیں بلایا گیا۔

حالیہ اجلاس میں آٹھ آئٹم ایسے تھے جو گزشتہ اجلاسوں سے چلے آرہے ہیں۔ پندرہ نئے آئٹم تھے۔اجلاس میں کسی بھی معاملے پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا گیا ۔وزیراعلیٰ سندھ نے زور دیا کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے۔ ایجنڈا کے مختلف آئٹموں اور صوبوں کی جانب سے اٹھائے گئے امور پر کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ہر معاملے پر کمیٹی بنانے سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت نے کسی بھی صوبائی معاملے پر ہوم ورک نہیں کیا ہوا ہے۔

پانی منصفانہ تقسیم کے معاملے پر زیادہ گرما گرمی رہی۔ ایک موقع پر ماحول میں اتنی گرما گرمی ہوئی کہ اجلاس آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کردیا گیا۔پانی کا معاہدہ 1991 میں نواز شریف کے دور حکومت میں ہوا تھا، جب سندھ میں جام صادق علی کی غیر مقبول حکومت تھی۔ اس معاہدے کی زیادہ تر شقیں پنجاب کے حق میں تھیں۔ لہٰذا سندھ کے ماہرین، اور سیاسی حلقوں نے اس معاہدے پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ بعد میں بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں غلام مصطفیٰ کھر وزیر پانی و بجلی بنے تو انہوں نے پانی کے تاریخی استعمال کا فارمولا دیا، جو 1991 کے معاہدے سے مختلف تھا۔ بینظیر نے عبوری طور پر یہ فارمولا منظور کیا لیکن یہی فیصلہ ہوا کہ پرانا معاہدہ برقرار ہے۔ مشرف دور میں اس معاہدے کے برعکس پانی کی تقسیم ہوتی رہی جو سندھ کے خلاف تھی۔ پانی کی تقسیم صرف معاہدہ کے پیرا ٹو کے تحت ہونی ہے۔ اب حکومت تین رخی فارمولا پرعمل کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لئے اٹارنی جنرل نے ایک رپورٹ بھی پیش کی۔ وزیراعظم کو پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ پانی کا معاملہ اتنا حساس ہے جس کا انہوں نے اظہار بھی کیا۔ سندھ کا موقف تھا کہ چشمہ جہلم کینال بجلی گھر کی تعمیر کے لئے ارسا این او

سی جاری نہیں کرسکتا ۔ سندھ کی اجازت کے بغیر این او غیر قانونی ہے۔ سندھ کا موقف ہے کہ چشمہ جہلم لینک کینال مستقل کینال نہیں اس کو صرف سیلاب کے موسم میں سندھ کی اجازت کے بعد کھولا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اس کینال پر بجلی گھر نہیں بنایا جاسکتا، وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اگر پانی نہیں دیں گے تو اپنے حلقہ انتخاب میںنہیں جا سکیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور تین وزراء نے پانی کے معاہدے کی مخالفت کی۔ کمیٹی قائم کی گئی۔ فہمیدہ مرزا اور محمد میاں سومرو نے سندھ کے موقف کی حمایت کی۔ اٹارنی جنرل کی رپورٹ کافی نہیں اب چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز، ماہرین اور ٹیکنیکل افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ارسا میںپنجاب کے نمائندے رائو ارشاد نے ڈیم بنانے کی بات کی تو وزیراعظم نے انہیں بات کرنے سے روک دیا۔ معاملے کو طول نہ دیں جب ڈیم کا معاملہ یہاں زیر غور نہیں تو اس پر کیوں بات کر رہے ہیں۔ بعد میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پانی معاہدہ سے متعلق ہمارے موقف سے اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ فورا ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا جائے۔

پانی کے بعد توانائی اور رائلٹی صوبوں اور وفاق کے درمیاں متنازع معاملات رہے ہیں۔ صوبوں کو رائلٹی دینے کے حوالے سے اے جی این قاضی فارمولے پر غور کیا گیا لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مشترکہ مفادات کی کونسل نے اصولی طور پر اتفاق کیا کہ واپڈا چیئرمین باری باری ہر صوبے سے ہوگا۔

سندھ کا مؤقف تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد محکمہ محنت صوبائی آئٹم ہے لہٰذا ای او بی آئی صوبوں کے حوالے کیا جائے۔ یہ معاملہ گزشتہ نو سال سے لٹکا ہوا ہے۔ تاہم بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب نے یہ ادارہ وفاق میں رکھنے کی رائے دی جس کے بعد یہ ادارہ وفاق کے پاس ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پیٹرولیم ایکسپلوریشن پر سندھ کے اعتراضات سننے کے لئے پیٹرولیم کے معاون خصوصی سے کہا گیا کہ وہ وزیراعلیٰ سندھ سے بات کریں۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ کے لئے صوبے قانون سازی کریں گے۔

اجلاس کے موقع پر اچھی بات یہ ہوئی کہ وزیراعظم کی چاروں وزراء اعلیٰ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو یہ شکایت رہی کہ وزیراعظم عمران خان نہ ملنے کے لئے وقت دیتے ہیں اور جب کراچی آتے ہیں تو انہیں نہ مدعو کرتے ہیں نہ سرکاری طور پر اطلاع دیتے ہیں۔ مراد علی شاہ یہ بھی کہتے رہے کہ وزیراعظم سندھ حکومت کے خطوط کا بھی جواب نہیں دیتے۔ جس کی وجہ سے صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان رابطہ نہیں رہتا۔ اس ضمن میں مراد علی شاہ کے پاس متعدد مثالیں اور واقعات موجود ہیں۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ملاقات میں دونوں نے اک دوسرے سے گلے شکوے کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب بھی کراچی آتا ہوں آپ نہیں ملتے۔ مرادعلی شاہ کا جواب تھا کہ آپ اپنی پارٹی کے اجلاس کے لئے آتے ہیں۔ وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ وہ 27 دسمبر کو کراچی آرہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی ہے میں راولپنڈی میں ہوں گا، ملاقات نہیں ہو سکے گی۔بعد میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کراچی میں بتایا کہ اب وزیراعظم کی کراچی آمد کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کو باقاعدہ دعوت نامہ بھیج دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم کسی اور تاریخ کو آئیں تو ان کا استقبال کروں گا۔ لہٰذا جو مفاہمت کی فضا مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر نظر آرہی تھی لگتا ہے کہ عملاً ایسا نہیں، وہ صرف دکھاوا تھا۔


ای پیپر