چلی ہے رسم جاتی امرا سے ”شہباز شریف“سر نہ اٹھا کے چلے
28 اگست 2020 2020-08-28

اسے وقت کی خوبصورتی کہہ لیں یا خوف کی ایک شکل کہ یہ کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہتا۔کسی کے لیے مشکل سے نکلنے پر مقام شکر تو کسی کے لیے عروج کے بعد زوال کی گھاٹی میں اترنے کا تکلیف دہ دور۔ایک کو وقت گزرنے کا خوف تو دوسرے کو وقت ہمیشہ کے لیے کہیں ٹھہر جانے کی خواہش۔وقت کی یہ خاصیت اس کی کلی اپنی نہیں اس میں دوست احباب اور گردو پیش کا مکمل حصہ شامل ہوتا ہے۔ وہ بھی ایک وقت تھا جب سیاست کے افق پر روشن ترین ستارہ نواز شریف تھا۔یہ بھی ایک وقت ہے کہ وہی ستارہ ا?سمان سیاست کی سیاہی کے پیچھے گم ہوتا جارہاہے۔ اس عمل میں جہاں اور بھی عوامل کار فرما رہے ہوں گے وہاں خاندان کی چپقلش بھی انتہائی نمایا ں رہی ہے۔ میاں محمد نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد سے پاکستان مسلم لیگ ن میں قیادت کی لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بحرانی صورت حال میں بھی ن لیگ اپنا کردار ادا نہیں کر پارہی ہے۔شریف خاندان اور خاندان سے باہر مسلم لیگ ن کئی حصوں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔ایف اے ٹی ایف ہو، نیب یا اور کسی مسئلہ پر قانون سازی بھی نہیں کر پارہی ہے۔شریف خاندان اور پارٹی کے دیگر رہنماو¿ں کو سنگین مقدمات کا سامنا ہے۔ان مقدمات کو پس پشت ڈالنے یا نجات حاصل کرنے کی تک و دو میں سب علیحدہ علیحدہ خفیہ کھڑکیوں کے ذریعے بات چیت میں مصروف ہیں۔ن لیگ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی ملکی سیاسی صورت حال اور قانون سازی میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر گامزن ہے۔کہا یہی کہا جارہا ہے کہ خاندان اور خاندان سے باہر کوئی بھی ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو اور ہاتھ پکڑانے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔نواز شریف کی غیر موجودگی میں سب ہی اب "سولو فلائٹ" پر یقین کرنے لگے ہیں۔سب ہی غیر منتخب اور بااثر افراد کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور ان کا ہاتھ پکڑنے میں ہی خیر و عافیت گردان رہے ہیں۔اس کی واضح مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کے انتہائی قریب کہا جاتا رہا ہے اور نواز شریف کو علاج کے نام پر لندن بھیجوانے میں ان ہی کا کردار تھا۔نواز شریف کے باہر جانے تک بیشتر معاملات شہباز شریف ہی دیکھ رہے تھے۔کسی کے اشارے پر شہباز شریف واپس لوٹے لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔اس دوران مریم نواز نے پارٹی کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھا لیا تھا اور شاہد قاخان عباسی فرنٹ مین کے طور پر کام کر رہے تھے۔شہباز شریف کا پارٹی میں لندن جانے سے پہلے والا مقام اس دوران ختم ہو چکا تھا۔ویسے نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد جب شہباز شریف پر شاہد خاقان عباسی کو وزارت عظمی پر ترجیح دی تھی اسی وقت سے برادران کے بگڑے معاملات ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔پارٹی ذرائع کہتے ہیں بھائیوں اور خاندان میں اختلافات پیدا کرنے میں شہباز شریف کی بھتجی اور نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا ہاتھ ہے۔مریم نواز خود کو میاں نواز شریف کا سیاسی وارث سمجھتی ہیں ویسے اپنے والد کے بغیر ان کی حیثیت خالی ڈبے کے سوا کچھ نہیں۔مریم نواز کی سیاسی قابلیت صرف اتنی ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی ہیں۔مریم نواز صرف اور صرف ٹوئیٹر پر ہی متحرک ہیں وہ بھی اپنے والد گرامی سے متعلق بیان جاری کرنے کی حد تک، قریبی کہتے ہیں محترمہ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔اب تک کی ان کی سیاسی بصیرت میاں نواز شریف کے ارد گرد ہی گھومتی رہی ہے خود سے کرنے کی صلاحیت نہیں کیونکہ اس میں بے فیضیابی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف پارٹی میں موجود بیشتر سیاستدانوں کی سیاسی جدوجہد ہے۔ذرائع تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ڈرامہ نگاری میں بھی مریم نواز کا پارٹی میں کوئی ثانی نہیں۔وہ جس طرح حقائق کے برخلاف واقعات کی منظر کشی کرتی ہیں اور کوئی ایسا نہیں کر سکتا۔اس کی واضح مثال آرمی ایکٹ کی حمایت اور پھر اس پر بیانات کے تضاد سے سب کچھ واضح ہوجاتا ہے۔دوسری جانب یہ کہنا کہ ضروری تھوڑی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی ہر بات مانی جائے۔مریم نواز نے تو اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑنا بھی گوارا نہیں کیا۔شادی کے بعد عورت کی شناخت اس کے شوہر کے نام سے کی جاتی ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا۔مریم نواز نے اپنے شوہر کیپٹن صدر اعوان کے بجائے اپنے والد کا نام ہی رکھا ہے کیونکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے شوہر کے نام سے وہ گمنامی کے صحرا میں گم ہو جائیں گی۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو سیاستدان اپنی شناخت والد اور شوہر کے نام سے کرانے میں باعث شرم محسوس کریں وہ ملک و قوم کی خدمت خاک کریں گے؟سب ہی کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر دوسروں کو گراکے آگے بڑھاجائے۔ کرپشن اور دیگر سنگین مقدمات میں ملوث رہنما چھپ چھپ کر اہم امور پر قانون سازی میں غیرمنتخب افراد کو اپنی وفاداری کا یقین دلا رہے ہیں۔وفاداری کا یقین اپنے رہنماو¿ں کو قانون کی گرفت سے نجات دلانے اور این آر او سے مشروط کر رہے ہیں۔اسی طرح بڑی اپوزیشن جماعتیں مسلسل پریس کانفرنسوں میں ایک پیج پر ہونے کا دعوی کرتی ہیں لیکن وہ ایک پیج علیحدہ علیحدہ کتابوں کے ہیں۔اسی لیے مولانا فضل الرحمن برملا دونوں جماعتوں کی قیادت پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ میاں نواز شریف کے کہنے پر شہباز شریف نے دوبارہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی لیکن مولانا نے دو ٹوک کہہ دیا کہ انہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے نیا میثاق جمہوریت چاہیے۔میثاق جمہوریت جیسا لندن میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ہوا تھا۔مختلف ادوار میں فیضیاب ہونے والی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے مولانا فضل الرحمن بھی اس مرتبہ اپنی شرائط پر فیضیابی حاصل کرتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتیں عوام اور دیگر سیاسی جماعتوں میں اپنا اعتماد کھو چکی ہیں۔پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ ن دونوں ہی نے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر صرف اپنی قیادت پر قائم مقدمات پر بات کی ہے۔اس وقت ملک کے عوام کو گونا گوں مسائل کا سامنا ہے اور مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بارشوں سے تباہی نے دن و رات کا سکھ چین چھین لیا لیکن اپوزیشن رہنماوں کو اپنے ووٹرز کی کوئی فکر نہیں۔ مریم نواز، شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی ہوں یا اور کوئی سب مقتدر حلقوں سے فیضیابی کے لیے مصروف عمل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ غیر منتخب افراد اور مقتدر حلقے بھی سب سے کھیل رہے ہیں۔ اسی لیے ن لیگ کے رہنما آستینوں میں کچھ نہ کچھ لیے پھرتے رہتے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ تاثر بہت زیادہ پروان چڑھ چکا ہے کہ مریم نواز نے دونوں بھائیوں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیاں اختلافات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پارٹی میں گروپنگ پہلے بھی تھی لیکن مریم نواز نے واضح طور پر رہنماو¿ں کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔بس آخر میں فیض صاحب کی زمین مستعار لیتے ہوئے اس تحریر کا اختتام مریم نواز کی خواہش پر اس طرح کرتا ہوں۔

 نثار تیری گلیوں پر اے جاتی امرا 

 جہاں رسم چلی ہے کہ شہباز شریف سر نہ اٹھا کے چلے


ای پیپر