ای سی ایل جیسی چیزوں سے نہیں ڈرتے: شیریں رحمان
28 دسمبر 2018 (19:14) 2018-12-28

اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سنیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگ ای سی ایل جیسی چیزوں سے نہیں ڈرتے،سب یہیں جیئیں گے، سب یہیں مریں گے۔

شیری رحمان نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ گڑھی خدا بخش میں شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ہمیں اطلاع ملی کہ کسی منسٹر نے کہا کہ 172افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا اعلان کیا ۔ ڈرتے ہیں طاقت والے ایک معصوم لڑکے سے ڈرتے ہیں، یہ گالی والے ایک معزز لڑکے سے ، ہم نہ یہ گالی گلوچ کی زبان استعمال کرتے ہیں اور نہ ہم نے کبھی کی ہے، ای سی ایل میں نام آنا کوئی بڑی بات نہیں، ہم نے ہمارے کارکنوں نے ایسی مشکلات کا سامنا پہلے بھی کیا ہے، آمریت کے سامنا کرنا پیپلز پارٹی کا کرہ امتیاز ہے، اسے ہم اپنی عزت سمجھتے ہیں، آزاد ادارے ہوتے تو احتسابی عمل کی کوئی ساکھ ہوتی، شہزاد اکبر صاحب، ایف آئی اے میں مستقل موجود رہتے تھے

انہوں نے کہا کہ شرم آنی چاہیے کہ بی بی شہید کی برسی پر ان کی فیملی کو تحفہ دیا گیا ہے، ڈرتے ہیں طاقت والے ایک معصوم لڑکے سے ڈرتے ہیں، ای سی ایل میں نام آنا کوئی بڑی بات نہیں، ہم نے ہمارے کارکنوں نے ایسی مشکلات کا سامنا پہلے بھی کیا ہے، یہ سب کچھ اپوزیشن جماعتوں کا منہ بند کرنے کیلئے کہا جا رہا ہے،100دن مکمل ہو گئے ہیں، ملک کو ایک خوفناک صورتحال میں ڈال دیا گیا ہے، حکومت 100روزہ کارکردگی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی وزراء کہہ رہے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ تاریخی فیصلہ ہو گا، ان کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے بھئی؟احتساب کا عمل بلاتفریق ہوتا ہے لیکن یہاں تو احتساب بلا تفریق ہوتا نظر نہیں آرہا،یہ سب کچھ اپوزیشن جماعتوں کا منہ بند کرنے کیلئے کہا جا رہا ہے،100دن مکمل ہو گئے ہیں، ملک کو ایک خوفناک صورتحال میں ڈال دیا گیا ہے، ملک میں بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، انتقامی کاروائی ہر طرف نظر آرہی ہے، ان کے جو دوست ہیں وہ سیاسی ہیں اور ہم کٹہرے میں ہیں۔

 زرداری صاحب نے 12سال جیل کاٹی ہے اور باعزت بری بھی ہوئے، ہمیں بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کیس میں انصاف نہیں ملا، جس نے ہمیں فریق نہیں بننے دیا وہ تو خود باہر بیٹھ کر سزا بھگت رہے ہیں ان کو تو کسی بھی عدالت میں استثنیٰ ملا ہوا ہے، وزراء کی ٹرائل کورٹ ہے جو ٹھوس شواہد کی بات کر رہے ہیں، ہم پہ جو ریفرنس بنائے گئے ہیں،ٹرائل کورٹ میں ان کو سالوں لگ جائیں گے، جھوٹ ر وپ ایک مفروضہ بنایا جاتا ہے، حکومت 100روزہ کارکردگی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔


ای پیپر