رانا ثناء اللہ۔۔ اوپر سے آرڈر آیا تھا
28 دسمبر 2019 2019-12-28

رول آف لاء یا قانون کی حکمرانی کا سیدھا سادہ تصور دو پہلوئوں سے دیکھا جاتا ہے پہلا تو یہ ہے کہ جس شخص نے جرم کیا ہے وہ سزا سے نہیں بچ سکے گا اس کا دوسرا پہلو یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ نے جرم نہیں کیا ہے تو آپ کو اس بات کا بلا خوف و خطر یقین ہونا چاہیے کہ آپ پر جھوٹا مقدمہ بنا کر سز ا نہیں دی جا سکتی۔ بد قسمتی سے پاکستان میںان دونوں پہلوئوں کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ملک کا چیف جسٹس ایک ہسپتال میں چھاپہ مار کر ملزم کے کمرے سے شراب کی بوتل برآمد کرتا ہے مگر لیبارٹری رپورٹ میں تحریری طور پر یہ نتیجہ آتا ہے کہ یہ شراب نہیں بلکہ زیتون کا تیل ہے ۔ دوسری طرف پولیس کا طریقہ واردات یہ ہے کہ Evidence یا ثبوت Create یا من گھڑت طور پر پیدا کر لیا جاتا ہے پولیس اپنے پاس سے اسلحہ یا منشیات ڈال کر جعلی ریکوری ظاہر کر کے ملزم کو چالان کرتی ہے اعترافی بیان بھی حاصل کر لیا جاتا ہے اور بے گناہ شخص کو سزا ہو جاتی ہے ۔ قانون کا چہرہ داغدار ہوتا ہے لیکن ایک بے گناہ اپنے اس گناہ کی سزا بھگت رہا ہوتا ہے ۔ جو اس نے کیا ہی نہیں تھا ۔ یہ ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ مگر ہمارے ہاں اس طرح کے واقعات عام ہیں۔ وہ منظر عام پر اس لیے نہیں آتے کہ ان میں ملوث کیے گئے ملزم کمزور ہوتے ہیں ان کی آواز دب جاتی ہے اور ریاست اپنے کار سرکار کی آڑ میں ہر طرح کی ظلم زیادتی اور نا انصافی کے با وجود یہ سب چلتا رہتا ہے ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ہائی پروفائل کیس میڈیا میں آ جاتا ہے اور وقتی طور پر پورے ملک میں طوفان کھڑا ہوتا ہے۔ کچھ دن کے لیے اس پر گرما گرم تبصرے اور فیچر لکھے جاتے ہیں اور اس کے بعد سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ کی منشیات کیس میں گرفتاری اور 6 ماہ بعد ضمانت پر رہائی نے ہمارے تفتیشی اور عدالتی سسٹم کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ اگر وہ بے گناہ تھا تو پکڑا کیوں تھا اور اگر وہ واقعی ملوث تھا تو پھر چھوڑا کیوں ہے۔ ان دونوں سوالوں پر حکومت کی شرمندہ شرمندہ سی وضاحتیں اطمینان بخش نہیں ہیں۔ جولائی میں رانا ثنا ء اللہ کی گرفتاری کے فوراً بعد نئی بات کے اسی صفحہ پر میں نے ایک کالم لکھا تھا کہ رانا صاحب حکومت کے خلاف جو زبان استعمال کر رہے تھے انہیں اس بات کا بخوبی ادراک تھا کہ حکومت ان کے خلاف کسی موقع کی تلاش میں ہے ۔ اس پس منظر میں میں نے لکھا تھا کہ رانا ثناء اللہ اتنا بچہ نہیں ہے کہ وہ 15 کلو ہیروئن گاڑی میں رکھ کر گھومے گا کہ آئو مجھے گرفتار کر لو۔ لیکن اس وقت ڈی جی اینٹی نارکوٹکس جو کہ ایک حاضر سروس جرنیل ہیں ان کی وزیر داخلہ کے ساتھ پریس کانفرنس دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ حکومت کے پاس ہر چیز کا ثبوت اور ہر سوال کا جواب موجود ہے ۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا حکومتی موقف کی دھندلاہٹ

میں اضافہ ہوتا گیا جس ویڈیو فوٹیج کے چرچے تھے وہ نہ عوام کو دی گئی نہ میڈیا کو اور نہ ہی عدالت کو۔ ہائی کورٹ میں ضمانت کا معاملہ پیش ہوا تو وہاں سوال ہوا کہ گرفتاری اور ریکوری کے بعد ملزم کا جسمانی ریمانڈ لینے کی بجائے اسے جوڈیشل کر کے جیل کیوں بھیج دیا گیا تو آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہ تھا ۔ اس کیس میں اے این ایف کی کارروائی انتہائی غیر پیشہ ورانہ بلکہ پنجاب پولیس سے بھی بد تر ثابت ہوئی ایسا لگتا تھا کہ اے این ایف نے حکم کی تعمیل کی کہ رانا ثناء اللہ کو گرفتار کر کے جیل پہنچانا ہے اللہ اللہ خیر صلا۔ انہوں نے اپنی ڈیوٹی پوری کر دی اب ملزم جانے عدالتیں جانے اور حکومت جانے۔

آج کل آپ نے دیکھا ہو گا جیسا کہ وزیر داخلہ شہریار آفریدی نے بھی فرمایا ہے کہ یہ ضمانتوں کا سیزن ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے یا حسنِ جمہوریت ہے کہ جس کی ضمانت ہو جاتی ہے وہ باہر آ کر خاموش اور رو پوش ہو جاتا ہے ۔ نواز شریف مریم نواز ، آصف زرداری جو بھی ضمانت پر نکلتا ہے گوشہ نشینی میں چلا جاتا ہے ۔ مگر رانا ثناء اللہ نے ضمانت پر رہا ہو کر جو سب سے پہلا کام کیا وہ پریس کانفرنس تھی جس میں قرآن ہاتھ میں اٹھا کر انہوں نے اپنا موقف پیش کیا کہ گرفتاری کے دن کیا ہوا تھا ۔ ان کے بیان اور ایف آئی آر میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ رانا صاحب کہتے ہیں کہ راوی ٹال پلازہ پر ان کے گن مین اور ڈرائیور کو گاڑی سے اتار کر ایک اہل کار ڈرائیونگ سیٹ پر آ گیا اور یوں انہیں تھانے لے جا کر بند کر دیا گیا بار بار پوچھنے پر یہی جواب دیا جاتا کہ اوپر سے آرڈر ہے۔

اس کے بر عکس ایف آئی آر کی مندرجات بڑے مضحکہ خیز ہیں جس میں گاڑی روک کر رانا صاحب کی شناخت کی گئی ان سے پوچھا گیا آپ کے پاس ہیروئن ہے انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پوچھا گیا کہاں ہے انہوں نے کہا نیلے رنگ کے بیگ میں ہے پھر پوچھا گیا وہ بیگ کہاں ہے ملزم نے کہا گاڑی کی سیٹ کے نیچے ۔ ملزم کو کہا گیا وہ بیگ ہمیں دے دو ملزم نے گاڑی کی سیٹ سے بیگ نکال کر حکام کے حوالے کر دیا ۔ کیا یہ کہانی ڈرامے سے زیادہ کوئی اہمیت رکھتی ہے ۔ ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت کی سماعت میں عدالت نے سوال کیا کہ ملزم کے ساتھیوں کی ضمانت کے خلاف حکومت ہائی کورٹ کیوں نہیں گئی تو جواب ندارد۔ عدالت نے کیس ناقابل ضمانت ہونے کے با وجود ضمانت لے لی کیونکہ انہیں کیس میں کوئی وزن یا objectivity سرے سے نظر ہی نہیں آئی۔ اس کیس نے اے این ایف کی کارکردگی کو گہرا زخم لگایا ہے۔

پاکستان میں اوپر سے آرڈر نے ہمیشہ میرٹ انصاف اور مثالی حکمرانی کا قتل کیا ہے ۔ اوپر سے آرڈر ہر دور ہر حکومت میں آتا ہے ۔ رانا ثناء اللہ کی اوپر سے آرڈر پر گرفتاری اس لیے بھی ثابت ہو رہی ہے کہ ان کے کٹر ترین مخالف عمران خان نے جلسہ عام میں اعلان فرمایا تھا کہ رانا ثناء اللہ کو تو میں مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت انتقامی گرفتاریوں کی جو روایت قائم کر رہی ہے اس کے سیاسی کلچر پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے اور اگر اگلے الیکشن میں یہ حکومت اقتدار سے محروم ہو گئی تو خدشہ ہے کہ انتقام کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو یہ سب جیل میں ہوں گے۔

ایک بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ اگر واقعہ حکومت رانا ثناء اللہ کو لمبے عرصے تک جیل میں رکھنے کی خواہش مند تھی تو اے این ایف کا سہارا لینے کی بجائے ماڈل ٹائون مقدمے کی پیروی کرتی تو شاید ان پر فرد جرم عائد ہو جاتی۔ اس کی وجہ ایک تو یہ سمجھ آتی ہے کہ معاملہ تاخیر کا شکار ہوتا دوسرا اس میں نواز شریف اور شہباز شریف کو بھی سزا ہونے کا خطرہ تھا اور حکومت کو یہ ڈر تھا کہ پھر ان سے ریکوری نا ممکن ہو جائے گی یہ جولائی کی بات ہے۔ پھر حکومت کو عدالتوں کے ساتھ مسائل تھے اور حکومت کو پتہ تھا کہ وہ اپنی مرضی کی سزا نہیں دلوا سکیں گے۔ اس وجہ سے ایک آسان شارٹ کٹ مگر غلط راستے کا انتخاب کیا گیا جس سے دفاعی اداروں کی ساکھ بھی مجروح ہوئی۔


ای پیپر