Source : Facebook Official

غیر مستحکم داخلی صورتحال سے پاکستان کا عالمی تصور بحال نہیں ہو گا :شاہ محمود
28 دسمبر 2018 (19:59) 2018-12-28

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک 42 سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے ہیں، بدقسمتی سے ہم ترقی کے میدان میں دیگر ممالک سے پیچھے ہیں، غیر مستحکم داخلی صورتحال منفی تشخص کی وجہ بنی، داخلی صورتحال پر توجہ دیے بغیر خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکتی،انہوں نے یہ پاکستان کیلئے خطرے کی بات ہے اگر ٹی وی اسکرین پر افراتفری دکھائی دے، اگر بین الاقوامی میڈیا پر پاکستان کی میگا کرپشن کی داستانیں فرنٹ پیج کی زینت بنیں،وہاں ناقص حکمرانی کے تذکرے ہوں تو تو چاہے کتنے ہی قابل سفارتکار ہوں پاکستان کا عالمی تصور بحال نہیں ہو پائے گا۔

وفاقی دارالحکومت میں سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ غیر مستحکم داخلی صورتحال عامی سطح پر پاکستان کے منفی تشخص کا موجب بنی۔ داخلی صورتحال مدنظر رکھے بغیر موثر خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔ ہماری حکومت کو ریکارڈ تجارتی خسارہ ورثے میں ملا، قرض اتارنے کیلئے مزید قرض درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ 21 ویں صدی ایشیا کی صدی ہے، ایشیا میں ہر سال 476 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔ بدقسمتی سے ہم ترقی کے میدان میں دیگر ممالک سے پیچھے ہیں۔ہم نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک 42 سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔

گلوبل ٹریڈ میں پاکستان کا شیئر 0.12 فیصد ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان 16 بار آئی ایم ایف کے پاس گیا اور 17 ویں بار جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مستحکم داخلی صورتحال منفی تشخص کی وجہ بنی، داخلی صورتحال پر توجہ دیے بغیر خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔ ایک موثر خارجہ پالیسی نہیں بن سکتی جب تک آپ داخلی معاملات کو مدنظر نہیں رکھ سکتے، اگر داخلی صورتحال صحیح نہیں ہے تو جتنے بھی قابل سفارتکار کیوں نہ ہوں وہ توقعات کے مطابق کام نہیں کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ داخلی اور خارجی پالیسی کے اس تعلق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر ٹی وی اسکرین پر افراتفری دکھائی دے، اگر بین الاقوامی میڈیا پر پاکستان کی میگا کرپشن کی داستانیں فرنٹ پیج کی زینت بنیں ،وہاں ناقص حکمرانی کے تذکرے ہوں تو تو چاہے کتنے ہی قابل سفارتکار ہوں پاکستان کا عالمی تصور بحال نہیں ہو پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے ضرروی ہے کہ ہم بیرونی اور اندرونی معاملات کی مطابقت کو سمجھیں اور اگر ایسا نہیں ہوسکا تو ٹریول ایڈوائزریز مسلط ہوتی رہیں گیں اور ممالک اپنے عوام کو یہاں سفر کرنے سے روکیں گے جس سے غیرملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔وزیر خارجہ نے کہا گزشتہ 10 سالوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری گرتی چلی آئی ہے کیونکہ یہ اعتماد کا فقدان ہے۔


ای پیپر