اکاؤنٹس سکینڈل ، بلدیاتی ادارے کرپشن کے گڑھ
28 دسمبر 2018 2018-12-28

وزیراعلیٰ سندھ پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ نیب کی انکوائریوں کی وجہ سے ڈر کے مارے سندھ میں افسران کام ہی نہیں کر رہے ہیں۔ اب جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کل 172 افراد کے نام شامل ہیں ۔ چونکہ یہ اومنی گروپ، اور زرداری کمپنی کے خلاف رپورٹ ہے لہٰذا اس میں تقریبا تمام نام سندھ سے ہیں۔ اومنی گروپ کو سستی قیمت پر سرکاری چینی دلانے، مختلف مدوں میں سبسڈی دینے اور قرض دینے کے معاملات شامل ہیں لہٰذا خیال کیا جارہا ہے کہ کئی افسران بھی شامل ہیں۔ تھر کول پروجیکٹ اور بحریہ ٹاؤن کے معاملات بھی اس لپیٹ میں آگئے ہیں۔ جے آئی ٹی میں جن لوگوں کے نام لئے گئے ہیں وفاقی کابینہ نے ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔کراچی میں ایم کیو ایم کے سابق رہنما علی رضا عابدی کے مسلح افراد کے ہاتھوں قتل نے نہ صرف کراچی میں امن و امان بلکہ سیاسی صورتحال کو بھی نیا رخ دے دیا ہے۔ واٹر کمیشن سرگرم ہے۔ نتیجے میں مختلف شہروں اور قصبوں میں پینے کے پانی، نکاسی آب اور صفائی کے منصوبے بھی اسکروٹنی میں آرہے ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی واٹر اینڈ سینیٹیشن اور کراچی واٹر بورڈ میں گزشتہ دس سال کے دوران کی گئی بھرتیوں اور ترقیوں کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ دو سو سے زائد ادویات نایاب جبکہ متعدد کی قیمتوں مین بیس سے لیکر چالیس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ 

’’ بلدیاتی اداروں کو زیادہ کارآمد بنانے کی ضرورت ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ صوبائی دارلحکومت کراچی، سمیت حیدرآباد، میرپورخاص، سانگھڑ، سکھر، مورو اور دیگر شہروں میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں۔ ضمنی انتخابات بلدیاتی نظام کی اہم ضرورت تھی جو اب پوری ہوگئی ہے۔ اب جب یہ فورم مکمل ہو چکے ہیں تو اس کا فائدہ عام لوگوں کو بھی ملنا چاہئے، جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ شاید ہی کوئی روز ایسا گزرتا ہو جب کسی نہ کسی شہر میں لوگ گٹر وں کے ابلنے، معصوم بچوں کے مین ہول میں گرنے، گند اور کیچڑ کے خلاف احتجاج کر کے انتظامیہ کو اسکی ذمہ داری یاد نہ دلاتے ہوں۔ ان عوامی احتجاجوں کے باوجود عوام کو شہری سہولیات کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی ہے۔ 

یہ درست ہے کہ بلدیاتی نظام آمریت کے دور کی پیداوار سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظام ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے نام پر عوام پر مسلط کیا تھا۔ یہ لطیفہ اپنی جگہ پر ہے کہ غیر جمہوری نظام میں جمہوری نظام کی کیٹگری زیادہ توجہ کا مرکز رہی ہے۔کیونکہ غیر جمہوری دور میں آمر اس نظام کو عوام سے رابطے کی پل کے طور پر اس نظام کو استعمال کرتے تھے۔ اور اس نظام کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے تھے۔ آمر ضیاء نے پھر شوریٰ کے نظام کا سہارا لیا۔ بعد میں جنرل مشرف نے ضلع حکومت کا نظام نافذ کر کے عوام کے دروازے پر اختیارات لانے کے خالی اعلانات کئے۔ عملی طور پر وڈیروں اور سرداروں کو اضلاع کا ’’ظل الٰہی ‘‘مقرر کر کے حکومت کے اندر حکومتیں بنا دیں۔ 

بلدیاتی نظام جمہوری حکومتوں کے دور میں بھی کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ہے۔ اس نظام کے بعض نقائص اگر دور کردیئے جائیں تو یہ نظام نہایت ہی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ عوامی نچلی سطح پر اپنے نمائندوں کے ذریعے بنیادی سہولیات حاصل کر سکتا ہے۔ ماضی میں مختلف حلقوں کو اس نظام کو ناک میں نکیل ڈال کر اپنی مرضی کے مطابق چلا کر اپنی تجوڑیاں بھری ، آج بھی اس نظام کو افسرشاہی کا محتاج بنایا ہوا ہے۔ صوبائی حکومت اس نظام کے گلے پر سے لات ہٹانے کے لئے تیار نہیں۔ٹی ایم ایز منتظمین کے لئے یہ ادارے اے ٹی ایم بنے ہوئے ہیں۔ کروڑہا روپے کا بجٹ کہاں جاتا ہے۔ کچھ پتہ نہیں۔ ایک چیز واضح ہے کہ یہ رقم شہروں اور ان کی آبادی کو بنیادی سہولیات پہنچانے کے خرچ نہیں ہورہی۔ یہی وجہ ہے کہ قصبے اور گاؤں تو دور کی بات چھوٹے بڑے شہر بھی گندگی کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں۔ فنڈز لکڑ ہضم پتھر ہضم منتظمین کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے چھوٹے ملازمین خاص طور پر صفائی کرنے والے عملے کو کئی ماہ تک تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ تنخواہیں نہ ملنے پر یہ عملہ اکثر احتجاج کرتا رہتا ہے۔ 

اس محکمے میں گزشتہ دس سال کے دوران جو کرپشن ہوئی ہے اور غیر قانونی بھرتیاں ہوئی ہیں ، ملازمتیں فروخت ہوئی ہیں اس کا اندازہ کرپشن کیسز اور انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹس سے لگایا جاسکتا ہے۔اس عرصے کے دوران سندھ میں نوکریوں کی دکانیں کھل گئی تھیں ۔ مسلم سفید پوش نوجوانوں کو بھی سینیٹری ورکرز کی ملازمتیں دی گئیں۔جن میں سے اکثر تنخواہ والے روز بینک پر کرصرف تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ وہ نہ ڈیوٹی کے پابند ہیں اور نہ انہیں پابند کیا جارہا ہے۔ اگر ان پر زیادہ دباؤ ڈالا جاتا ہے تو اپنے حصے کا ایک تنخواہ دار ذاتی طور رکھ لیتے ہیں۔جو صفائی کا کام کرتا ہے۔ مطلب انہوں نے ملازمت لیز پر دی ہوئی ہے۔ 

ہم سمجھتے ہیں کہ فنڈنگ وغیرہ کے حوالے سے بلدیاتی اداروں کو افسرشاہی کا محتاج بنانے کے بجائے ان اداروں کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔ 

’’خواتین کو علاج معالجے کی سہولیات کا معاملہ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ چنگچی اور فٹ پاتھوں کو بچوں کو جنم دینے کے واقعات سندھ میں رونما ہو رہے ہیں۔ یہ لاپروائی اس لئے کی جارہی ہے کہ سرکاری صحت مراکز میں ایسی صورتحال پیدا کی گئی ہیں کہ خواتین کے لئے کارآمد نہیں رہے۔ ہسپتالوں کا کام حاملہ عورتوں کو سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن آج بھی ہماری ہسپتالیں علاج گھر کے بجائے کوس گھر بنی ہوئی ہیں۔چک گاؤں کی خاتون کو زچگی کے لئے پی پی ایچ آئی کے صحت مرکز رستم لے جایا گیا جہاں پر لیڈی ڈاکٹر نے زچگی کرانے سے انکار کردیا۔ خاتون کو سکھر لے جایا جارہا تھا کہ اس نے چنگچی میں ہی بچے کو جنم دے دیا۔ سندھ میں محکمہ صحت کو اربوں روپے کا بجٹ ملتا ہے، لیکن سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر کیس اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔


ای پیپر