شرمندگی
28 دسمبر 2018 2018-12-28

نجانے لاکھوں ، کروڑوں انسان کس کے منتظر ہیں اور کسے نجات دہندہ سمجھتے ہیں جو اس کرہ ارض پر کسی نہ کسی شکل میں ظلم کا شکار ہیں ،ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں نسلی تضادات کا سامنا ہے، بعض آزادی نعمت سے محروم ہیں ،ان گنت وہ بھی ہیں جو اپنی چھت سے محروم ہیں ،دیگر کے پاس رہنے کیلئے چند گز زمین بھی نہیں۔

انسانوں کی اک فصل ایسی بھی ہے جو ان امراض میں مبتلا ہے جسے ماہرین طب لاعلاج قرار دے چکے ہیں، ان میں وہ بیماریاں بھی شامل ہیں جن کا علاج ممکن تو ہے مگر بے پناہ مہنگا ہے، کچھ کے نصیب میں معذوری کی زندگی آئی ہے، ان میں سے چند تو فطری طور پر اپاہج ہیں، دیگر کو جنگوں کی بدولت یہ عذاب جھیلنا پڑرہا ہے ان میں سے بے شمار ایسے بھی ہیں جو امن کی بھینٹ چڑھ گئے اور پھر زندگی بھر کیلئے معذور ٹھہرے۔

زندگی کی اس بھیڑ میں آپ کو ایسے بے قصور مردوزن سے بھی واسطہ پڑا ہوگا جو قبائلی روایات او راقدار کی نذر ہوگئے اور زندگی کی ان گنت خوشیوں سے محروم کردیئے گئے ،ہرچند عہد جدید غلامی کا دور نہیں پھر بھی کچھ انسان اس عالم میں ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے جسکی دوسری شکل غلامی ہی قرارد ی جاسکتی ہے۔آپ کو ان افراد سے بھی واسطہ پڑ سکتا ہے جو ان گنت دولت رکھتے مگر زندگی کی حقیقی خوشی سے محروم ہیں آ پ نے وہ لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو روحانیت کی تسکین کے لئے نت نئے تجربات سے گذرتے ہیں ،کوئی درخت کی پوجا سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے، بعض نے مندر کو اپنی آماجگاہ بنا لیا ہے، کسی نے سورج کی پوجا ہی میں عافیت جانی، دیگر نے آگ کو اپنا دیوتا بنالیا۔

زندہ انسانوں کے علاوہ ایسے لاکھوں افراد اپنے ہاتھوں سے اپنی جان کو ختم کرکے داعی اجل ہوئے بہت سے والدین ایسے بھی گذرے ہیں جنہوں نے خود اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں سے ختم کیا۔ کچھ والدین ایسے بدقسمت ٹھرے جو اپنی اولاد کے ہاتھوں مارے گئے، تاریخ مختصر انواع وا قسام کے انسانوں سے بھری پڑی ہے۔

اس ناگفتہ بہہ حالت سے یہ نتیجہ قطعی طور پر اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ انسانوں کی بھلائی، بہتری اور مسائل کے حل لئے کسی دوسرے انسان کا دل نہیں دھڑکا ،کسی کے دل میں ہمدردی پیدا نہیں ہوئی ،کسی کو دم توڑتی ہوئی انسانیت دیکھ کر اپنا تن ،من، دھن وقف کرنے کی نہیں سوجھی ۔ دنیا کی تاریخ ان تمام بڑے بڑے افراد سے بھری پڑی ہے جو ہر عہد میں پیدا ہوئے اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہنا ہے، ان میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے اچھی تعلیم دی، کسی نے تعمیری فکر پیش کی،اخلاق و قانون کے نظام وضع کئے، اصلاح معاشرہ کا کام کیا،ممالک کو فتح کیا ،عظیم سلطنتیں چلائیں، بعض نے فقر و درویشی کے نمونے پیش کیے۔

آپ تاریخ پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو آپ کو یونان کی سرزمین پے سقراط، افلاطون ، ارسطو جیسے نامور فلسفی ملتے ہیں جنکے علوم سے آج کا انسان بھی استفادہ کررہا ہے، آپ کو ادب کی دنیا میں ٹالسٹائی، شیکسپئر کے نام ملتے ہیں، آپ شاعری میں دلچسپی رکھتے ہیں تو علامہ اقبال ، دانتے ، کیٹس،غالب جیسے شعراء کا کلام ملتا ہے، آپ جنگجو ڈھونڈتے نکلتے ہیں تو ہٹلر، میسو لینی،ہلاکو خان جیسے افراد کے مظالم پڑھنے کو ملتے ہیں ان مذکورہ افراد نے اپنی اپنی زندگی کے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں جن سے ہر دور کا فرد کسی نہ کسی انداز میں فائدہ حاصل کرتا رہا ہے آپ سائنسی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو آئن سٹائن، ڈارون کے نظریات سے آپ کو سابقہ پیش آتا ہے۔

آپ مشرق کا رخ کرتے ہیں امام غزالی، ابن خلدون ، ماوردی، ابن تمیمہ، نظام الملک جیسے دانشور ،فلاسفر، مشرقی ، اسلامی نقطہ ہائے نظر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لبریز اس دنیا کو آج بھی اگر ریاست کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو اسکی نگاہ یونانی تاریخ پے جاکر ٹھہرتی ہے وہ سقراط کی مکالمہ بازی ، ارسطو کے سیاسی نظریات میں پناہ لینا چاہتا ہے، اگر معاشی حالات درگوں دیکھتا ہے تو فوراً آدم سمتھ، کارل ماکس کی تھیوری کو کھگنگالنا شروع کردیتا ہے۔ آج کے سماج کو صنفی امتیاز کا سامنا ہو تو اسکا ذہن نیدر لینڈ سے اٹھنے والی بیسویں صدی کی اس تحریک کی جانب پلٹ جاتا ہے جو خواتین کے حقوق کیلئے نمودار ہوئی۔ معاملہ سماجی مسائل کا ہوتو انہیں بیربر ماس یاد آتا ہے، ذہنی مسائل سے دو چار افراد کی تدریس کیلئے اہل علم کی نگاہ ویلم جیمز کی جانب اُٹھ جاتی ہے۔

تاریخ انسانی کے یہ بڑے نامور لوگ اپنے اپنے ادوار میں اپنی اپنی صلاحیتوں اور دائرہ کار میں رہ کر خدمت انسا نی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ لیکن ان کے نظریات، فلسفہ، علمی و عملی کاوش حرف تنقید بھی رہے اگر ایک پہلو بہت زیادہ روشن ملتا ہے تو دوسرا پہلو سرے سے ہی تاریک دکھائی دیتا ہے اک طرف افراط ہے تو دوسری طرف تفریط۔

اس قادر مطلق نے جس انسان کو تخلیق کیا ہے اسکی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ اس کے مسائل کیلئے حل کا ایسا سامان فراہم کیا جو اسکی فطرت کے عین مطابق ہے جس میں ہر عہد کے لیے ایسے راہنماء اصول میسر ہیں کہ زندگی از خود آسان سے آسان ہوتی جاتی ہے ۔ انبیاء کے مبعوث ہونیکا طریقہ اور الہامی تعلیمات جن پر عمل پیرا ہونے ہی میں انسانیت کی فلاح اور تسکین ہے۔

اس عالم کے کروڑوں متاثرین آ ج بھی اس’’ انسان اعظم‘‘ جیسے محسن انسانیت ؐ کہا جاتا ہے کی تعلیمات میں پناہ لے سکتے ہیں، آ پ ؑ کے مکتب سے اک حاکم، وزیر، تاجر، امیر، جج، ادیب، فلسفی، اصلاح کار ،لیڈر،معلم،واعظ مکمل درس عمل لے سکتا ہے، ہمارے لیے سامان شرمندگی ہے کہ ہم انکی تعلیمات کو پورے عالم تک پہنچانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں، اس کرہ ارض پر کوئی ایسی سلطنت یا ریاست بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے جو دکھی انسانیت کیلئے جائے پناہ قرار پاتی۔جس میں تمام مروجہ اسلامی قوانین عملاً موجود ہوتے اور یہ ایک فلاحی ریاست کا منظر پیش کررہی ہوتی۔ 

آج کی درسگاہوں میں مارکس فرائڈ، میکاولی، آئن سٹائن کی تعلیمات سے بلاشرکت غیرے مسلم اور غیر مسلم سب ہی تھوڑا یا زیادہ استفادہ کررہے ہیں ۔اگران کے خلاف کوئی گروہ بندی اورتعصب نہیں ،تو اہل مغرب محسن انسانیت کی سیرت پے غوروفکر کرنے کی بجائے اسے تعصب کی عینک سے کیوں دیکھ رہا ہے؟ حالانکہ اس میں دین بھی ہے دنیا بھی ،روحانیت بھی ہے مادیت بھی ،جلال بھی ہے جمال بھی، معاد بھی ہے معاش بھی ۔ ہمیں ڈر ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ اگر روز قیامت اللہ کے حضور پیش ہوکرشکوہ کناں ہوئے محمد عربی کی تعلیمات کے باوجود ہماری دنیا کیوں جہنم بنی رہی ؟تو مسلم حکمرانوں، علماء کرام، اہل دانش کے پاس سوائے شرمندگی کے کیا جواب ممکن ہے۔


ای پیپر