نئی ایف ایس ایف کی تشکیل؟
28 اگست 2020 (23:06) 2020-08-28

مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے پچھلی صدی کی 70کی دہائی میں اپنے دورِ حکومت( 1972تا 1977)میں فیڈرل سیکیورٹی فورس ( ایف ایس ایف) کے نام سے ایک پیرا ملٹری فورس تشکیل دی تھی جو بعد میں بھٹو کے زوال کا بڑا سبب بھی بنی۔ آئین و قانون کے کاغذات میں اس فورس کے قیام کا مقصد کیا تھا یا کیا نہیں تھا اس سے قطع نظر عملاً اس فورس کا سب سے بڑا فریضہ پیپلز پارٹی کی حکومت بالخصوص مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین کو کچلنا اور ان کے ذاتی اقتدار و اختیار کو مستحکم بنانا تھا۔ مسعود محمود اس فورس کے بڑے عرصے تک سربراہ رہے۔ ان کے ہی احکامات جو وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹونے ان کو بالواسطہ دیے تھے کے تحت ایف ایس ایف کے اہلکاروں کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی جس کے ذمہ وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت میں حدیں پھلانگنے والے احمد رضا قصوری کو جان سے مارنے (قتل کرنے) کی ذمہ داری لگائی گئی۔ اس ٹیم نے لاہور میں احمد رضا قصوری کے معمولات کی نگرانی شروع کر دی اور ایک رات کو جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ شادی کی ایک تقریب سے واپس گھر آر ہے تھے تو شادمان چوک کے راؤنڈ اباؤٹ پر ان کی گاڑی کو گولیوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں احمد رضا قصوری کے والد نواب احمد خان شدید زخمی ہوئے اور جان کی بازی ہار گئے۔ احمد رضا قصوری نے اس واقعے کی تھانے میں ایف آئی آر کٹوائی اور وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے والد کے قتل کا ذمہ دارٹھہرایا۔ یہ ایف آئی آر سیل (Seal) ہو گئی۔ 5جولائی 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کرکے عنان حکومت سنبھالی تو احمد رضا قصوری کی کٹوائی ہوئی آیف آئی آر بھی سامنے آگئی۔ بھٹو کے خلاف نواب احمد خان کے قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں قائم پانچ رُکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ ایف ایس ایف کے سربراہ مسعود محمود نے وعدہ معاف گواہ کے طور پر بھٹو کے خلاف گواہی دی ۔ فائرنگ میں ملوث ایف ایس ایف کے اہلکاروں نے بھی احمد رضا قصوری کی کار پر گولیاں چلانے کو تسلیم کیا۔ اس طرح مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ نے ذوالفقار علی بھٹو اور ایف ایس ایف کے اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا متفقہ فیصلہ سنایا۔ بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی اور چیف جسٹس جناب شیخ انوار الحق کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے فل بینچ نے چار، تین کی اکثریت سے ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کے نتیجے میں 4اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو سینٹرل جیل راولپنڈی میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ 

جناب ذوالفقار علی بھٹو کی قائم کردہ ایف ایس ایف (Federal Security Force) کے حوالے سے یہ واقعہ مجھے اس طرح یاد آیا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی پارٹی 

سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں پر مشتمل ٹائیگر فورس کو بھی کئی طرح کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ میرے ذہن میں یہ خیال سا گھوم رہا ہے کہ تحریک انصاف کے رضاکاروں پر تشکیل دی گئی یہ ٹائیگر فورس کہیں ذوالفقار علی بھٹو کی ایف ایس ایف کی صورت تو اختیار کرنے والی نہیں ہے؟ اس لیے کہ اس ٹائیگر فورسکو جو اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اُن کی رو سے تو لگتا ہے کہ یہ فورس ایک طرح کی متوازی انتظامیہ یا دھونس دھاندلی والی حاکمیتِ اعلیٰ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ٹائیگر فورس کو دیئے جانے والے اختیار ات کے حوالے سے ایک مؤقر اور بڑے قومی معاصر کی شہ سرخی کچھ یوں ہے۔ ـ"سرکاری دفاتر پرٹائیگر فورس نگران"۔ ذیلی سرخیوں میں کہا گیا ہے کہ عوامی مقامات ، تعلیمی اداروں ، تھانہ کچہری، لینڈ ریکارڈ، بجلی چوری، عوامی شکایات اور سروسز کی فراہمی پر ٹائیگر فورس نظر رکھے گی۔ نوجوان مقامی سطح پر گورنس اور اشیائے ضرروریہ کی قیمتوں کو بھی مانیٹر کریں گے۔ خبر کے متن میں وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اجلاس کے فیصلوں کی مزید تفصیل دی گئی ہے۔

یہ درست ہے کہ ٹائیگر فورس کو اختیار ات دینے کے اس فیصلے میںبظاہر کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ کون نہیں چاہتا کہ ملک میں گڈ گورنس قائم ہو، اشیائے ضروریہ وافر مقدار اور مقررہ نرخوں پر دستیاب ہوں۔ذخیرہ اندوزی ،چور بازاری اور مہنگائی کا خاتمہ ہو۔ تھانہ ، کچہری اور عدالتوں میں عدل و انصاف کا بول بالاہو۔ رشوت ستانی اور اقرباء پروری اور سفارش کے کلچر کو لگام ملے ،ہر جگہ میرٹ کی فرماں روائی ہو، عوام آسودہ ، مطمئن اور اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہوں، امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہو اور ملک صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کا نمونہ پیش کرتا ہو۔ یقینا یہ سب کچھ ہونا چاہیے لیکن دیکھنا ہوگا کہ کیا ایک ہی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والی نوجوان رضاکاروں پر مشتمل ٹائیگر فورس یہ سارے امور بطریق احسن سرانجام پا سکیں گے؟ ، ذاتی پسند و نا پسند کی بناء پر شدید اختلافات سے عبارت ملک کی سیاسی صورتحال اور معروضی حالات کے بارے میں گہری سوچ و بچار اور غور و فکر کرنے والوں کے نزدیک اس کا جواب یقینا نفی میں ہوگا۔ 

نوجوان نسل کو مستقبل کی ذمہ داریوں سے عہدہ براء ہونے کے لیے تیار کرنا بلا شبہ ضروری ہے اس لیے کہ نوجوان نسل ہی کسی قوم کا مستقبل ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو۔ اس کی سوچ و فکر میں پختگی ہو، وہ سیاسی دھڑے بندیوں اور ذاتی پسند و نا پسند سے بالا تر ہو کر ملکی اور قومی مفاد کو فوقیت دیتی ہو۔ دوسروں کو ہر وقت موردِ الزام ٹھہرانے، بُرائیوں اور خرابیوں کی جڑ سمجھنے اور انہیں لٹکا دینے اور کسی صورت میں نہ چھوڑنے کے دعوؤں اور نعروں پر یقین نہ رکھتی ہو، اُسے گالم گلوچ، نفرت ، تعصب اور جھوٹے دعوؤں اور بلند آہنگ نعروں سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو اور نہ ہی ذاتی نمود و نمائش اور کھڑپینچی کی خواہاں ہو، تو کیا تحریک انصاف سے وابستہ نوجواں پر مشتمل ٹائیگر فورس جو مخصوص سوچ و فکر کی حامل ہے ،ان تمام اوصاف اور امور سے متصف ہے ،تو یقینا اس کا جواب بھی نفی میں سامنے آتا ہے۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی عثمان ڈار اپنی نوکری پکی رکھنے کے لیے جتنے بھی چاہیں سبز باغ وزیرِ اعظم کو دکھائیں اور اپنے حامیوں اور متوالوں کو بھی خوش کر لیں لیکن اُنہیں بہرکیف یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان بائیس کروڑ آبادی پر مشتمل ملک ہے جس میں نوجوانوں کی اکثریت ہے اور ایک محدود تعداد میں ہی نوجوان تحریک انصاف سے وابستگی رکھتے ہیں ۔ قوم کو ان کے تابع کرنا یا ان کا یرغمال بنانا کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ 

نوجوان نسل کی تربیت ضرور ہونی چاہیے اور ان پر اعتماد بھی ہونا چاہیے لیکن بات سیدھی سی ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اتنی بڑی تعداد میں اُوپر سے نیچے تک حکومتی اہلکار، انتظامیہ سے وابستہ افراد اور اعلیٰ عہدیدار ، کتنے ہی سرکاری محکمے، اور کتنے ہی وزیروں، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی فوج ظفر موج موجود ہے تو پھر ایک نئی نگران طاقت یا سُپر پاؤر کو وجود میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔ جنابِ وزیرِ اعظم یا اُن کے قریبی ساتھیوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ جو فیصلے مختلف اوقات میں کرتے رہے ہیں اورقوم کو لوٹنے والوں، مہنگائی،ذخیرہ اندوزی اور آٹا چینی کی چوری میں ملوث مافیاز کے احتساب کی جو باتیں کرتے رہتے ہیں اپنے حکومتی اہلکاروں اور انتظامیہ کی مدد سے ان کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں نہ کہ بدمزگی، بد انتظامی اور عوام کے مختلف طبقات کو عدمِ تحفظ کا شکار کرنے والا ایک نیا کھڑاگ رچائیں۔ 


ای پیپر