file photo

ٹک ٹاک کے سی ای او نے استعفیٰ دیدیا
28 اگست 2020 (15:02) 2020-08-28

دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوتی سوشل میڈیا ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ( سی ای او) کیون مئیر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کیون مئیر کا کہنا ہے کہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے کردار کا دائرہ ان کے انتظامی اختیارات سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ کمپنی واشنگٹن سے لڑ رہی ہے۔واضح رہے کہ چیف ایگزیکٹو کا کمپنی چھوڑنے کا فیصلہ ٹک ٹاک کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایگزیکٹیو آرڈر کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جو ویڈیو شیئرنگ ایپ کو امریکہ میں کاروباری لین دین کرنے سے روک رہا ہے۔دو روز قبل ٹک ٹاک انتظامیہ امریکہ میں پابندیوں کے خلاف عدالت پہنچ گئی تھی جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو کیلیفورنیا کی عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ ٹک ٹاک کی جانب سے دی گئی درخواست میں امریکی صدر کا فیصلہ چین مخالف مہم کا حصہ قرار دیا گیا اور الزام عائد کیا گیا کہ ٹرمپ چین مخالف بیانیے سے دوبارہ الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ صارف کے ڈیٹا کی رازداری اور حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔

بل ازیں ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکہ میں اپنی ایپ پر پابندی کے رد عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے7 اگست کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس کے ساتھ ہر قسم کی لین دین پر پابندی عائد کی تھی۔ اس حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے پیشِ نظر ٹک ٹاک کے مالکان کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا ہو گی۔


ای پیپر