افغانستان آگ پر تیل کیوں ڈال رہا ہے؟
28 دسمبر 2018 2018-12-28

گزشتہ چند بر سوں سے افغانستان میں قیام امن کے لئے جاری کو ششوں میں تیزی آئی ہے۔کابل کو پرامن بنانے کے لئے متعلقہ فریقین میں بات چیت میں تیزی کی وجہ علاقائی ممالک چین ،روس ،ترکی ، ایران اور خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔ان ممالک کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کو اب ختم ہو نا چاہئے۔اس لئے کہ اب یہ ممالک جنگ کی بجائے معیشت کے ذریعے دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔اس کے کئی اسباب ہیں۔ جس میں ایک ان ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار دینا بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک کابل میں امن چاہتے ہیں تاکہ وسطی ایشیاء اور یورپ تک سڑک اور ریل کے ذریعے اپنا کا روبار وسیع کرسکے۔لیکن گز شتہ چار بر سوں میں جب بھی ان ممالک نے پاکستان کی مدد سے کابل کو پر امن بنانے کے لئے بات چیت کا آغاز کیا ہے ، افغانستان نے اس کو سبو تاژ کرنے کی کو شش کی ہے۔ان چار بر سوں میں تین مر تبہ افغانستان میں امن کے قیام کے لئے مثبت کو ششیں کی گئی ،جس میں سے دو مرتبہ کابل نے خود ان مذاکرات کو ناکام بنایا اور اب تیسری مرتبہ پھر بات چیت کے اس عمل کو آگ لگانے کے لئے ماچس ہاتھ میں لئے کھڑا ہے۔

آپ کو یاد ہو گا کہ 2015ء میں چین کے شہر ارومچی میں چین، پاکستان اورافغان طالبان کے نما ئندوں کے درمیان ملا قات ہو ئی تھی۔اسی ملا قات کے نتیجے میں جو لائی 2015 ء میں پاکستان ،چین اور افغان طالبان کے درمیان مری میں مذاکرات ہو ئے۔ان مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ رمضان کے بعد بات چیت کا دوسرا دور ہو گا۔مگر ان مذاکرات کو افغانستان نے سبوتاژ کیا۔مری مذاکرات کے چند دن بعد افغانستان کی حکومت نے سرکاری طور پر افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی وفات کا اعلان کیا۔اس اعلان کے بعد مر ی مذاکرات ختم کر دئیے گئے۔اگر کابل اس آگ پر تیل نہیں چھڑکتا تو ممکن ہے کہ آج افغانستان میں حالات مختلف ہو تے۔دسمبر 2015 ء میں اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا ء کانفرنس کے دوران افغانستان میں قیام امن کے لئے چارملکی رابطہ گر وپQuadrilateral Coordination Group ) تشکیل دے دیا گیا۔پہلا اجلاس 11 جنوری 2016ء کو اسلام آباد میں ہوا۔اس اجلاس میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری،افغان ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کر زئی، پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکی نمائندے رچرڈاولسن اور افغانستان کے لئے چین کے نمائندے ڈینگ ژی جن نے شرکت کی۔ دوسرا اجلاس18 جنوری2016 ء کوکابل میں ہو ا ،جس میں اعزاز احمد چوہدری نے پاکستان کی نما ئند گی کی۔افغان نائب وزیر خارجہ اور کابل میں امریکی سفیر مائیکل مے کنلے نے بھی ان مذاکرات میں حصہ لیا۔چارملکی رابطہ گر وپ کا تیسرا سیشن6 فروری کو اسلام آباد میں ہو ا ۔ اس میں بھی 

چاروں ملکوں کے نما ئندوں نے شرکت کی۔چوتھا اجلاس 23 فروی کوکابل میں ہوا۔ جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بر اہ راست مذاکرات مارچ میں ہو نگے۔اس اجلاس میں طالبان کو یہ بھی بتایا گیا کہ وہ مارچ میں ہو نے والے مذاکرات کے لئے اپنے نما ئند ے نامز د کردیں۔چار ملکی مذاکرات کا پانچواں اجلاس اپریل 2016 ء میں اسلام آباد میں شیڈول تھا کہ اچانک افغانستان نے اس اجلاس میں شرکت سے معذرت کردی۔ پاکستان اور چین چند دنوں تک سفارتی محاذ پر کوشش کرتے رہے۔دونوں ممالک کی کو ششیں جاری تھیں کہ 22 مئی 2016 ء کوامریکہ نے ڈرون حملہ کر کے افغان طالبان کے امیر ملااختر منصور کو قتل کر دیا۔ملا منصور کو مارنے کے بعد چار ملکی رابطہ گروپ غیر فعال ہوا ۔یوں مری مذاکرات کے بعد کابل اور واشنگٹن کی حماقت سے قیام امن کا یہ موقع بھی ضا ئع کیا گیا۔

اب ایک مر تبہ پھر مذاکراتی عمل جاری ہے۔امریکا اور افغان طالبان نے پرانے اور سخت گیر موقف سے دستبردار ہو کر براہ راست بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔واشنگٹن نے منجھے ہو ئے سفارت کار زلمے خلیل زاد کو مذاکراتی عمل کا سربراہ نامز د کیا ہے۔پاکستان،چین ،روس،ایران ،ترکی اور خلیجی ممالک پوری طر ح کو شش کر رہے ہیں کہ امن کا یہ منصوبہ کا میاب ہو۔ ان کی کوشش ہے کہ عبوری نظام قائم کیا جائے ۔اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو چند مہینوں کے لئے ملتوی کر دیں،لیکن مذاکرات کے آخری پڑاؤ میں کابل نے چند ایسے اقدامات اٹھا دئے ہیں کہ جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ افغانستان نے ایک مر تبہ پھر جلتی پر تیل ڈالنے کا فیصلہ کیاہے۔

افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے اس نازک صورت حال میں پاکستان مخالف امر اللہ صالح کو وزیر داخلہ جبکہ اسد اللہ خالد کو وزیر دفاع نامز کیا ہے۔مو جودہ صورت حال میں پاکستان مخالف جذبات رکھنے والے اشخاص کو اعلی عہدوں پر تعینات کرنااس بات کی عکاس ہے کہ کابل صلح کے لئے تیار نہیں۔ا شرف غنی کو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں یہ شکایت ضرور ہے کہ ان کو ان بورڈ نہیں لیا جارہا ہے ، جو کہ جائزشکوہ بھی ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام آباد اس کا قصور وار نہیں۔اس لئے کہ اسلام آباد اس بات کا ہر گز حامی نہیں کہ کابل کو مذاکرات سے دور رکھا جائے۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو چاہئے کہ وہ اپنا احتجاج امریکا کے سامنے ریکارڈ کرے۔ ان سے مطالبہ کرے کہ افغانستان کی حکومت کو بھی مذاکرات کا حصہ بنا یا جائے، کیونکہ اصل مدعی اور فریق امریکا اور افغان طالبان ہیں۔ پاکستان صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ابھی چند روز قبل قندھار میں کالعدم تنظیم کا رکن اسلم مارا گیا۔ان کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ گز شتہ مہینہ کراچی میں چین کے قونصل خانہ پر ہو نے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ہندوستان میں زیر علاج تھا۔وہاں سے چند ہفتے قبل قندھار آیا تھا۔پوری دنیا کو معلوم ہے کہ ہندوستان اور افغانستان پڑوسی ممالک نہیں ۔ دونوں ممالک کے درمیان کو ئی مشترکہ سرحد بھی نہیں۔پھر کیسے وہ قندھار آیا؟ظاہر سی بات ہے کہ ہندوستان، افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ افغانستان کی ذمہ داری تھی کہ مو جودہ حالات میں ایک ایسے دہشت گر د کو اپنی سر زمین پر ہر گز پناہ نہ دیتے کہ جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملو ث ہو ۔جس کی سر کی قیمت سرکار نے مقرر کی ہو۔

ڈاکٹر اشرف غنی کے ان اقدامات سے لگ رہا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات سے چند ماہ قبل ہونے والے اس امن بات چیت سے خوش نہیں۔ ان کی کو شش ہے کہ وہ دوسری مرتبہ بھی صدر منتخب ہوں۔ ان کے تمام شکایات کا براہ راست تعلق امریکا سے ہے ۔ لیکن امریکا سے شکایت کرنے کی بجائے وہ پاکستان کے خلاف اقدامات کررہے ہیں۔شاید اس وجہ سے کہ واشنگٹن کے سامنے وہ بے بس ہیں۔اس لئے ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ اسلام آباد کو اشتعال دلائیں،جس کے نتیجے میں امن کا یہ عمل روک جائے۔میرے خیال میں اسلام آباد کبھی بھی ڈاکٹر اشرف غنی کی حما قتوں یا پاکستان مخالف اقدامات کی وجہ سے امن کے اس عمل کو ادھورا نہیں چھو ڑے گا۔


ای پیپر