افغانستان صدارتی انتخابی نتائج
28 دسمبر 2019 2019-12-28

افغانستان میں عبوری طورپر صدارتی انتخابی نتا ئج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹر اشرف غنی دوسری مدت کے لئے ابتدائی نتائج کے مطابق صدر منتخب ہو گئے ہیں۔دو ، صدارتی امیدواروں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور حزب اسلامی کے سربراہ حکمت یار گلبدین نے انتخابی نتائج مسترد کر دئیے ہیں۔ڈاکٹر عبداللہ کے حامیوں نے ملک کے بعض حصوں میں نتائج کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات اسی سال اپریل میں ہونے تھے لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی وجہ سے دومرتبہ انتخابات ملتوی کئے گئے۔شنید یہی ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات اس وجہ سے ملتوی ہوتے گئے کہ واشنگٹن اور افغانستان طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں براہ راست مذاکرات جاری تھے ،امکان یہی تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پا جائیں گے اور پھر بین الافغان مذاکرات کے ذریعے قومی حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں تمام فریقین کو ان کا حصہ بقدر جثہ دیا جائے گا۔مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے باامر مجبوری افغانستان میں 28 ستمبر کو صدارتی انتخابات کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔یہ دن افغانستان کے لئے ایک خون ریز دن تھا،اس لئے کہ پولنگ کے روز درجنوں عام لوگ مارے گئے اور کئی زخمی بھی ہوئے۔کچھ کم تین مہینے بعد نتا ئج کا اعلان کیا گیا ہے ۔ افغانستان کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج میں تاخیر کی بنیادی وجہ بھی امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہی تھے۔اس لئے کہ واشنگٹن کوشش میں تھا کہ اگر افغان طالبان کے ساتھ معاہدہ ہو جائے تو قومی حکومت کی تشکیل میں آسانی ہو گی لیکن اس مرتبہ بھی کامیابی نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا گیا تاکہ ملک میں جاری حکومتی اور سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہو۔اگر حتمی نتائج میں بھی ڈاکٹر اشرف غنی پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حا صل کر جاتے ہیں تو پھر وہ اگلی مدت کے لئے حلف اٹھا کر دوبارہ صدر بن جائیں گے اگر وہ پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حا صل نہیں کرتے تو پھر انتخابات کا دوسرا مر حلہ ہوگا۔

اس وقت افغانستان کے پڑوسی اور دوست ممالک سیاسی طور پر انتشارکا شکار ہیں۔پاکستان میںاگر چہ سیاسی جماعتیں سڑکوں پر احتجاج کے لئے موجود نہیں لیکن حزب اختلاف کے رہنمائوں کی گر فتاریوں کی وجہ سے سیاسی درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ گیاہے۔ایران میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں ۔عالمی سطح پر بھی ان کے خلاف محاذ گر م ہے۔چین اور امریکا کے درمیان بھی کشمکش جاری ہے۔انڈیا میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بھر پور احتجاج کر رہے ہیں۔ایسی صورحال میں افغانستان میں صدارتی انتخابی نتائج کا اعلان وہاں امن ،حکومتی اور سیاسی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر چہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات چند ماہ کے

تعطل کے بعد دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ نئے سال کی پہلی سہ ماہی میں طالبان کے ساتھ معاہدہ ہو،تاکہ صدارتی انتخابات میں لوگوں کی ہمدردیاں اور ووٹ حاصل کر سکیں۔لیکن صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد امریکا کے لئے حالات کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔اگر حتمی نتائج میں بھی ڈاکٹر اشرف غنی کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہ حلف اٹھا لیتے ہیں تو پھر اقتدار کے کیک میں سے طالبان اور دیگر فریقین کو حصہ دینا امریکا کے لئے اگر ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہوگا، اس لئے کہ ڈاکٹر اشرف غنی منتخب ہونے کے بعد ہر گز اس بات پر راضی نہیں ہو نگے کہ کوئی ان کے ساتھ شریک اقتدار ہو۔ افغانستان میں صدارتی انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد لگ ایسے رہا ہے کہ امریکا اور افغانستان طالبان کے

درمیان براہ راست بات چیت ناکامی کی طرف جارہی ہے۔اگر دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کی کامیابی کا امکان ہوتا تو صدارتی انتخابات سے قبل معاملات طے پاجاتے ۔دو ماہ کے تعطل کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے بعد اگر کامیابی کی امید ہوتی تو صدارتی انتخابات کے نتائج میں مزید تاخیر کی جاتی لیکن نتائج کے اعلان کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ماضی قریب میں واشنگٹن اور افغانستان طالبان کے درمیان کو ئی بڑا بریک ترو ممکن نہیں۔یہ الگ بات ہے کہ صدارتی انتخابات میں قوم کی ہمدردیاں حا صل کرنے کے لئے ڈونلڈٹرمپ چند ہزار فوج یک طرفہ طور پر افغانستان سے واپس بلا لیں۔البتہ حتمی نتائج کی تلوار اب بھی ڈاکٹر اشرف غنی کے سر پر لٹک رہی ہے۔اگر حتمی نتائج میں بھی وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو

اس کا مطلب ہوگا کہ امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان براہ راست بات چیت کا یہ عمل مزید چند سال جاری رہے گا۔

صورت حال جو بھی ہو لیکن ایک حقیقت جو اب کھل کر سامنے آگئی ہے وہ یہ کہ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ خطے کا امن کابل کے پر امن ہونے سے وابستہ ہے اس نعرے کی اہمیت اب ختم ہونے والی ہے۔اس لئے کہ سرحد پار دراندازی کے جو الزامات کابل اور اسلام آباد ایک دوسرے پر لگایا کرتے تھے اس کا سدباب ہونے جارہا ہے۔حالات کروٹ لے رہے ہیں ۔ہر کوئی جنگ سے تنگ ہے۔لوگ اپنے حکمرانوں سے اب ایک دوسرے پر الزامات کی بجائے روزگار ،تعلیم ،صحت اور دوسری بنیادی انسانی سہولیات اور ضروریات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں جو رپورٹس آرہی ہیں ،اس نے وہاں کی عوام کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ حکمرانوں سے اپنے لئے بنیادی انسانی سہولیات کا مطالبہ کرنا ہے۔اگر ڈاکٹر اشرف غنی دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو ممکن ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ اور حکمت یار ان کے خلاف اسی محاذ کو سنبھال لیں۔اگر ان دونوں رہنمائوں نے عوام کا رخ اسی جانب موڑ دیا تو پھر صدر ڈاکٹر غنی کو افغانستان میں اچھی طرز حکمرانی ،لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور کر پشن کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے ہونگے۔پھر ممکن ہے کہ عالمی برادری بھی جو مالی امداد دے رہی ہے وہ بھی اس کے درست استعمال کا مطالبہ کریں۔لیکن پھر بھی حالات کا انحصار امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی ہی پر رہے گا۔جب تک یہ اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھے گا اس وقت تک افغانستان کے بارے میں حتمی طورپر کچھ کہنا ممکن نہیں۔


ای پیپر