شاگردان رشید کا خراجِ تحسین…!
28 دسمبر 2019 2019-12-28

ہادی برحق ، ختم المرسلین حضرت محمدؐ کا فرمان ِ مبارک ہے کہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ اس طرح معلم یا استاد کی نسبت براہ راست حضورؐ سے جُڑتی ہے جو اسے بلند مقام عطا کرتی ہے۔ اُستاد کو شاگردوں کا روحانی باپ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ان کی کردار سازی اور شخصیت نگاری میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کہنا شاہد غلط نہ ہو کہ شاگرد اپنے تعلیمی دورانیہ کے دوران کچھ اٹھکیلیاں اور ناز برداریاں بھی کرتے اور کراتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ بعض اوقات استاد ان کی دانستہ یا نادانستہ شرارتوں کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ استا د اپنے شاگردوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے اور استا د کی شخصیت کا کوئی نہ کوئی رنگ شاگردوں کی شخصیات میں جھلک رہا ہوتا ہے۔ تعلیم کے ابتدائی مراحل بالخصوص سکول و کالج کی تعلیم کے دوران شاگردوں کا اپنے اساتذہ کے ساتھ جو تعلق خاطر قائم ہوتا ہے اور اپنے طالب علم ساتھیوں سے دوستی انسیت اور خلوص و محبت کا جو رشتہ بنتاہے وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔ زمانے کے نشیب و فراز ہو ں، غم ِ عشق اور غم ِ روزگار کے معاملات و مسائل ہوں یا کسی اور طرح کے چیلنجز درپیش ہوں وہ اس تعلقِ خاطر کو معدوم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ ہاں البتہ یادیں اور باتیں کچھ دھندلا ضرور جاتی ہیں۔ پھر زندگی کی شاہراہوں پر رواں دواں رہتے ہوئے تین چار عشرے بیت جاتے ہیں تو کوئی ایسی شد ھ گھڑی آجاتی ہے، سرِ راہے کوئی اچانک ملاقات یا کسی حوالے سے رابطہ یا کوئی پیغام تو پھر پرانے اساتذہ کی شبیہیںہی ذہن کے نہاںخانے میں نہیں اُبھرنے لگتی ہیں بلکہ پرانے طالبعلم ساتھیوں کے نقش اور ان کی باتیں اور شرارتیں بھی یاد آنے لگتی ہیں اور جی چاہتا ہے کہ تین چار عشرے قبل کے اُس دور میں واپس پہنچ جائیں جب یہ سب کچھ انتہائی سہانا اور دلکش لگتا تھا۔ اب بالوں میں کچھ سفیدی جھلک رہی ہوتی ہے اور کچھ فراغت اور آسودگی بھی حاصل ہو چکی ہوتی ہے تو پرانے طالبعلم ساتھیوں سے میل ملاقات اور اپنے پرانے اساتذہ کے سامنے بیٹھنے اور ان کی قدم بوسی کرنے کی خواہش زور پکڑ لیتی ہے۔ آئی ٹی کی ترقی کے اس دور میں ہم جماعت ساتھیوں سے WhatsApp, facebook یا کسی اور Mode کے ذریعے رابطہ استوار کرکے کچھ گروپ بنا لیے جاتے ہیں۔ آپس میں رابطے مستحکم ہوتے ہیں تو مل بیٹھنے کے پروگرام بن جاتے ہیں جن میں پرانے اساتذہ کو مدعو کرکے ان کو خراج ِ تحسین پیش کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

میں نے یہ جو کچھ لکھا ہے یہ کچھ نہ کچھ اُس عمومی صورت حال پر صادق آتا ہے جو اکثر تعلیمی اداروں میںکسی حد تک آجکل ایک معمول کی صورت اختیار کیے

ہوئے ہے۔ قدیم طلباء باہم مل بیٹھنے یا اساتذہ کے اعزاز میں Get togather کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔بڑے تعلیمی اداروں میں کس حد تک اس معمول پر عمل ہوتا ہے میں اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ میں اپنے سابقہ تعلیمی ادارے ایف جی سر سید سیکنڈری سکول راولپنڈی جہاں میں نے اپنی حیات ِ مستعار کے 25قیمتی سال (اکتوبر 1969 تا اکتوبر 1994) درس و تدریس میں گزارے اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اس قابل فخر مادرِ عملی کے قدیم طلباء باہم مل بیٹھنے get togather اور اپنے بقید حیات سابقہ اساتذہ جو چند ایک ہی ہیں کو ان میں مدعو کرنے کی تقاریب اکثر منعقد کرتے رہتے ہیں۔ پچھلے ایک آدھ عشرے یا اس سے بھی کم عرصے میں اس طرح کی کم وبیش درجن بھر سے زائد تقریبات ہو چکی ہیں۔ صرف اسی سال 2019 میں ایف جی سر سید سیکنڈری راولپنڈی کے 3/4عشرے قبل کے میٹرک کے مختلف سیشنز جن میں 1980-81,1978-79, 1988-89,1982-83, اور غالباً 1992-93 کے سیشنز شامل ہیں کی میٹرک کی کلاسسز کے قدیم طلباء نے الگ الگ اپنی کلاسسز کی سطح پر باہم مل بیٹھنے اور بقید حیات اپنے اساتذہ کے اعزار میں تقاریب پذیر ائی کا انعقاد کیا ۔ میں بھی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ان میں شریک ہوا اور اپنے آپ کو اس عزت افزائی اور پذیر ائی کا حقدار نہ سمجھتے ہوئے بھی اپنے پرانے شاگروں کی طرف سے عزت افزائی کا حقدار گردانا گیا۔ اس ضمن میں تازہ تقریب پذیرائی اگلے روز ایف جی سرسید سیکنڈری سکول کے سیشن 1988-89 کی جماعت X-D جس کا میں ٹیچر انچارج تھا کے طلباء کی طرف سے تھی۔ جو خالصتاً میرے اعزار میں اور مجھے Guest of Honourقرار دیتے ہوئے منعقد ہوئی ۔ یہ عجیب اتفاق تھا کہ ایف جی سر سید کالج میں اسی دن کالج کی ایلومنائی کا سالانہ ڈنر جس میں ، میں مدعو کیے جانے کا ہر صورت حقدار تھا منعقد ہوا تو کچھ فاصلے پر جناح پارک کے ایک جدید ریسٹورنٹ میں میرے تین عشرے قبل کے عزیز شاگردان ِ رشید مجھ ناچیز کے اعزاز میں پرتکلف اعشائیہ میں میرے بارے میں انتہائی پر خلوص جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔یہ تقریب بلا شبہ بے مثال تھی اور تیس سال قبل کے تقریباً ڈیڑھ درجن شاگردان رشید جن میں تین حاضر فُل کرنل، دو یا تین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ، ایک ریٹائرڈ میجر ، دو بینکار، ایک حاضر سروس ڈسٹرک اینڈ سیشن جج ، دو کامیاب قانون دان، ایک سپیشلسٹ ڈاکڑ اور دو یا تین پرائیوٹ بزنس مین شامل تھے اس میں موجود تھے۔ انھوں نے بڑے خوب صورت اور دلکش انداز میں اپنی ماضی کی یادوں کو ہی تازہ نہیں کیا بلکہ اپنے کیریر کی جزئیات بیان کرنے کے ساتھ بڑے پر خلوص انداز میں بطور استاد میری اپنے پیشے سے کومیٹ منٹ ، اپنے شاگردوں سے لگائو ، عاجزی و سادگی اور شکرگزاری کے بارے میں بڑھ چڑھ کر اظہار خیال کیا۔تقریب کے کوارڈینٹر عزیزی راشد مشکور سمیت عزیزان گرامی عمران مشتاق، کاشف نعیم، جمیل حیات، امجد اسحاق، آصف گلزار، چوہدری طاہر، خالد منیر، سعید اختر اعوان، مجاہد محفوظ ذکا، عثمان تاج، سلمان زیدی اور شاہد رضوان کے نام لینا چاہوں گا جنھوں نے انتہائی ادب و احترام اور پرتپاک انداز سے میرے پذیر ائی کی۔ پر تکلف اعشائیہ اور میرے لیے ڈھیروں تحائف یقینا ان کی محبت ، خلوص اور اظہار تشکر کا ثبوت تھا لیکن زبانی کلامی انہوں نے میرے بارے میں جن جذبات و احساسات کا اظہارکیا وہ میرے لیے کہیں اس سے بڑھ قیمتی اور گراں قدر سرمایہ ہے۔ یہ عزیزان جن کے میں نے نام لیے عملی زندگی میں جیسے میں نے اوپر بیان کیا ہے انتہائی اہم اور ذمہ دار حیثیت سے ملک و قوم کی خدمت کرتے چلے آرہے ہیں۔عزیزی راشد مشکور جو سٹیشنری اور جنرل آرڈر سپلائیر کے پیشے میں ایک نیک نام اور کامیاب نوجوان کے طور پر جانے جاتے ہیں کی خواہش تھی کہ تمام ساتھی فرداً فرداً پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے ساتھ اپنے کیرئیر کے حوالے سے بھی گفتگو کریں۔ بلاشبہ ہر ایک کی چار پانچ منٹ کی گفتگو کے انداز میں ایک وقار ، رکھ رکائو اور اعتماد جھلک رہا تھا۔ کسی کو بھی میں نے اپنے مقدر یا زمانے سے شاکی نہیں پایا۔ آخر میں گفتگو کی میری باری تھی میں نے اپنی بے پناہ پذیر ائی پر جہاں ماضی کے ان شاگردان رشید کادلی شکریہ ادا کیا وہاں اپنی کم مائیگی اور ماضی کی کوتاہ بینی اور کچھ کچھ نا عاقبت اندیشیوں کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھا جسے ان شاگردان ِ رشید نے میری کسر نفسی پر محمول کیا۔ ایک بات میں نے بطور خاص کہی کہ انسان کو عاجزی کے ساتھ شکر گزاری اور دوسروں کی قدر افزائی میں کوئی کسر روا نہیں رکھنی چاہیے۔ میں نے اس نکتے پر بطور خاص زور دیا کہ بلند مناصب اور اعلیٰ عہدوں کی اپنی جگہ اہمیت ضرور ہے لیکن یہی سب کچھ نہیں ہے۔ اعلیٰ تعلیم ، بلند اخلاق، مضبوط کردار، ٹھوس فکر، مثبت سوچ ، دینی ، اخلاقی اور خاندانی روایات سے لگائو ، جذبہ حب الوطنی اور ملک و قوم کے مسائل سے گہر ا تعلق اور پرُ امیدی ایسی خصوصیات ہیں جو کہیں بڑھ کر قیمتی ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کہیں اعلیٰ عہدوں اور بلند مناصب اور شخصیت کے ان پہلووں کے مابین موازنے کی نوبت آجائے تو کسی کا ایک پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کسی کا کوئی دوسرا۔ انجامِ کار جمع تفریق کرنی پڑے تو حساب کتاب برابر آجاتا ہے۔ حساب کتاب برابر ہونے کی میری اس بات کو عزیز شاگردوں نے پسند کیا۔ ان کا تبصرہ تھا کہ خود اعتمادی ، بے نیازی اور جذبہ حب الوطنی اوراقدار و روایات سے محبت کی یہی سوچ جو طالبعلمی کے زمانے میں آپ نے ہمیں دی آج تک ہمارے لیے مشعل راہ ہی نہیں بلکہ ہمارے لیے باعث فخر بھی ہے اور ہمیں آپ پر ناز ہے۔


ای پیپر