ایک یاد گار تقریب۔۔۔ !
28 دسمبر 2018 2018-12-28

ضلع کچہری راولپنڈی سے صدر کی طرف جاتے ہوئے مال روڈ پر کوئی ایک آدھ فرلانگ کے فاصلے پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بالمقابل فیڈرل گورنمنٹ سرسید کالج 195 دی مال کی عمارت 22 دسمبر کی شام کو روشنیوں سے بُقعہ نور بنی ہوئی تھی اس لیے کہ سرسید کالج کے قیام کے 50 سال (1968-2018 ) مکمل ہونے پر سرسیدین ایلومینائی کے تحت منعقدہ اس کی گولڈن جوبلی کی اہم ترین تقریب ’’گولڈن جوبلی ڈنر‘‘ کا انعقاد ہو رہا تھا۔ اس شام مال روڈ پر رواں دواں زیادہ تر گاڑیوں کا رُخ سر سید کالج کی طرف تھا ۔ تقریب کے شرکا اور مہمان کالج گیٹ کے سامنے گاڑیوں سے اُتر رہے تھے یا ہمسائے میں ایف جی سرسید گرلز سیکنڈری سکول جس کے وسیع لان اور گراؤنڈز میں پارکنگ کا انتظام کیا گیا تھا اپنی گاڑیاں پارک کرنے کے بعد پیدل چل کر سرسید کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہے تھے۔ کالج کے گیٹ پر سکیورٹی کے بھرپور انتظامات تھے ۔ کالج کے مین گیٹ سے لے کر پرنسپل کے پرانے آفس اور اُس کے سامنے لان کو بڑی کینٹوپی سے ڈھک دیا گیا تھا ۔ سٹیج کو جانے والے راستے کو چھوڑ کرلان میں اور ملحقہ پختہ جگہوں پر بڑی تعداد میں گول میزیں لگی ہوئی تھیں جن پر سرسید سکول و کالج میں پچھلے ادوار میں زیرِ تعلیم سٹوڈنٹس کے سیشن وار بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا اس کے علاوہ چند ایک ٹیبل سرسید سکول و کالج کے سابقہ و موجودہ سٹاف کے لیے مختص تھے ۔ مرکزی سٹیج کے ساتھ بھی دونوں طرف صوفوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی جس پر ریٹائرڈ اساتذہ اور دوسرے مہمان ٹھس کر تشریف فرما تھے۔

بلا شبہ یہ ایک یاد گار تقریب تھی جس کی تیاریاں اور انتظامات کئی دنوں بلکہ ہفتوں سے جاری تھے۔ اس کے لیے فیڈرل گورنمنٹ سرسید ڈگری کالج کے موجودہ پرنسپل پروفیسر محمد نعیم اور اُن کا سٹاف ہی سرگرمِ عمل نہیں تھا بلکہ سرسید سکول و کالج کے قدیم طلباء میں سے تشکیل شُدہ آرگنائزنگ کمیٹی کے چئیرمین نامور قانون دان و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سید ذوالفقار عباس نقوی کی سربراہی میں سیکریٹری جنرل آگنائزنگ کمیٹی ندیم منصور DGM ، وائس چئیرمین انیق صابر اور سرسیدین ایلومینائی کے اہم ارکان میں سے کیپٹن ریٹائرڈ انور پاشا ، جناب افضل ملک، فیاض اکبر جعفری، صبور ملک، سردار شوکت پوپلزئی ، فرقان شاہد ، طاہر مسعود ملک، طاہر خان، کرنل (ر) اعجاز، طارق عبید، ظہیر احمد اعوان، ڈاکٹر محمد طارق خان، حسن رضا اور تہذیب بیکرز کے خلیل نون (معذرت کہ میں اپنی کمزور پہچان کی بنا پر بہت ساروں کے نام درج نہیں کر پا رہا) پورے جوش و جذبے اور لگن سے اپنے دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔ شاگردِ عزیز کیپٹن انور پاشا نے میرے موبائل نمبر کو بھی سرسید ین گولڈن جوبلی گروپ I کے ساتھ لنک کر رکھا تھا(اب بھی لنک ہے) اس طرح سینکڑوں کی تعداد میں سرسید سکول و کالج کے قدیم طلباء پر مشتمل گروپس کے ارکان کے آپس میں رابطوں اور گولڈن جوبلی ڈنر کی تقریب کے لیے کی جانے والی تیاریوں کی پل پل کی خبریں مجھے مل رہی تھیں۔ یہاں سرسید سکول کے میرے ہم عصر سابقہ اُستاد سر سلطان شاہین(جو ایف جی سے بطور پرنسپل ریٹائر ہوئے) کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی کہ وہ بھی گولڈن جوبلی 

ڈنر کی تیاریوں کے انتظام و انصرام میں پیش پیش رہے۔ 

گولڈن جوبلی ڈنر کے شرکا اور مدعوئین کی آمد شام 6 بجے شروع ہو گئی تھی ۔ 7 بجے میں جب شاگردانِ عزیز محترم خالد اور جناب ہمایوں جو اس وقت خود اپنے بیٹے بیٹیوں اور اُن کی اولاد کے ’’بابے‘‘ بن چکے ہیں کی معیت میں اپنے دیرینہ رفیقِ کار جناب محبت خان نیازی کے ہمراہ سرسید کالج پہنچا تو کالج کے پرنسپل محترم پروفیسر نعیم صاحب ، آرگنائزنگ کمیٹی کے سرگرم رُکن افضل ملک اور دوسرے ارکان نے تپاک سے ویلکم کیا۔ گیٹ سے اندر کچھ ہی فاصلے پر ذرا آگے ہٹ کر دائیں طرف دو تین میزوں پر سرسید کالج کے کچھ موجودہ اور زیادہ تر پرانے اساتذہ (پروفیسر حضرات) فروکش تھے ۔ اُن سے ملاقات ہوئی کیمسٹری کے ریٹائرڈ پروفیسر بلال صاحب جو چلنے سے معذور ہیں اپنے بیٹے کے ساتھ ویل چئیر پر تشریف لائے تھے۔ میرے لیے ان سمیت ریٹائرڈ پروفیسرز جناب قاضی ریاض، جناب شوکت پراچہ، جناب شوکت نذر ، جناب سعادت صاحب، ریٹائرڈ وائس پرنسپل پروفیسر رشید صاحب اور ریٹائرڈ پرنسپلز پروفیسر غلام سرور صاحب، پروفیسر صفدر ستی صاحب، پروفیسر عبیداللہ بھٹی صاحب اور پروفیسر عبداللہ خان نیازی صاحب سے ملنا سعادت اور مسرت کا باعث تھا۔ میری خواہش تھی کہ پروفیسر اکرام صاحب جن سے ملاقات ہوئے شاید ایک آدھ عشرے سے بھی زیادہ عرصہ ہو چکا ہے وہ بھی آجائیں تو کتنا اچھا ہو۔ ہمدمِ دیرینہ محبی محترم عرفان صدیقی صاحب کا بھی انتظار تھا لیکن اکرام صاحب اور عرفان صاحب دونوں تشریف نہ لائے ذاتی طور پر مجھے کچھ مایوسی بھی ہوئی ۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی کا انتظار تھا اور یہ سرگوشیاں ہو رہی تھیں کہ شاید آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جو گذشتہ صدی کی ستر کی دہائی کے نصف اول میں سرسید سکول میں زیرِ تعلیم رہے اور یہیں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا بطورِ مہمانِ خصوصی تشریف لا رہے ہیں۔ چیئرمین جوائنٹ سٹاف آف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کا نام بھی بطورِ مہمانِ خصوصی لیا جا رہا تھا۔ جنرل زبیر حیات بھی اپنے دوبھائیوں حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات اور میجر جنرل احمد حیات کے ساتھ پچھلی صدی کی ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں سرسید سکول و کالج میں زیرِ تعلیم رہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ احمد حیات کی جماعت کو میں نے نویں اور دسویں میں اُردو پڑھائی تھی۔ خیر 8 بجے گیٹ پر استقبالیہ قطار میں ہلچل ہوئی تو پتا چلا کہ جنرل زبیر محمود حیات بطورِ مہمانِ خصوصی تشریف لا چکے ہیں۔ اسی دوران آرگنائزنگ کمیٹی کے چئیرمین سید ذوالفقار عباس نقوی ایڈووکیٹ اُس میز کی طرف آئے جہاں راقم اور سر محبت خان نیازی بیٹھے ہوئے تھے اور یہ کہہ کر کہ سر آپ یہاں کہاں بیٹھے ہیں ہمیں اپنے ساتھ لے کر سٹیج کی طرف چلے اور وہاں جہاں صوفوں کی قطار میں پہلے ہی معزز مہمان ٹھس کر بیٹھے ہوئے تھے کچھ جگہ بنا کر ہمیں بٹھا دیا۔ تقریب کی باقاعدہ کاروائی جاری تھی ۔ سرسید کالج کے حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے پرنسپل پروفیسر عبداللہ خان نیازی نے سرورِ کونینؐ کے حضور پنجابی زبان میں ہدیہ نعت پیش کیا تو سماں باندھ دیا۔ سر سید کالج کے انگلش کے نامور اُستاد پروفیسر پاشا صاحب سٹیج سیکریٹری کے فرائض سنبھالے ہوئے تھے انہوں نے سرسید کالج کے قیام سے اب تک اس کی پچاس برسوں پر محیط تاریخ کا خوبصورت الفاظ میں احاطہ کیا۔ ملٹی میڈیا پر سرسید کالج کے بارے میں دو ڈاکومینٹریاں ایک کالج خود اپنی زبان میں اور دوسری کالج کے پہلے پرنسپل عبدالقادر قریشی مرحوم کے حوالے سے پیش کی گئیں۔ آرگنائزنگ کمیٹی کے چےئرمین ایڈووکیٹ سید ذوالفقار عباس نقوی نے اپنے خطاب میں سرسید کالج کی تعلیمی و علمی خدمات کا مختصر جائزہ ہی پیش نہ کیا بلکہ سرسیدین ایلومینائی کے از سرِ نو احیاء کا بھی اعلان کیا۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد نعیم نے سرسید کالج کی تعلیمی میدان میں شاندار خدمات اور اعلیٰ کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس عظیم مادرِ علمی کو ترقی کی منزلوں پر مزید آگے لیجانے کے لیے پوری طرح کوشاں رہیں گے۔ 

مہمانِ خصوصی چئیرمین جوائنٹ سٹاف آف کمیٹی جنرل زبیر محمو دحیات کا خطاب اپنے نفسِ مضمون ، زبان و بیان اور اندازِ تکلم کے لحاظ سے بلا شبہ ایک شاہکار (Master Piece ) تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بار بار سرسید سکول کا نام لیا اور یہاں کے اعلیٰ تعلیمی معیا ر اور اپنے اساتذہ کی محنت اور لگن کا ذکر کیا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ سر عرفان صدیقی اور سر غلام رسول ملک مرحوم کا بطورِ خاص نام لیا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اپنے مشن اور مقصد کے حصول کے لیے اتحاد (Unity ) ضروری ہے جو ہم میں نہیں رہی اسے ہم نے دوبارہ حاصل (Regain ) کرنا ہے ۔ اس ضمن میں ہمارا دین، اللہ کی کتاب قرآن حکیم اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کی ذات ہمارے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم نے لادینیت کی طرف نہیں بامقصد تعلیم اور ایکسی لینس (Excellence )یعنی شاندار کارکردگی کی طرف آنا ہو گا۔ تعلیم کو علم کا منبع بنانا ہو گا اور اس کے لیے بنیادی تعلیم کو مضبوط کرنے کے ساتھ میرٹ کو ترجیح دینی ہو گی۔ اس ضمن میں فیڈرل گورنمنٹ کینٹ اینڈ گریژن کے تعلیمی ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جنرل زبیر حیات نے اپنے خطاب میں بڑے خوبصورت اور مؤثر پیرائے میں حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیتے ہوئے قوموں کی برادری میں پاکستان کے مقام ، اہمیت اور حیثیت پر بھی روشنی ڈالی۔ اُن کا کہنا تھا کہ 220 ملین آبادی کا دنیا کا چھٹا بڑا ملک پاکستان اللہ کریم کی بہت بڑی نعمت ہے جو ستائیس رمضان المبارک کی مبارک ساعت کو وجود میں آیا۔ دُنیا کے 54 اسلامی ممالک میں یہ واحد ایٹمی قوت ہے جس پر اسلامی ممالک ناز کرتے ہیں ۔ دُنیا کو دہشت گردی اور خلفشار سے بچانے کے لیے پاکستان نے 84 ہزار قیمتی جانوں کی قربانیوں کے ساتھ 120 ملین ڈالر کا مالی و انفراسٹریکچر کا نقصان برداشت کیا ہے۔ چین ہو ، روس ہو ،ایران ہو یا دوسرے ممالک وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے وہ دہشت گردی سے محفوظ رہے ہیں۔ جنرل زبیر حیات نے اپنے خطاب کے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اُمید (Hope ) اور مثبت سوچ کو اپنا کر ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ 

سرسید کالج کی گولڈن جوبلی ڈنر کی یہ تقریب بلا شبہ مدتوں یاد رہے گی۔ 


ای پیپر