آئین شکنی کی سزا موت، وعدہ شکنی کی سزا کیا ہے؟
28 دسمبر 2019 2019-12-28

یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں، کہ پاکستان حضرت قائداعظمؒ جیسے راست باز، پاک اور صاف وکیل نے بنایا تھا، لیکن اس وکیل میں جو ایک ”صفت“ موجود تھی کیا وہ ان کے بعد کسی سابقہ اور موجودہ وکیل میں موجود ہے؟ اور وہ صفت یہ تھی، کہ وہ جھوٹا کیس کبھی بھی نہیں لڑتے تھے، خواہ اُنہیں کتنی ہی خطیر رقم کی پیشکش کی جاتی، بلکہ حدتو یہ ہے کہ کئی دفعہ انہوں نے اپنی لی ہوئی کچھ فیس سائل کو واپس لوٹا دی، کہ یہ رقم اس فیس سے زیادہ ہے جتنا میں نے کیس لڑا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت قائداعظمؒ کو رسول پاک نے اپنی زیارت کے اعزاز سے نوازا اور اپنی شریعت مطہرہ پہ عمل پیروی کی سعادت سے بھی نوازا، اب کتنے وکیل ایسے ہیں کہ جن کو حضور کی زیارت نصیب ہوئی ہے؟ شاید ان وکلاءکو زیارت نصیب ہوئی ہے، جو تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں جیسے غازی علم الدین شہیدؒ کے وکیل یا موجودہ دور میں ممتاز قادریؒ کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ میاں نذیر اختر صاحب وغیرہ ۔ قائداعظمؒ تو ملک بنانے والے تھے، ملک توڑنے والے وکلاءذوالفقارعلی بھٹو شہید اور ان کے رفقائے کار کو ان کی تمام تر خدمات کو سراہنے کے باوجود مثلاً انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بناکر ناقابل تسخیر بنادیا ، اور قادیانیوں کو کافر قرار دیا، آپ سقوط ڈھاکہ میں ان کا ذکر کرنے سے اجتنابی پہلوتہی تو نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے چند ایک عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس صاحبان ہیں جن کو عوام اچھے لفظوں سے یاد کرتے ہیں، اور وہ جج بننے سے پہلے وکیل بھی رہ چکے ہیں، وطن عزیز میں ایسا وکیل بھی موجود ہے کہ جو اکثر چیف جسٹسزکے بچوں کا چاچا کہلاتا ہے، آج کل مشرف کو جناب آصف سعید کھوسہ کی جانب سے یہ کہنے پہ کہ ان کا چھ سالوں سے لٹکا ہوا مقدمہ بھی احتساب عدالت سنانے لگی ہے، فروغ نسیم جیسے حکومتی وزراءجو کبھی مشرف کے وکیل تھے، اب حکومت کے وکیل ہیں، کھوسہ صاحب کے ان الفاظ یہ معترض ہیں، کہ چیف جسٹس نے احتساب عدالت پہ اثرانداز ہونے کی کوشش ہے، فروغ نسیم جو بظاہر سلجھے اور سنجیدہ انسان نظر آتے ہیں وہ اپنے اس کردار پہ بھی غور کریں، کہ وہ حکومتی امور میں کبھی ”ایشو“ کے حق میں اور خودہی اس کی مخالفت میں بیان دے رہے ہوتے ہیں، کہ کسی طرح وہ کابینہ کے ”معمار“ کی اچھی کتاب میں شامل رہیں، حالانکہ متحدہ سے تعلق رکھنے والے اس وزیر کی جماعت نے تحریک انصاف کے جلسوں کو الٹانے اور ان کے کارکنوں کو لٹکانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

مشرف کی پھانسی کی سزا ، جوکہ ناممکنات میں سے ہے، وہ اس لیے کہ اس پہ ابھی اپیل کا مرحلہ جو ہائیکورٹ سے شروع ہوکر سپریم کورٹ تک جائے گا اور پھر صدر پاکستان کا یہ صوابدیدی اختیار ہے، کہ وہ سزائے موت کو عمر قید میں بدل دے، اب دارومدار حکومت وقت پہ یعنی عمران خان کی صوابدیدپہ آگیا ہے اور فروغ نسیم کو قانونی وزیر ومشیر ہونے کی حیثیت سے سید مظفرعلی شاہ مشورہ دیتے ہیں، کہ وطن پاک کے حالات جس سمت میں جارہے ہیں بلکہ جس نہج پہ پہنچ چکے ہیں، بتا دینا چاہیے کہ

جھونپڑی کے باسیوں کو زلزلوں سے کیا ڈر

چارہ گر تو کوئی ڈھارس صاحب ایواں کو دے

پھوڑ ڈالیں گے جنوں میں تیری دیواروں سے سر

ایسے دیوانوں کے آنے کی خبر”زنداں“ کو دے

بات جب دیوانوں کی ایوانوں تک نہ پہنچ سکے، تو اس کو مزید کریدنے کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں کرتا، کہ ہانگ کانگ ، میکسیکو، وینزویلا ، فلسطین، شام، مصر اور افغانستان وغیرہ کے عوام، جو سڑکوں میں آکر قانون اپنے ہاتھوں میں لینے لگے ہیں، ان عالمی حالات وواقعات جن میں سرفہرست آج کل ہندوستان ہے، اس احتجاجی دور میں ہم بھڑکتی آتش فشانی آگ کی تپش سے خود کو کیسے دور کرسکتے ہیں بقول بھارتی شاعر

جلتا ہوا گھر میرا کچھ دیکھ کے کہتے ہیں

کیا آگ سنہری ہے، کیا آنچ سہانی ہے

قارئین بات ہورہی تھی، جنرل ریٹائرڈ سید مشرف حسین شاہ کے دورروشن خیالی جیسے چالیس سالہ کارناموں کی ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چالیس سالہ مدت ملازمت کے دوران، مثلاً کوئی جج کوئی جرنلسٹ، اور کوئی جنرل اپنے اٹھائے گئے حلف سے جو وہ اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکر پوری قوم کے ساتھ اٹھاتا ہے، جس میں مشترکہ طورپر سب یہ کہتے ہیں کہ میں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گا اور پھر یہ کہہ کر کہ بہتر سال میں پہلی دفعہ عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پہ ہے، اور پوری کابینہ کو جی ایچ کیو میں بلا لیتے ہیں، اور پھر جمہوری مارشل لا لگا کر ہمارے ملک کو دنیا کے لیے ایک مذاق اور مثال بنادیتے ہیں۔

جنرل مشرف کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلے میں حکومت اگر غیرجانبدار رہتی تو زیادہ بہتر تھا، کیونکہ اس معاملے میں دخل اندازی مستقبل میں تحریک انصاف کو انصاف میں اثرانداز ہونے کا تاثر دے گی، اور جیسا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اگر معمولی اور موہوم سی بھی عقل ودانش موجود ہوتی، تو حزب اختلاف کے ہرردعمل سے درگزر کرنے کے بجائے، فردوس عاش اعوان ، جن کے بیانات اخلاقی خط غربت کی لکیر سے بہت نیچے ہوتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مراد سعید اور وکلاءاور ڈاکٹرز کی حالیہ ”جنگ میسور“ کے ہیرو اور تمغہ شجاعت کے حکومتی نامزد غازی کے جوابی حملے اور اخلاقی حدودوقیود کے اندرتک پیش قدمی سونے پہ سہاگہ ثابت ہوتی ہے۔

قارئین ،چونکہ ہمارا آج کا موضوع جنرل مشرف کی سزا سے متعلق ہے، اس کا سیدھا سادا جواب تو میری نظر میں یہ ہے کہ پورے پاکستان کو امریکہ کی گود میں ڈال دینا، سانحہ لال حویلی، جس پر محض ان کی پانی اور بجلی بند کرکے قابو پایا جاسکتا تھا، اپنے ادارے کو استعمال کرتے ہوئے انہیں زندہ جلا دینا شاید غداری نہیں، مگر کسی بھی حکومت کا تختہ الٹنا، آئین شکنی تو ضرور ہے جس کا فوج میں شامل ہوتے وقت جنرل مشرف نے حلف اٹھایا تھا ،چودھری شجاعت حسین سانحہ لال حویلی کے باوجود بھی اگر مشرف کی حمایت کرتے ہیں، تو یہ اس اصول کی خلاف ورزی ہے کہ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے، کہ مسلمان کو سچ بات کہنی چاہیے خواہ اس کے باپ کے ہی خلاف کیوں نہ ہو.... اس لیے تو میرا ایمان ہے کہ کلمہ حق کی توفیق دینا عین رحمت خداوندی ہے، حق یہ ہے، کہ تحریک انصاف نے تیس سال سے قوم سے جو وعدے کیے تھے، جن میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا، اس وعدے خلافی کی سزا کیا ہے؟

لمحہ فکر تو یہی ہے منٹو پارک میں لاکھوں لوگوں کو جمع کرنے والی قوت اب شہروں میں مشرف کے حق میں ریلیاں نکلوا رہی ہے۔


ای پیپر