”مجھے میرے امام ؑکا غم منانے دو“
28 اگست 2020 2020-08-28

میں شیعہ نہیں مگر میرے سامنے ضیائی آمریت میں پیپلزپارٹی کے مسلح جدوجہد کرنے والے کارکن آصف بٹ کی تصنیف ’ کئی سولیاں سرراہ تھیں‘ کھلی پڑی ہے ، یہ کتاب توضیاءدور میں’ الذوالفقار‘ کی ’جدوجہد‘ بارے ہے مگراس کے صفحہ 64پر’ روضہ زینب ؓ کی زیارت‘ کے عنوان سے کربلا کے سانحہ پر جو الفاظ میرے سامنے ماتم کر رہے ہیں، وہ میرا دل کاٹ رہے ہیں، ہاں، میںشیعہ نہیں مگراپنے رب کی قسم کھا کے کہتا ہوں جو میرے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے کی مظلومانہ شہادت کا غم نہیں کرتا، اس کا دل پتھر اور کلیجہ لوہے کا ہے، اسے مسلمان کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

” میدان کربلا میں بیماری کے سبب بچ رہنے ، پھر کوفہ میں قیدی بنا کر ابنِ زیاد کے سامنے پیش کئے جانے اور حکم گردن زدنی پر زینبؓ کی اپنی ردا میں چھپا لئے جانے والے واحد نوجوان امام زین العابدینؓ کاکہنا ہے کہ شہادت حسین ؑ کے دن سے پہلی رات میں بیمار تھا اور میری پھوپھی زینبؓ میری تیمارداری کر رہی تھیں۔ حسینؑ، حضرت ابوذر غفاریؓ کے آزاد کردہ غلام حولی اور دیگر اصحاب کے ساتھ متصل خیمے میں تخلیہ کررہے تھے۔ گفت و شنید کے بعد انہوں نے چند اشعار پڑھے جن سے اس دنیا سے کوچ کرنے کے لئے مکمل تیاری کا اظہار ہوتا تھا۔ زین العابدینؓ فرماتے ہیں کہ یہ اشعار سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ حسین ؑ بار بار یہ اشعار دہرا رہے تھے۔ مجھ سے ضبط نہ ہوپایا اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میری پھوپھی سے برداشت نہ ہو سکا۔ وہ برہنہ سر چادر کو کھینچتی ہوئی دوڑیں اور جا کر اپنے بھائی اور میرے باپ حسین ؑ سے لپٹ کر بین کرنے لگیں، وامصیبتا، اے میرے بزرگو ںکے جانشین، اے درماندوں کے شفیق، بس آج میری ماں فاطمہؓ مر گئیں، میرے باپ علی ؑ اور میرے بھائی حسن ؑ نے آج رحلت کی‘۔ حسین نے ماتھا چومااور کہا ’ پیاری بہن دیکھو، کہیں شیطان تمہارے حلم کو ضائع نہ کردے، ‘۔زینبؓ بولیں،’ میرے باپ جیسے بھائی! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں،آپ نے اپنے قتل کی تیاری کر لی؟ کیا آپ کو یہ لوگ مجبور کر کے قتل کر دیں گے، یہ سوچ کر بھی میرا کلیجہ کٹتا ہے۔ میں یہ سب کیسے جھیل پاوں گی۔ آپ کے بعد میرے اور اہل بیت رسول کی بچیوں کے ساتھ یہ ظالم کیا سلوک کریں گے‘۔ یہ کہہ کر زینبؓ نے اپنا گریبان پھاڑ ڈالا اور منہ کو پیٹنے لگیں اور پیٹتے پیٹتے غش کھا کر گر پڑیں“۔

” اگلے دن ہونی ہو کر رہی۔ زینبؓ مردوں کے کٹتے سروں اور گرتے لاشوں کے مناظر دیکھتی رہیں۔ سنان بن انس کو اپنے بھائی کی چھاتی پر چڑھ کے ان کا سر کاٹتے بھی انہیں دیکھنا پڑا۔ بحر بن کعب کو آپ کا پاجامہ اتارتے، قیس بن اشعت کوچادر کھینچتے، اسود کو نعلین چراتے اور پھر لشکر یزیدی کو اپنے خیموں میں گھس کر خود سے اور اہل بیت کی دوسری عزت مآب خواتین کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے، شور مچاتے اور سروں سے چادریں اڑتاتے ہوئے اور پھر ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی کرتے بھی دیکھتی، سہتی اورآہ و نالہ کرتی رہیں ۔۔۔ انہیں حکم دیا گیا کہ کوئی عورت اپنا سر نہ ڈھانپے۔ سب ذلیل لباس پہن کراور قیدی بن کر ابن زیاد کے پاس کوفہ چلنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ قرة بن تمیمی کا بیان ہے کہ جب ان عورتوں کو قیدی بناکے باہر نکالا گیا تو میں گھوڑے کو ایڑ لگاکر ان کے پاس گیا کہ قریب سے دیکھ سکوں۔اس کا بیان ہے کہ واللہ میں نے ایسی عورتیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ وہ صحرائی ہرنوں سے زیادہ بڑھ کر خوب صورت تھیں اور مجھے وہ منظر نہیں بھولے گا کہ جب ان خواتین کو میدان میں جابجا بکھری ان کے عزیزوں کی لاشوں کے درمیان سے گزارا گیا کہ جن کے تنوں سے یزید کے دربار میں پیش کرنے کی خاطر سر کاٹ لئے گئے تھے تو اپنے بھائی حسین ؓ کی گھوڑوں کے پاوں تلے روندی گئی سربریدہ لاش پر کھڑے ہو کر زینبؓ پکار اٹھی تھیں، واہ محمداہ واہ محمداہ،آپ پر ملائکہ آسمان کی سلامتی ہو، حسینؓ میدان میں پڑے ہوئے ہیں، تمام اعضاءٹکڑے ٹکڑے ہیں، یا محمد ﷺآپ کی بیٹیاں باندھ کر لے جائی جا رہی ہیں، آپ کی اولاد قتل کر دی گئی ہے۔ ان کے خون آلود لاشوں پر خاک ڈال دی گئی ہے، یہ سن کر، واللہ، دوست دشمن سب آبدیدہ ہو گئے۔ پھر باقی لاشوں کے سر تن سے جدا کئے گئے اور یہ منظر زینبؓ کی آنکھوں کے سامنے جاری تھا جو آسمان کی طرف منہ کر کے آہ وبکا کئے جا رہی تھیں اور ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے گھر کی باقی قیدی بیبیاں ان کی اس آہ و زاری میں شامل تھیں اور سر تاپا زنجیروں میں جکڑے بیمار و لاغر زین العابدینؓ آنکھیں بند کئے مسلسل روئے جا رہے تھے۔ پھر شمر ذی الجوشن، قیس بن اشعت اور عمرو حجاج کی سرکردگی میں اس قیدی قافلے کو بہتر کٹے ہوئے سروں سمیت ابنِ زیاد کے پاس کوفہ بھیج دیا گیا۔ زینب اس قیدی قافلے کی سربراہ تھیں“ ۔۔۔ ” موقع کے ناظر ومشاہد حمید مسلم سے روایت ہے کہ جب کربلا کے قیدی قافلے کو ابن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا تو وہ وہیں پر موجود تھا، قیدی تمام خواتین تھیں ماسوائے زین العابدینؓ بن حسینؓ اور دو ننھے بچوں حسن بن حسن اور عمرو بن حسن کے۔ ابن زیاد نے امام زین العابدینؓ کی طرف دیکھ کر کہا، یہ کیسے تلوار کے نیچے آنے سے بچ گیا۔ کسی نے کہا، بیمار ہے اور نابالغ، ابنِ زیاد نے کہا ، ذرا دیکھو تو سہی، مجھے تو یہ بالغ لگتا ہے۔ مری بن معاذ نے زینب اور دیگر قیدی خواتین کے سامنے انہیں برہنہ کر کے دیکھا ور کہا کہ بالغ ہے۔ ابنِ زیاد نے حکمِ قتل جاری کر دیا۔ امام زین العابدینؓ نے ابن زیاد سے پوچھا کہ ان عورتوں کی شام تک کے سفر میں حفاظت لےے تم کس کو مقرر کرو گے۔ یہ سن کر ان کے پھوپھی زینب بنت علیؓ، امام زین العابدینؓ سے لپٹ گئیں اور اپنی بانہیں ان کے گلے میں ڈال دیں۔ پھر ابن زیاد کو منت کرتے ہوئے کہا، اگر تو اس کے خون سے باز نہیں رہ سکتا تو مجھے بھی اس کے ساتھ قتل کر دے۔ یہ اسیر قافلہ کوفہ سے دمشق ، دربارِ یزید میں پیش کیا گیا جہاں ایک سرخ رنگ شامی نے زینبؓ کی کمسن بہن فاطمہ بنت علیؓ کے بارے سرِ دربار درخواست کی کہ یہ کنیز اسے بخش دی جائے، جس پر طیش میں آکے زینبؓ نے نہ صرف اس شامی بلکہ یزید پر لعنت ملامت کی “۔۔ ۔ انہوں نے لکھا ،”زینب کربلائی قافلے کے ساتھ دمشق سے مدینہ واپس آئیں تو خواتین جوق در جوق افسوس کرنے ان کے پاس آئیں اور جب بی بیؓ کربلا میں پیش آئے ہوئے واقعات بیان کرتیں تو چیخوں کا شوراٹھتا۔ گھر سے باہر کھڑے مرد کان لگا کرسنتے اور سر دیواروں سے ٹکراتے“۔ اس ظلم پر یہ حساس دل یہ ردعمل بھی ظاہر نہ کرتے تو اور کیا کرتے۔

میں تو اتنا جانتا ہوں کہ ’ محمد کی محبت دین ِ حق کی شرطِ اول ہے، ہو اگر خامی اسی میں تو دین نامکمل ہے‘ میں اپنے رب اللہ عزوجل کی اطاعت،نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ بھی کروں اور نواسہ رسول سمیت ان کے پیاروں پر ہونے والے اس بدترین، بہیمانہ، شرم ناک ظلم پر ماتم بھی نہ کروں، یہ کیسے ممکن ہے ۔ ہمارا رب ،ہمارے پیاروں کو محفوظ رکھے، ہماری عزتوں کو سلامت رکھے، اس مقدس و محترم خاندان کے ساتھ ہونے والے ظلم کا عشر عشیر ہمارے تصور میں بھی سما جائے تو ہمارے دلوں میں قیامت برپا ہوجائے، ہم ایسے مفاد پرست، کم ظرف، گھٹیا اور کمینے ہیں کہ اقتدار کی ہوس ہی نہیں شیطانی اعمال سے بھرے دھرنوںجیسی پرفریب جدوجہد کو بھی امام کے جہاداور قربانی سے تشبیہہ دے دیتے ہیں۔ بدگوئی اور بدکلامی کو حق اور سچ قرار دینے والوں میں سے کسی میں اگر ہمت ہے تو بی بی زینبؓ کے یزیدی دربار میں خطاب کو پڑھ کے دیکھے،جس طرح مکروہ کردار کے ظالم حکمران یزید کے سامنے بی بی زینب ؓ نے حق گوئی کا مظاہرہ کیا، اس دنیا میں کبھی بھی، کہیں بھی اور کوئی بھی اس ہمت اور جرات کا اعادہ نہیں کرسکتا۔ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے ایمان رکھتا ہوں کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے حسین ؑ کے ساتھ بدترین ظلم ہوا ، اللہ کے بھید اللہ ہی جانے لیکن اگر میں ان ہستیوں سے رتی برابر بھی محبت کا دعویٰ رکھتا ہوں توفرقہ وارانہ اختلافات کو پس پشت رکھتے ہوئے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے ساتھ برپا ہونے والے ظلم کے غم کو منائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔ اے میرے رب مجھے ان لوگوں میں شامل رکھ جو تجھ سے، تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان کی مبارک آل سے محبت رکھتے ہیں !!!


ای پیپر