ملک کے ساتھ مخلص ہو نے کی ضرورت
28 دسمبر 2018 2018-12-28

ستر سال سے نظام چلانے کے نام پر جو کھلواڑ اس ملک کے ساتھ کھیلاگیا ہے اُس کے نتائج آج یہ حاصل ہوئے ہیں کہ ہم دوسرے ممالک سے قرضے لینے کے لئے مارے مارے پھررہے ہیں۔ ڈیم بنانے کے لئے ملک کے چیف جسٹس کو خود باہر نکلنا پڑاہے۔ قوم خوش ہو رہی ہے کہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لائی جائے گی۔ ہر آنے والی حکومت قوم کو بہت دُکھ کے ساتھ آگاہ کرتی ہے کہ ہمیں خزانہ خالی ملا ہے۔ لہٰذا قوم اپنا کردار ادا کرے اور ملکی خزانے کو پھر سے بھرنے کے لئے چندے اور ڈونیشنز دے۔اس قوم نے ملک کے قیام کے لئے قربانیاں دیں۔ سرحدوں کی حفاظت کے لئے شہید ہونے والے ہمارے بچے بھی اسی قوم نے دیئے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی فوج اس لئے قومی فوج ہوتی ہے کہ وہ اُس قوم کے بچوں ہی پر مشتمل ہوتی ہے ۔ بہر طور قوم سے کبھی قرض اُتارو ، ملک سنوارو کے نام پر پیسے مانگے جاتے ہیں تو کبھی کسی اور ضرورت کے تحت قوم کو دھر لیا جاتا ہے۔ اب ہماری قوم تبدیلی کے فُل موڈ میں ہے۔ بلکہ قوم تبدیلی لاچکی ہے۔ نئی حکومت ہے نئے جذبے ہیں، نئے وعدے ہیں جو ایفا ہونے ہیں۔ قوم ڈیم بھی بنانا چاہتی ہے۔ قوم کرپٹ لوگوں کا خاتمہ بھی چاہتی ہے۔ قوم یہ بھی چاہتی ہے کہ ہماری ریاست کے کسی سربراہ کو غیروں کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے گویا قوم اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتی ہے۔ یہ سب باتیں اچھی، خوبصورت اور دلفریب باتیں ہیں۔ ایسی باتیں کسی بھی قوم کا دل موہ لینے کے لئے کافی ہیں۔ قوم کو تین وقت کی عزت کی روٹی چاہئے ہوتی ہے اور عزت کی روٹی کبھی مانگنے سے نہیں ملتی۔ اس کے لئے قوم کوکام کرنا ہوتا ہے۔ کام کرنے کے لئے ملازمت کے مواقع درکار ہوتے ہیں۔ انصاف پر مبنی معاشر ے کی تعمیر کرنا ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر وہ ترجیحات سیٹ کرنا ہوتی ہیں جن سے کوئی بھی معاشرہ بنتا ہے اور معاشرہ بنانے کے لئے مخلص لوگوں کی ضرورت ہوا کرتی ہیں اور ایسے لوگ آسمانوں سے من و سلویٰ کی طرح برسائے نہیں جاتے بلکہ قوم ایسے لوگ سالہا سال کی ریاضت اور محنت سے تیار کرتی ہے۔ گرومنگ کرتی ہے۔ تاکہ وہ لوگ قومی ترقی کے معاملات کو بہتر انداز سے چلا پائیں۔ لیکن ہماری قوم ابھی تک اپنی ترجیحات واضح نہیں کرپائی۔ قوم ابھی دوہری شہریت کا خاتمہ ہی نہیں کرپائی۔ جن لوگوں کا سب کچھ باہر ہو ۔ جائیدادیں باہرہوں بچے باہر ممالک میں سیٹ ہوں بلکہ وہاں کے شہری ہوں، اُنہیں پاکستان کا دُکھ درد اُس طرح سے محسوس نہیں ہوسکتا ، اُن کے مقابلے میں جن کا مرنا جینا 

پاکستان ہی میں ہے اُن کی اولادوں نے اسی ملک میں رہ کر زندگی کو گھسیٹنا ہے۔ یا زندگی نے اُن کو گھسیٹنا ہے۔ گویا اُن کی کامیابی اسی ملک میں ہیں وہ اس ملک کے دُکھ سُکھ اور تکلیف کو زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور بھارت کے شہری جب کسی دوسرے ملک کی شہریت لیتے ہیں تو اُنہیں اپنے ملک کی شہریت سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ پھر اُس کے بعد اُنہیں جب بھی اپنے شہر یا گاؤں آنا ہوتا ہے تو وہ ویزہ لگوا کر اپنے ملک آتے ہیں ۔ کلیدی عہدوں پر تعینات لوگوں کی اپنی دوہری شہریت تو درکنار اُن کے اہل خانہ یعنی بلڈ ریلیشنز میں سے بھی کسی کی دوہری شہریت نہیں ہونی چاہئے۔ اُن کی بیرون ملک جائیدادوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کسی کو ملک میں اقتدار میں رہنے کا شوق ہویا عہدوں کے فوائد کے حصول میں وہ پاکستان کارڈ، کھیلتے ہیں تو اُن کا سب کچھ پاکستان کے اندر ہی ہونا چاہئے۔۔ تبھی یہ ممکن ہو پائے گا کہ وہ پاکستان کے اندر پالیسیاں بناتے ہوئے اور ان پالیسیوں کو رائج کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں گے اور اگر اُنہیں ذرا بھی شائبہ ہوا کہ پالیسیاں قوم کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہیں تو وہ کبھی ایسی پالیسیاں نہیں بننے دیں گے۔

قومیں تب بنتی ہیں جب قوم کے رہنماؤں اور بڑوں کو قوم کے ایک ایک پیسے کی فکر ہو اور وہ اُس کو لو ٹ مار کا پیسہ سمجھ کر اڑاتے نہ پھریں۔ بان�ئ پاکستان محمدعلی جناح کو ناسازیِ طبیعت کی بنا پر جب ڈاکٹر نے زیارت کے صحت افزا مقام پر کچھ عرصے کے لئے منتقل ہونے کے کے لئے کہا توزیارت پہنچ کر کمرے تک جانے کے لئے قُلی کی خدمات لی گئیں۔ جسے ان کے اے ڈی سی نے طے شدہ معاوضے سے تھوڑے سے پیسے زیادہ دے دیئے تو اس پر قائد نے ناگواری کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح سے لوگوں میں محنت کرنے کی عادت نہیں رہتی ہے اور وہ اپنے استحقاق سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش میں مگن ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا مزدوری اتنی ہی دیں جتنی بنتی ہے۔

ایک مرتبہ کھانے کی میز پر گورنر جنرل کو محسوس ہوا کہ آج کھانے میں ایک ڈش فالتو ہے، انہوں نے اے ڈی سی سے پوچھا اس نے بتایا کہ محترمہ فاطمہ جناح کی فرمائش پر یہ ڈش بھی بنا دی گئی تو قائداعظم نے کھانے کی میز پر بیٹھے بیٹھے ہی اپنی بہن فاطمہ جناح کو آئندہ ایسا کرنے سے منع کیا کہ گورنر جنرل کے لئے کھانا وہی بنے گا جو مینو میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی وہ فضول خرچی کے خلاف تھے ۔ سرکاری وسائل کابے دریغ استعمال کرنے کے بارے میں ان کے ہوتے ہوئے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ لہٰذا صرف جناح کیپ پہن کر کوئی جناح نہیں بن جاتا ۔ جناح کے وژن اور افکار پر عمل پیرا ہو کر جناح کے پاکستان کو مضبوط بنانے کی سعی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنی کاوشوں میں تب تک کامیاب نہیں ہو پائیں گے جب تک ہم من حیث القوم اپنی نیتوں کو درست نہیں کرلیتے۔ بدنیتی پر مبنی کوئی پالیسی، کوئی منصوبہ، کوئی فیصلہ یا کوئی اقدام بہتری نہیں لاسکتا۔ ہمیں دل سے ٹھیک ہونا ہے۔ آئین اور قانون کی پاسداری کو خود پر لاگو کرنا ہے دوسری صورت میں آنیاں جانیاں لگی رہیں گی نہ قومی وقار میں اضافہ ہوگا اور نہ عمومی حالات میں بہتری آئے گی اورہم خدانخواستہ دوسری قوموں سے پیسے نکلوانے کے مختلف طریقوں کے بارے میں ہی سوچتے رہیں گے۔ لہٰذا ہمیں وہ کام کرنے ہیں جو کرنے والے ہیں۔ کاسمیٹکس ، کاسمیٹکس ہی ہوتے ہیں۔ اس سے عارضی طور پر ظاہری امیج بن جاتا ہے لیکن قوم نہیں بنتی ، ملک نہیں بنتے اور ریاستوں میں وہ حمیت پیدانہیں ہوتی جس کی کسی بھی آزاد اور خود مختار ریاستوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ سوچئے اور اپنا اپنا کردار ادا کیجئے۔


ای پیپر