مُلّا کو کوہ و دمن سے نکال دو!
28 اگست 2020 (23:01) 2020-08-28

جمعرات بیس اگست کو ملک کے کئی شہروں میں طوفانی بارش ہوئی جس کے نتیجے میں کئی حادثات رونما ہوئے لیکن ایک دل خراش واقعہ جس نے میری روح کو دہلا دیا وہ پھالیہ میں رونما ہوا جہاں تیز بارش کی وجہ سے پھالیہ مدرسہ جامعہ فاروقیہ کی مسجد میں امام قاری اسلم صاحب کے کمرے کی چھت گر گئی جس میں ان کے تین بیٹے، ایک بیٹی اور اہلیہ شہید ہو گئیں ان کی اہلیہ ایک عالمہ فاضلہ خاتون تھیں اور مدرسہ دارالھدی میں ٹیچر تھیں یہ مکان مسجد انتظامیہ نے اپنے امام اور ان کی عالمہ اہلیہ کو رہائش کے لیے دے رکھا تھا۔ 

میرا دل بہت دکھا کہ خود عظیم الشان محلوں میں رہنے والوں نے امام مسجد اور داعی اسلام کو منہدم ہونے کے قریب ایک کمرے کا مکان دے رکھا تھا کیونکہ کوئی اچھا مکان کرائے پر لینے کی ان میں سکت نہیں تھی۔کیونکہ ایک امام کو تنخواہ اتنی ہی دی جاتی ہے کہ بمشکل دووقت کی روٹی کا سامان ہوسکے۔ بارش کی تیز رفتار کے آگے ان کے کمزور مکان کی کچی چھت بے بس ہوئی اور گر گئی اور ا ن کا پورا خاندان شہید ہوگیا ۔

ہمارے معاشرے میں مولوی ہو یا امام ان کا رتبہ ایک تیسرے درجے کے شہری کا ہوتا ہے۔ ہمیں اس دجالی دور میں دین کے قریب رکھنے والے، تیز آندھی بارش طوفان زلزلوں میں بھی اللہ کے گھر پانچ وقت باقاعدگی سے اذان دینے والے، ہمارے دین کی بجھتی شمعوں کو ہمیشہ لو بخشنے والے، ہمارے بچوں کوقرآن پڑھانے، نکاح پڑھانے اور ہمارے جنازے پڑھانے والے یہ قاری صاحبان ہماری ستم ظریفیوں کے باوجود اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔کبھی قرآن حدیث کو پڑھ کر دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگاکہ ان ملائوں کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ 

بلکہ آپ اپنے ارد گرد کے ممالک میں ہی ان کی قدر دیکھ لیں کہ امام مسجد یا قاری صاحبان کو ملائشیا،ایران، ترکی سعودیہ میں کتنا احترام دیا جاتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں ان کو صرف ایک ضرورت کی چیز سمجھا جاتا ہے۔ دو کروڑ کی مسجد میں لاکھوں مالیت کی ٹائلیں اور چھتیں لگوانے کے بعد جب امام کی تنخواہ بات آتی ہے تو پندرہ ہزار دینا بھی بہت زیادہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ تو مولوی ہیں انسان تھوڑی ہیں ان کی کون سی کوئی ضروریات ہیں ان کے لیے تو آسمان سے من و سلویٰ اتر کر آتا 

ہے۔ جب بھوک لگی تو فاتحہ کا حلوہ کھا لیں گے یا اپنے مسائل کے حل کے لیے خود ہی دو رکعت حاجت پڑھ لیں گے ! 

ان کا کوئی حق نہیں کہ یہ کسی اچھے مکان میں رہیں۔یہ ہمارے معاشرے کا مکروہ ترین چہرہ ہے جہاں امام مسجد اور قاری صاحبان کسمپرسی کے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں ہر مسجد کی انتظامیہ کوسوچنا چاہیے اگر کسی امام کو فیملی سمیت ڈیوٹی دے رکھی ہے تو اسے محفوظ رہائش بھی فراہم کریں۔ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے ایسا گھر پسند کریں گے جس میں ایک بارش ہی جان لیوا ثابت ہوجائے؟

سنن ترمذ ی کی حدیث مبارک ہے !

: 2907حدیث نمبر

تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے، '' خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ ''

جبکہ صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہونا چاہئے ایک اس پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے کہ اس کا پڑوسی سن کر کہہ اٹھے کہ کاش مجھے بھی اس جیسا علم قرآن ہوتا اور میں بھی اس کی طرح عمل کرتا اور وہ دوسرا جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کے لیے لٹا رہا ہے (اس کو دیکھ کر) دوسرا شخص کہہ اٹھتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی اس کے جتنا مال ہوتا اور میں بھی اس کی طرح خرچ کرتا۔

ایک مولوی کو یہ مقام ہمارا دین دیتا ہے جبکہ ہم تو غیر مسلموں کی خوشنودی کے لیے کبھی مولوی کا مذاق اڑاتے ہیں کبھی اپنے شعائر کا اور یہ صورت حال علامہ اقبال کی ایک نظم کی بالکل عکاسی کرتی ہے جسمیں ابلیس اپنے کارندوں کو حکم دیتا ہے کہ 

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات

اسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج

مُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو

اب اسی پالیسی کے پیش نظر ملا کو بدنام کیا جارہا ہے!اور اس کے لیے کسی غیر مسلم کی بھی ضرورت نہیں رہی کیونکہ خود مسلمان اب دنیاوی لالچ میں ان کے کارندے بن چکے ہیں۔ سوچی سمجھی سازش کے تحت ملالہ کی ڈائری میں داڑھی کو دہشت کی علامت بنا دیاگیا۔ اسلامی شعائر، قربانی جہاد سب کو دہشت گردی سے منسلک کردیا گیا اور مسلمانوں سے ان کی غیرت ایمانی ہی چھین لی گئی۔ ہمارے معاشرے میں مولوی کا رتبہ اتنا کم تر کر دیا گیا کہ جس طرح ہم کوئی ملازم رکھتے ہیں کام کے لیے ،اس سے بھی کم تنخواہ پر ہم اپنے بچے کے لیے قاری رکھتے ہیں ۔

ہمیں مہنگے سکولوں میں تیس ہزار فیس دینا قبول ہے ٹیوشن کے لیے فی مضمون دس ہزار دیناقبول ہے لیکن مولوی کو دو ہزار دیتے ہوے ہزار بار سوچتے ہیں!

ابھی دو روز قبل ہی دجالی میڈیا پر ایک خبر وائرل ہوئی جس میں بظاہر یہ دکھایا گیا کہ نکاح کے بعد ایک مولوی دلہن کا بوسہ لے رہا ہے اس کے بعد سوشل میڈیا پر مولوی کا تماشا لگ گیا اور جس کے جو منہ میں آیا وہ بولتا رہا لیکن بعد میں حقیقت سامنے آئی کہ وہ مولوی نہیں بلکہ دلہن کا باپ تھا۔ یعنی اب مولوی کو تو کم تر بنادیا اب ساتھ ہی ساتھ مقدس رشتوں کو پامال کرنے کی مہم بھی جاری ہے آگے ہی ٹی وی پر جو ڈرامے دکھائے جارہے ہیں وہ کیا کم ہیں جہاں سالی اپنے بہنوئی سے عشق فرما رہی ہے یا پھر ایک بیوی دولت کے لیے اپنے میاں کا چکر اس کی باس سے چلوا رہی ہے گھن آتی ہے ایسی سوچ پر ایسے لکھاریوں پر! 

ہم ہر بات میں توپ کا رخ مولوی کی طرف کر دیتے ہیں آخر ان کا قصور ہی کیا ہے؟ ملک کو لوٹنے والے ، پالیسیاں بنانے والے،حکومت کرنے والے تو کوئی اور ہیں پھر ہماری توپوں کا نشانہ یہ کیوں بنتے ہیں؟برصغیرمیں علماکی تضحیک کاسلسلہ سو سال سے جاری ہے مگر مولوی اسی شان سے مسجد میں اذان دیتا ہے، جمعے کا خطبہ دیتاہے، نہ اس کے معمول میں فرق آیا ہے اور نہ انداز میں۔۔۔

بقول قدرت اللہ شہاب یہ مولوی ہی ہے جس نے گاؤں کی ٹوٹی مسجد میں بیٹھ کر چند ٹکڑوں کے عو ض عوام کا رشتہ اسلام سے جوڑا ہوا ہے۔کبھی سوچنا ضرور کہ لو چلتی جھلستی ہوئی گرم دوپہرہو، تیز بارش یا سخت جاڑے کے موسم میں اذان اس قدر پابندی سے کون دیتا ہے؟  یاد رکھیں جو قوم اپنے علما اور مذہبی شعائر کا مذاق اڑائے وہ قوم کبھی بھی رحمت خدا وندی کی مستحق نہیں ہو سکتی! 

اللہ تعالی کی رحمت ہم پر تب ہی برسے گی جب ہم اس کے مقرب بندوں کو ان کا اصل اور حقیقی مقام دیں گے۔


ای پیپر