قائداعظم کا تصور نظام پاکستان ! (دوسری و آخری قسط)
28 دسمبر 2019 2019-12-28

28مارچ 1948ءمیں ڈھاکہ میں خواتین کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان قائداعظم ؒنے فرمایا”قوم کی تعمیر اور اس کے استحکام کے عظیم اور کٹھن کام کے سلسلے میں خواتین کو انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے، خواتین قوم کے نوجوانوں کے کردار کی معمار ہوتی ہیں ، جو مملکت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ حصول پاکستان کی طویل جدوجہد میں مسلمان خواتین اپنے مردوں کے پیچھے مضبوطی سے ڈٹی رہی ہیں، تعمیر پاکستان کی اس سے بھی سخت اور بڑی جدوجہد میں جس کا اب ہمیں سامنا ہے، یہ نہ کہا جائے کہ پاکستان کی خواتین کسی معاملے میں پیچھے رہ گئی ہیں یا اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر ہیں، وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے کی وجہ سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں؟ ۔ وہ کون سی چٹان ہے جس پر اُن کی ملت کی عمارت استوار ہے؟ وہ کون سا لنگر ہے؟ وہ لنگر خدا کی کتاب قرآن کریم ہے، مجھے یقین ہے جُوں جُوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد ہوتا جائے گا، ایک خدا، ایک کتاب اور اُمت بھی ایک ہوگی،....کی نجات ایمان اتحاد اور تنظیم میں پنہاں ہے، میں آپ سے اپیل کرتا ہوں اور قوم کے نام پیغام دیتا ہوں کہ اپنے آپ میں جذبہ وجوش پیدا کریں اور حوصلے اور اُمید کے ساتھ اپنا کام کرتے چلے جائیں، ان شاءاللہ کامیابی ہماری ہی ہوگی، کیا ہم مایوس ہوکر بیٹھ جائیں؟ ہرگز نہیں ....اسلام کی تاریخ مستقل مزاجیوں سے بھری پڑی ہے، پس مشکلوں، مصیبتوں اور رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھتے جاﺅ، مجھے یقین ہے سات کروڑ کی ایسی متحد قوم جو عظیم ارادوں کی مالک ہو، عظیم تہذیب رکھتی ہو، عظیم تاریخ کی وارث ہو، اُسے کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیے، اب یہ آپ پر ہے کہ کام کریں، اور دل لگاکر کام کریں، کامیابی ہمارا مقدر ہے، اور اپنا یہ نعرہ کبھی نہ بھولیے۔ اتحاد ، ایمان اور یقین، یہی نعرہ ہماری منزل کی ضمانت ہے ....17مارچ 1948ءکو قبائلی جرگہ پشاور سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا ”چوربازاری ایک لعنت ہے، میں جانتا ہوں چوربازاری کرنے والے اکثر لوگوں کو پکڑا جاتا ہے، اُنہیں سزا دی جاتی ہے اور کبھی کبھی حوالات میں بھی بند کردیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی جرمانہ بھی کیا جاتا ہے لیکن اس موذی مرض سے نمٹنے کے لیے زیادہ سختی کی ضرورت ہے۔ چوربازاری آج معاشرے میں ایک زبردست جُرم کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ بالخصوص ہمارے بگڑے ہوئے حالات میں جبکہ ہم خوراک اور دوسری ضروریات زندگی کی چیزوں کی قلت کا شکار ہو گئے ہیں، پاکستان کا جو شہری چوربازاری کا ارتکاب کرتا ہے وہ میرے خیال میں گھناﺅنے سے گھناﺅنے جرم سے زیادہ بڑا جرم کرتا ہے۔ یہ لوگ خوراک اور دیگر اشیائے خوردنی کی ترسیل اور بہم رسانی کے پورے نظام کو درہم برہم کرکے اجتماعی بھوک محتاجی حتیٰ کہ انسانوں کی موت کا سبب بنتے ہیں، یہ لوگ عموماً بڑے ذہین ہوتے ہیں، اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کے لیے سخت سزائیں دی جائیں، اور ان کا قلع قمع کیا جائے، قدرت نے ہمیں صنعت کے لیے خام مواد کے بے پناہ ذخائر عطا کیے ہیں۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ان ذخائر اور وسائل کو مملکت اور عوام کی بہبود کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال میں لائیں،.... قدرت نے پاکستان کو بے حساب معدنی دولت سے نوازا ہے اور یہ زمین کے نیچے پڑی انتظار کررہی ہے کہ کھود کر استعمال میں لایا جائے، ....13جنوری 1948ءکو اسلامیہ کالج پشاور کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اُصولوں کو آسانی سے اپنا سکیں، پاکستان کا آئین بھی مجلس دستورساز کو بنانا ہے، میں نہیں کہہ سکتا کہ اس آئین کی حتمی شکل کیسی ہوگی؟ لیکن میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ آئین جمہوری طرز کا ہوگا، اور اسلام کے لازمی اصول اس میں شامل ہوں گے۔ یہ اُصول آج بھی زندگی میں اُسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح تیرہ سو سال قبل تھے، .... اپنی تقدیر ہمیں اپنے منفرد انداز میں بنانی پڑے گی، ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہوگا، جو اسلامی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو، ایسا نظام پیش کرکے گویا ہم مسلمانوں کی حیثیت میں اپنا سچا فرض ادا کریں گے۔ انسانیت کو سچے اور صحیح امن کا پیغام دیں گے کہ صرف ایسا عمل ہی انسانیت کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچا سکتا ہے، صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے سات کروڑ کی آبادی ایک متحدہ قوم اور عظیم ارادے کی مالک ہوگی، اور یہ قوم عظیم تہذیب رکھتی ہے، اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیے، اب یہ آپ پر ہے کہ کام کریں، کام کام کام، کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ اور اتحاد، ایمان، تنظیم ، اپنا یہ نعرہ کبھی نہ بھولیے گا، .... 25جنوری 1948ءکو بار ایسوسی ایشن کراچی سے خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا ” میں اُن لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا جو دیدہ ودانستہ اور شرارت سے یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا گیا ،اسلام کے اُصول عام زندگی میں آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہیں جس طرح تیرہ سوسال پہلے تھے، میں ایسے لوگوں کو جو بدقسمتی سے گمراہ ہوچکے ہیں، یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ غیر مسلموں کو بھی کوئی ڈرخوف نہیں ہونا چاہیے ۔ اسلام اور اس کے نظریات نے ہمیں جمہوریت کا سبق دے رکھا ہے، ہر شخص سے انصاف، رواداری، اور مساوی برتاﺅ اسلام کا بنیادی اصول ہے، پھر کسی کو ایسی جمہوریت مساوات اور آزادی سے خوف کیوں لاحق ہو جو انصاف رواداری اور مساوی برتاﺅ کے بلند ترین معیار پر قائم کی گئی ہو، ....مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے بے شمارمسائل پیدا کردیئے ہیں، اور اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ مغرب کو تباہی سے اب کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظریہ اور نظام اختیار کیا تو عوام کو پُرسکون خوشحالی حاصل کرنے کے لیے نصب العین کی تکمیل میں ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی، اپنی تقدیر اپنے منفرد انداز میں ہمیں خود ہی بنانی پڑے گی، ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے، جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو، ایسا نظام پیش کرکے گویا ہم مسلمانوں کی حیثیت میں اپنا فرض ادا کریں گے۔ انسانیت کو صحیح اور سچے امن کا پیغام دیں گے۔ اسلام ہماری زندگی اور ہمارے وجود کا بنیادی سرچشمہ ہے، اسلام نے ہمیں ثقافتی اور تہذیبی ماضی اور ہماری گزشتہ روایات کو عرب دنیا سے اتنا وابستہ گہرا اور قریب کررکھا ہے کہ اس امر میں تو کسی کو کوئی شبہ ہی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم عربوں اور ان کے مسائل ومقاصد سے مکمل ترین ہمدردی رکھتے ہیں، میرا ایمان ہے ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر عمل کرنا ہے جو ہمارے عظیم پیغمبر نے ہمارے لیے قائم رکھا ہے!!(ختم شد)


ای پیپر