” کینہ اور کمینہ “ ( 2 )
28 دسمبر 2018 2018-12-28

میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا ، کہ ریاست مدینہ کے نام پر چودہ سو سال بعد نئے پاکستان میں اشرافیہ کے لیے اب تعظیماً کھڑے ہونے کی ” بدعت “ کو اسلام کی ترویج کی خاطر فوراً بند کیا جائے۔

کچھ صدیاں قبل جب بابا گورو نانک ، اِس دُنیا میں آئے، تو ہندوستان میں اکبر بادشاہ نے دین الٰہی کے نام پر اِسلام کے اصولوں کے منافی ایسے قانون بنائے، کہ ایک مسلمان کو شرم آتی ہے، اللہ سبحان و تعالیٰ جب کسی کو ہدایت دیتا ہے، تو ایک ہندو کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ تو مسلمانوں والے عمل کر کے ولی اللہ بن جاتا ہے، اور اُس کے ہاتھوں کرامات سرزد ہونی شروع ہو جاتی ہیں، وہ کبھی مکے پہنچ جاتا ہے اور وہ نگر نگر پھر کے بزرگان دین ، اور اُس دور کے مستند فقیروں اور اُولیائے کرام کی مجالس خاص کا حصہ بن جاتا ہے، اُن کے دِل کے اخلاص کو اُوپر والا دیکھ کر حاجیوں کا ایک قافلہ جو حج بیت اللہ کے لئے جا رہا تھا، اُنہوں نے بابا گورو نانک سے کہا ، کہ تم تو ہندو ہو، اُنہوں نے کہا کہ میرا مذہب وہ ہے ، جو خدا کی طرف لے جاتا ہے، بابو عمران کہتے ہیں کہ قافلے والے ، حجاج ، بابا گورو نانک کو چھوڑ کر چلے گئے، مگر جب وہ مکے پہنچے تو بابا گورو نانک وہاں پہلے سے موجود تھے قارئین، پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندو اپنے کسی سادھو، سَنت ، سنیاسی ، جوگی کو بابا نہیں کہتے ، یہ لفظ محض مسلمان اپنے بزرگوں کے لئے استعمال کرتے ہیں، ہندو اور سکھ بھی ان کو کیوں بابا جی کہتے ہیں۔

گو میں ایک نئی بحث میں تو قطعاً نہیں اُلجھنا چاہتا، مگر میں چاہتا ہوں کہ اپنے قارئین کو بھی اِن حقائق سے آگاہ کروں، حج کے بعد واپسی پر وہ ترکی ، بغداد ، ایران اور افغانستان میں مُسلمان بزرگوں سے مِلے، اور اُن کے فیض حاصل کرتے ہوئے واپس آئے، بغداد میں ایک کُتبہ دریافت ہوا ، جس پر لکھا ہوا تھا ، کہ بزرگ بابا گرو نانک کی یاد میں جو اللہ کے ولی ہیں اور نیک ہندوﺅں کے بادشاہ ہیں، بابا جی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں ہدیہ عقیدت نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ محبت میں گوندھے اشعار کہے ہیں ، بطور انعام اُن کو ایک غیب سے ایک چُولہ ( کرتا) ملا ، جس پر کلمہ طیبہ ، سورة اخلاص ، ایت الکرسی اور سورة فاتحہ لکھی ہوئی تھی، حضورﷺ کی زندگی میں بھی ایک شان میں اشعار کہنے والوں کو بخشش عطا ہوتی تھی۔

بابا گورو نانک کی وفات پر جِب ہندوﺅں اور مُسلمانوں میں کشیدگی حد سے بڑھنے لگی ، تو گوردوارہ ٹریبونل کے ججوں نے مُقدمہ ” نانک “ کے فیصلے میں لکھا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے ، کہ بابا گورو نانک نے اپنے خاص اصول اِسلام سے لئے ہیں، اُنہوں نے کبھی اسلام کی مخالفت نہیں کی، اور اُنہوں نے ایک مسلمان فقیر کی شکل میں مکہ کی یاترہ کی ، بابا گورو نانک کی وفات پر جب ہندو اُنہیں ہندو، اور مسلمان اُنہیں مسلمان کہہ رہے تھے، تو اُس وقت کی کتابوں میں درج ہے ، اور مسلمان بزرگ بھی یہ حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ جب اُن کے جسدِ خاکی سے چادر ہٹائی گئی تھی تو وہاں چند پھول پڑے ہوئے تھے، جو آدھے ہندوﺅں نے لے کر جلا دیئے، اور مسلمانوں نے لے کر اُسے ننکانہ صاحب میں دفن کر دیئے، اب وہاں عالیشان گوردوارہ بنا ہوا ہے، جس کی زیارت کے لئے پوری دنیا سے سکھ وہاں آتے ہیں۔

بابا جی کی زندگی میں اُن کے پیرو کار سختی سے اُن کے اِن اُصولوں پر عمل کرتے تھے، مگر اُن کی وفات کے بعد گدی نشین اپنی آئی پہ آگئے، اور شاید یہیں سے سکھ مذہب کی بنیاد پڑی، کیونکہ اُن میں سے چند جانشینی کے خواہاں یہ سوچ کر ، کہ بابا گورو نانک ، چونکہ ہندوﺅں میں پیدا ہوئے تھے، لہٰذا وہ ہندﺅ تھے، جبکہ دوسروں کا موقف یہ تھا ، کہ وہ پہلے بے شک ہندو تھے، لیکن بعد میں اُنہوں نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا تھا، سکھوں کی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ بابا جی کو حکومت کے خلاف بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، اور جیل میں چکی پیسنے کی سزا دے دی گئی، محافظ نے جب یہ دیکھا کہ چکی خود بخود چلنی شروع ہوگئی ہے اور آٹا اُس سے نکل رہا ہے، فوراً حکام کو جا کر آگاہ کیا، چنانچہ اُن کو فوراً رہا کر دیا گیا، میاں میر صاحب ، جن کا مزار لاہور میں واقع ہے، بابا جی سے خصوصی احترامی تعلقات تھے، اکبر بادشاہ سے بابا جی کو جو زمین مِلی تھی، اُسس کا سنگ بنیاد بھی میاں میر صاحب نے رَکھا تھا، بابا جی ذات پات، اور چھوت چھات کی تمیز اور عداوت و عصبیت سے بالکل بلند تھے، اُنہوں نے مسلمانوں کی طرح عربی ، فارسی کی تعلیم ملا قطب الدین سے حاصل کی تھی، ایک دفعہ اُن کے والد نے ان کو کاروبار کیلئے کچھ رقم دی، تو اُنہوں نے اُس کا گوشت خرید کر سارے کا سارا مستحقین میں تقسیم کر دیا، ایک دفعہ اُن کو گودام کے اناج کی نگرانی پر ملازمت مِلی، مگر اُنہوں نے تمام بوریاں لوگوں میں تقسیم کر دیں، مگر بعد میں جب گودام میں دیکھا گیا، تو تمام کی تمام بوریاں موجود تھیں،

قارئین آپ کو یاد ہوگا ایک دفعہ بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے پاس ہندوستان سے اُن کی ہمشیرہ اپنے بیٹے کو لے کر آئیں، اور اُنہیں کہا کہ اپنے بھانجے کو سنبھالو اور اِس کا خیال رکھنا، بابا جی نے اُنہیں لنگر کی تقسیم پر لگا دیا، خاصے عرصے کے بعد وہ اپنے بیٹے صابر ؒ کو ملنے جب اپنے بھائی بابا فرید ؒ کے پاس آئیں تو اُنہوں نے بیٹے سے ملنے کا اظہار کیا جب اُن کو بلوایا گیا تو اُسے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے دیکھ کر ان کی ماں رُونا شروع ہوگئیں اور بھائی کو شکایت کی کہ میں نے تم کو کہا تھا، کہ میرے بیٹے کا خیال رکھنا مگر آپ نے اُس کا یہ حال کر دیا ہے تو بابا جی نے کہا کہ میں نے تو اِس کی ڈیوٹی لنگر خانے میں لنگر کی تقسیم پہ لگا دی تھی، اب اِس میں میرا کیا قصور ہے ؟ جب اُنہوں نے اپنے بھانجے صابر کلیئر شریف والے سے پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ میں لنگر تقسیم کرنے کے لئے کام پہ لگایا گیا تھا، لنگر کھانے کے لئے نہیں اور میں نے ابھی تک ایک نوالہ بھی نہیں لیا۔

اُن کا یہ جواب تحریک انصاف ، جو بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے ماننے والے ، اور مریدین میں سے ہیں، جہاں خاتون اول حاضری کے لئے ننگے پاﺅں پیدل حاضری کے لئے جاتی ہیں، اور اُن کے سر تاج عمران خان صاحب کے لئے قابل ِ تقلید ہونی چاہئے، جنہوں نے پارلیمان کی آرائش و زیبائش اور عمران اسمبلی کی آمدو رفت میں اَربوں روپیہ آتے ہی جاری کر دیا، وغیرہ وغیرہ

قارئین، آپ نے صابر ؒ کلیئر شریف والے کے واقعے کی مماثلت بابا گرونانک کے واقعات میں دیکھ لی ہوگی، در اصل جب بندہ اللہ کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ بندے کا ہو جاتا ہے، کیا اِسی کرامات کا ظہور کافروں یا ہندوﺅں سے ہونا ممکن ہے، شعبدہ بازی اور جادو گری تو دربار نمرود والے جادو گروں نے بھی دکھائی تھی، اور اِس جادو گری کا مقابلہ تو حضرت عثمان علی ہجویری ؒ کو بھی کرنا پڑا تھا، جب وہ لاہور پہنچے ، تو یہاں کے تمام جادو گر اکھٹے ہوگئے حتیٰ کہ وہ ہوا میں اُڑنے لگے، یہ دیکھ کر لوگ بڑے متزلزل ہونا شروع ہوگئے، یہ دیکھ کر حضرت عثمان علی ہجویری ؒ نے اپنا جوتا اُوپر پھینکا تو جوتے نے زور زور سے پیٹ کر اُسے اُترنے پر مجبور کر دیا۔ ( جاری ہے )


ای پیپر