عتیقہ اوڈھو: ’ساری مستی شراب کی سی ہے‘
28 اگست 2020 (23:04) 2020-08-28

کوہ قاف کے پہاڑوں اور جنگلوں کا جادو تاریخی طور پر بڑا مشہور ہے جہاں کی دیو مالائی داستانیں کہتی ہیں کہ ان جنگلوں میں سفر کرتے ہوئے کوئی پیچھے سے آپ کو آواز دے تو مڑ کر کبھی نہ دیکھنا جو مڑ کر دیکھے گا وہ پتھر بن جائے گا۔ کوہ قاف خلق خدا منزل کے حصول میں پتھر بنتی تھی پاکستان میں ایسی ان گنت کہانیاں ہیں جہاں انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے لوگ پتھر ہو جاتے ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔ 

اس ماحول میں عتیقہ اوڈھو بڑی خوش قسمت ہیں کہ انہیں 2011ء کے ایک مقدمے میں انصاف ملا اور وہ عدم ثبوت کی بناء پر 2 بوتل شراب رکھنے کے الزام سے بریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں وہ یقینا مبارکباد کی مستحق ہیں خیال ہے کہ اس کامیابی پر ان کا عدالت کی دہلیز کے اس بھاری پتھر کو چومنے کو ضرور دل چاہا ہوگا جو انصاف میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ عتیقہ اوڈھو کی قسمت پر ان بے گناہوں کی روحوں کو عالم ارواح میں ضرور رشک آیا ہو گا جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔ کچھ سال پہلے پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے قتل کے ایک ملزم کی رہائی کا پروانہ جاری کیا تو بعد میں پتا چلا کہ مجرم کو کئی سال پہلے سزائے موقت دی جا چکی ہے۔ عتیقہ اوڈھو کی طرح اس کیس پر بھی چند دن تک بہت شور مچا لیکن اس کے بعد حالات معمول پر آ گئے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ عتیقہ اوڈھو کے مقدمے میں 210 تاریخیں پڑی اور 16بار جج صاحبان تبدیل ہوتے رہے مگر عتیقہ کا مقدمہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ ہر پیشہ پر مرحوم فیض کے اس شعر کا ماحول تھا:

پھر حشر کے ساماں ہوئے ایوان عدل میں

بیٹھے ہیں ذی العدل گناہ گار کھڑے ہیں

مگر ہر بار جرم ثابت نہیں ہوتا تھا اور تاریخ پڑ جاتی تھی۔ شروع میں تو ملزم کو ہر پیشہ پر کراچی سے اسلام آباد آنا پڑتا تھا وہ تو 16 میں سے ایک جج صاحب کا بھلا ہو کہ انہوں نے ملزمہ کو حاضری سے استثنیٰ کی اجازت دیدی ورنہ عدالت کو اگر کسی بھی وقت غصہ آجاتا تو یہ اجازت واپس بھی لی جا سکتی تھی یہ عتیقہ کی خوش قسمتی تھی اور عدالت کی دریا دلی اور فیاضی۔ 

اس مقدمے کی ساری جزئیات بڑی دلچسپ ہیں۔ یہ دراصل اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ازخودنوٹس کی طاقت اور اختیار کے استعمال کی ایک ہلکی سے جھلک ہے جس میں انہوں نے اخبار کی خبر پر نوٹس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ جنرل مشرف کی طرف سے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد وہ جب دوبارہ چیف جسٹس بنے تو مشرف کا نام سنتے ہی غصے میں آ جاتے تھے۔ عتیقہ اوڈھو اس غصے کی زد میں آ گئی جس کی وجہ یہ تھی کہ جنرل مشرف عتیقہ اوڈھو کے فین تھے وہ ایک ایکٹریس تھیں کہا جاتا ہے کہ جنرل مشرف کی نجی پارٹیوں میں جو رات گئے تک جاری رہتی تھیں ان میں عتیقہ کو خصوصی طور پر بلایا جاتا تھا اور اس دور کے سوشل میڈیا اور پریس میں عتیقہ کے ان Credentials کا ذکر چلتا رہتا تھا۔ جب عتیقہ عدالت کے ریڈار پر آئی تو اصل میں افتخار چوہدری کا مقصد جنرل مشرف پر اپنا غصہ نکالنا تھا یہ گویا کہانی کے پیچھے ایک اور کہانی تھی۔ کچھ لوگوں کو یاد رہی مگر زیادہ تر لوگ بھول گئے۔  

 پاکستان کی حکومت اور سیاست میں شراب کی بازگشت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو شراب کا غیر قانونی ٹھیکہ فروخت کرنے پر نیب میں پیشی کی خبر سنی ہے یہ مقدمہ ابھی جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس طلبی پر نیب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس پر اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہی تو وہ کہتے ہیں کہ نیب اپنا کام صحیح نہیں کر رہا۔ حیرت کی بات ہے کہ دونوں پارٹیوں میں زمین آسمان کے اختلافات کے باوجود اس بات پر اتفاق ہے کہ نیب اپنا کام ٹھیک نہیں کر رہا۔ اگر ملک کا وزیراعظم اپنے ساتھی کی طلبی پر ایک قومی ادارے کے بارے میں یہ تاثر رکھتا ہے تو وہاں گورننس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ اگر نیب کے بارے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں غیر مطمئن ہیں تو پھر اس کو ختم کیوں نہیں کر دیتے۔ 

1977ء کی تحریک نظام مصطفی کے دوران مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے جلسۂ عام کے اندر شراب پینے کا اعتراف کیا تھا جو ایک بہت بڑا سیاسی blunderثابت ہوا اور پاکستان قومی اتحاد کو مزید تقویت ملی جب عوام ان کے خلاف ہو گئے کہ اسلامی ملک کا سربراہ خود اعتراف کر رہا ہے کہ میں تھوڑی سی پی لیتا ہوں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی جماعت کے بانی کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ دو دو گھنٹے قوم سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے وقت ہوش و حواس میں نہیں ہوتے تھے پھر بھی ان کی پارٹی کراچی سے 90 فیصد ووٹ حاصل کرتی تھی۔ 

البتہ پاکستان کی تاریخ میں شراب سے متعلق ایک واقعہ ناقابل فراموش ہے جب ملک کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے شرجیل میمن کے اسپتال کے کمرے پر چھاپہ مار کر بقلم خود شراب کی بوتل برآمد کی مگر لیبارٹری رپورٹ میں وہ بوتل شہد قرار دیدی گئی۔ پاکستان کی سیاست اس طرح کے ناقابل یقین واقعات سے بھری پڑی ہے۔ کیا یہ دلچسپ بات نہیں کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ شراب کے غیر قانونی ٹھیکہ پر پیشیاں بھگت رہے ہیں ایک اور صوبے کے حکومتی وزیراعلیٰ کی شراب کے نشے میں ویڈیو وائرل ہو چکی ہے مگر اس پر کوئی از خود نوٹس نہیں ہوا۔ 

کہتے ہیں کہ ایک معمولی مقدمے میں جج نے 12 سال بعد ملزم کو بری کیا تو ملزم نے جج کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ آپ کو تھانیدار بنا دے جج حیران ہو کر کہنے لگا میرا مرتبہ تھانیدار سے کہیں زیادہ ہے ملزم نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تھانیدار کی پاور آپ سے زیادہ ہے۔ جس مقدمے میں آپ نے مجھے 12 سال بعد بری کیا ہے یہ تھانیدار 2 ہزار روپے میں رفع دفع کرنے پر تیار تھا۔ برطانیہ میں انصاف کا نظام ایسا ہے کہ جب دو آدمیوں کا کوئی جھگڑا ہو جائے تو جس پر زیادتی ہو رہی ہو وہ عدالت کی دھمکی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ I shall see you in court۔ اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں جب کسی سے زیادتی ہوتی ہے تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلتا ہے کہ ’’اگلے جہاں تینوں اللہ پچھے‘‘ یعنی محشر میں اللہ آپ کا احتساب کرے گا۔


ای پیپر