کون بنے گا سلفر بادشاہ؟
28 دسمبر 2018 2018-12-28

بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک چھوٹے سے شہر کی پرسکون گلیوں میں ایک دیوانہ سائیکل پر پھرا کرتا تھا۔ وہ جب بھی سکول جانے والے بچوں یا پڑھے لکھے نوجوانوں کو دیکھتا تو ان کے پاس سائیکل روک کر بڑی سنجیدگی سے بلند آواز میں تقریر شروع کردیتا۔ وہ سائنس کے مختلف فارمولے چیخ چیخ کر دہراتا اور دعویٰ کرتا کہ ایک دن انہی سائنسی فارمولوں کی ایجادات اور برکات کے باعث وہ بادشاہ بن جائے گا۔ وہ دیوانہ اپنی سائنسی تقریر میں کیمیائی پاؤڈر ’’ سلفر‘‘ یعنی گندھک کا بہت ذکر کرتا۔ اس چھوٹے سے شہر کی پرسکون گلیوں کے مکینوں کا خیال تھا کہ اس دیوانے نے ابتدائی جماعتوں میں سائنس پڑھی تھی مگر بعد میں اس کے دماغی تار ہل گئے۔ وہاں کے لوگ اسے ’’ سلفر بادشاہ‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ ہر عہد میں ہماری سیاست کی میلی چادر پر بھی کئی ایسے نام موجود رہے ہیں جنہیں وزارت عظمیٰ یا وزارت اعلیٰ کے سپنے دکھائے گئے مگر سپنے تو پھر سپنے ہوتے ہیں، آنکھ کھلی تو ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسے سیاسی ’’ سلفر بادشاہ‘‘ یاتو مخصوص کام لینے کے بعد نُکرے لگا دیے جاتے ہیں یا چھوٹی موٹی پروٹوکول والی گاڑیوں کے ہچکولوں پرہی انہیں گزارہ کرا دیا جاتا ہے۔ گویا یہ وہ حضرات ہوتے ہیں جو سیاسی عروج کے حوالے سے نامکمل رہ گئے ہوتے ہیں اور انہیں ادھوری اعلیٰ شخصیات کہا جاسکتا ہے۔ اِن ادھوری اعلیٰ شخصیات کے سینوں میں ابتدائی جماعتوں میں پڑھے سیاسی سائنسی فارمولے انگارے بن کر مسلسل دہکتے رہتے ہیں اور وہ چلّا چلّا کر بادشاہ بننے کی تراکیب بتاتے رہتے ہیں۔ ایسے سیاسی ’’ سلفر بادشاہوں‘‘ یا ’’ادھوری اعلیٰ شخصیات‘‘ کا ایک نفسیاتی مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بااختیار افراد یا اداروں کی خوشامد میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور بادشاہ بننے کے لیے کسی بھی سازش کا حصہ بننے کو ہردم تیار رہتے ہیں۔ سازش کا یہ پراجیکٹ مخالفین کو لتاڑنے کے علاوہ ان کی اپنی پارٹی یا اتحادی قیادت کے خلاف بدگمانی پھیلانے کا بھی ہوسکتا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ بااختیار افراد یا ادارے خوشامد سے زیادہ اپنی ٹارگٹ ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر خوشامد کرنے 

والے ماضی میں اہلیت پر پورے اترے بھی ہوں تب بھی بڑھاپے اور بوسیدہ تصویر ہو جانے کے باعث ان کو ضرورت نہیں سمجھا جاتا۔ اپنی ہی پارٹی یا اتحادیوں کے اندر بدگمانی پھیلانے کا یہ پراجیکٹ اِن دنوں’’ ففتھ جنریشن ہائبرڈ وارفیئر‘‘ کے تحت بہت ہی مہلک ہتھیار بن گیا ہے۔ شیخ رشید اور پرویز الٰہی اُن سیاست دانوں میں سے ہیں جن کے سیاسی کلاس فیلو وزرائے اعظم یا صدر بن گئے لیکن یہ دونوں سیاسی فارمولے پڑھتے اور پڑھاتے ہی رہ گئے۔ مطلب یہ کہ محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو، نواز شریف، ظفر اللہ خان جمالی، چوہدری شجاعت حسین، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی، عمران خان اور آصف علی زرداری نے انہی کے ساتھ یا ان کے بعد سیاست شروع کی اور وزارتِ عظمیٰ یا صدارت تک پہنچ گئے جبکہ ہر طرح کی جائز و ناجائز کوششوں کے بعد بھی شیخ رشید اور پرویز الٰہی پیا کے من کو نہ بھانے کے باعث سہاگن نہ بن سکے۔ اب نہ جانے وہ کسی پراجیکٹ کا حصہ ہیں یا بوڑھی عمر میں بیتی جوانی کے چِلّوں کے علم سے اپنے ہی پیاروں کے اندر بدگمانی پھیلا کر اپنی ادھوری اعلیٰ شخصیت کی فرسٹریشن نکال رہے ہیں۔ یہاں اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ پرویز الٰہی اپنی سیاسی جنگ و جدل میں اپنی خاندانی روایات اور وضع داری کو پس پشت نہیں ڈالتے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں زمینی حقائق کے مطابق پنجاب کی قیادت کے لیے شہباز شریف کا توڑ پرویز الٰہی کے علاوہ کوئی نہ تھا لیکن عمران خان نے شاید کسی درپردہ خطرے کے باعث اپنے اس اہم سیاسی اتحادی کو نظر انداز کیا۔ یہ نظر اندازی اب پرویز الٰہی کی فرسٹریشن بن کر پی ٹی آئی میں بدگمانی پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے پرویز الٰہی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ پنجاب کے موجودہ گورنر محمد سرور پر پنجاب کے کمزور وزیر اعلیٰ کے کاموں میں مداخلت کا الزام لگاتے نظر آئے۔ حال ہی میں پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی کو ایک مرتبہ پھر فلیٹ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان کی عالمی سطح پر تنہائی کے خاتمے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کردار ہے۔ افغانستان، کرتارپور راہداری اور خطے کے ممالک سے بہتر تعلقات میں آرمی چیف کی خاموش ڈپلومیسی کا عمل دخل ہے۔ قومی سلامتی اور یکجہتی کے لیے جنرل باجوہ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی‘‘۔ پی ٹی آئی کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جو ملکوں ملکوں جہاز اڑاتے پھر رہے ہیں اور کامیابی کے پیراشوٹ گرا رہے ہیں ان کے لیے یہ بیان ایک آئینہ ہی ثابت ہو اہوگا۔ نیز یہ کہ کرتارپور راہداری کے افتتاح کا جو جمہوری جھنڈا عمران خان اپنی سول حکومت کے ماتھے پر سجانا چاہتے ہیں انہیں ’’میں بولوں کہ نہ بولوں‘‘ کے معنی سمجھ آگئے ہوں گے۔ شیخ رشید کا بیان ہمیشہ وضع داری کے بغیر شدید غصے والا ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے عمران خان کو وارن کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے لئے پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دےئے۔ انہوں نے عمران خان کی مستقبل میں کسی بھی ممکنہ پیش قدمی کے آگے خاردار تار لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ عمران خان سے کوئی این آر او سرزد نہیں ہوگا۔ شیخ رشید کی بھی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ اپنی سادگی کی انتہا وفاقی وزیر اطلاعات بن کر چاہتے تھے حالانکہ دیکھا جائے تو موجودہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری عمران خان کے لیے زیادہ قابل بھروسہ ہیں۔ سیاسی روحانیت کے عاملو ں کی فرانزک رپورٹ کے مطابق پرویز الٰہی اور شیخ رشید کی وائرل ہونے والی ویڈیوز کی تکنیک ایک جیسی ہی ہے۔ شیخ رشید اور پرویز الٰہی کی اپنی اتحادی قیادت کے حوالے سے بدگمانی پھیلانے والی ’’ففتھ جنریشن ہائبرڈ وارفےئر‘‘ کی یہ وارداتیں عادتاً ہیں یا وہ وفاقی وزارت اطلاعات اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہیں۔ دیوانِ خاص کے کچھ چوب داروں کے نزدیک یہ دونوں مستقبل کے کسی نئے سیٹ اپ میں بڑی چھلانگ کے لئے اپنی اہلیت ثابت کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ تاہم مقابلہ جاری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون بنے گا سلفر بادشاہ؟ شیخ رشید زندہ باد، چوہدری پرویز الٰہی پائندہ باد۔ 


ای پیپر