کشمیریو! تمہارا اللہ حافظ
28 اگست 2019 2019-08-28

تنازع کشمیر پر گزشتہ 22 جولائی کو ہمارے وزیر اعظم بہادر کے دورۂ امریکہ کے دوران واحد سپر طاقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی جونوید سنائی دی گئی تھی اور جس کے بارے میں عمران خان نے اسلام آباد واپس پہنچتے ہی اعلان کیا وہ ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں… وہ تمام تر خوش فہمی پیر 26 اگست کو پیرس کے جی سیون اجلاس میں ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ گئی… ٹرمپ نے مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران وہاں موجود اخبار نویسوں سے کہا بھارتی وزیراعظم نے مجھے بتایا ہے کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے حالات ان کے کنٹرول میں ہیں اور جو تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے انہیں یہ دونوں مل کر حل کر سکتے ہیں… اس روز ہمارے وزیراعظم صاحب امید لگائے بیٹھے تھے کہ فرانس سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آئے گا… ٹرمپ مودی پر دباؤ ڈالے گا … اپنی جانب سے ثالثی پر زور دے گا اور یوں میری یعنی عمران خان کی ڈپلومیسی کی کامیابی کا جھنڈا لہرا اُٹھے گا… ورلڈ کپ چمک دکھائے گا… شاید اسی خبر کی توقع کے پیش نظر انہوں نے اسی روز شام کو قوم سے خطاب کرنے کا اعلان کر دیا… وہاں سے سرد مہری کا پیغام آیا… قوم تقریر سننے کے انتظار میں بیٹھی تھی لہٰذا خالی جگہ پر کرنے کی خاطر اہل پاکستان سے اپیل کی گئی وہ آئندہ جمعہ کے روز دوپہر کے وقت کام کاج چھوڑ کر دفاتر، دکانوں اور گھروں سے باہر نکل آئیں اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور پھر ہر ہفتے اس عمل کو دہرائیں… پاکستانی قوم تو گزشتہ 70 سال سے اپنے مجبور و مقہور کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی چلی آ رہی ہے… تین جنگیں لڑ چکی ہے … جمعہ کے روز اور اس کے بعد ہر ہفتے اس کا کیا خاص دکھاوا کرنا ہے… اس سے بھارت کی ہٹ دھرمی پر کیا اثر پڑنے اور اس کے زعم طاقت کو کیا زک پہنچے گی… آپ اصل بات یہ بتائیں کہ بھارت نے پوری مقبوضہ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنے اندر ضم کر لیا ہے…اس قبضے کو چھڑانے کے لیے آپ کے پاس حل یا طریق کار کیا ہے… ’’جنگ کوئی آپشن نہیں‘‘ کا وظیفہ آپ اور آپ کے پشتی بان ریاستی عناصر صبح شام پڑھتے ہیں… اگلا بیان عوام کی تسلی کے لیے یہ دے دیا جاتا ہے اگر آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بھارتیوں کے جبڑے توڑ کر رکھ دیں گے… دوسرے الفاظ میں پیغام یہ دیا جا رہا ہے مقبوضہ ریاست کو جو تم نے اپنے پنجۂ استبداد میں لے لیا اسے چھڑانے کے لیے ہم جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے… مگر خبردار جو آزاد کشمیر کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا… بھارت کو اور کیا چاہیے… وہ 1972ء کے شملہ معاہدہ کے بعد پس پردہ مذاکرات کے ذریعے مسلسل کہتا چلا آ رہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے، اسے بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کر دیں تو ہمارے تمہارے درمیان تنازعے کا حل نکل آئے گا… اب جو ہم کشمیر پر جنگی پیشقدمی کے لیے تیار نہیں… صرف آزاد کشمیر کا دفاع کرنا چاہتے ہیںجبکہ ڈپلومیسی کی جنگ بھی بری طرح ہار رہے ہیں دنیا میں تنہا کھڑے ہیں… تو کیا عملاً تقسیم کشمیر کے حل کو قبول کر لیا گیا ہے…

جنگ تو بہت دور کی بات ہے تآنکہ کہ ہم پر مسلط نہیں کر دی جاتی… جس کا چھوٹی موٹی جھڑپوں سے قطع نظر بھارت فوری ارادہ نہیں رکھتا… کیونکہ اس نے اپنے آئین سے کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کر دینے کی جو جارحانہ کارروائی کی ہے اور پوری مقبوضہ وادی کو جیل میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے… اس سارے کام کو ہضم کرنے میں اسے کچھ دیر لگے گی… میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں … بانیا روٹی ٹھنڈی کر کے کھاتا ہے… اگلا اقدام اگر اس نے کرنا ہو گا تو اس کے بارے میں اس وقت سوچے گا جب وادی کے اندر سے بغاوت پر تلے ہوئے عوام کی جانب سے اسے بڑا خطرہ باقی نہیں رہے گا… جبکہ کشمیری عوام نے ہر قسم کے اور ناقابل بیان حد تک وحشیانہ مظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے بھارت کے استبدادی دیو کے سامنے سینہ سپر ہو کر ثابت کر دیا ہے وہ کسی حالت میں غلامی قبول کرنے والے نہیں… بین الاقوامی میڈیا اور عالمی مبصرین اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ بھارتی فوج اور پولیس کے تمام ظلم و ستم کے باوجود کشمیر کے جوان، بچے، بوڑھے، مرد اور خواتین کسی حالت میں بھی بھارت کے ناجائز فوجی قبضے کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے… 5 اگست سے اب تک لاک ڈاؤن اور مسلسل کرفیو کے 24 روز گزر جانے کے باوجود جس کے دوران ان کی زندگیاں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی تو چھوٹی بات ہے ، جہنم زار میں تبدیل کر دی گئی ہیں… مگر ان کے جذبۂ آزادی میں کمی نہیں واقع ہوئی مگر سوال یہ ہے پاکستان جو اس تنازع میں باقاعدہ فریق کی حیثیت رکھتا ہے اور اصولی و اخلاقی لحاظ سے کشمیریوں کا پشتیبان بھی ہے… اس کی حکومتی اور ان ریاستی عناصر کی جو اس حکومت کو چلا رہے ہیں موجودہ حالات میں آزادی کشمیر کی خاطر پالیسی کیا ہے…

جنگی پیش قدمی ہم نہیں کر سکتے… مجاہدین یہاں سے نہیں بھیجے جا سکتے کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی ایسی تلوار ہمارے سروں پر لٹکا دی گئی ہے کہ کسی مجاہد کے سرحد پار کرنے کے بارے میں ذرا سے شبہ نے بھی جنم لیا تو پاکستان کا نام گرے لسٹ سے اُٹھا کر بلیک لسٹ کے خانے میں پھینک دیا جائے گا… یوں عالمی سطح پر ہمارا جینا جو پہلے کی قرضوں کے بوجھ تلے دبے بیٹھے ہیں جینا محال کر دیا جائے گا… اس کے بعد ڈپلومیسی یا سفارتی کا میدان باقی رہ جاتا ہے اس کی پراگندگی کا یہ عالم ہے پانچ اگست کے فوراً بعد چین کی مدد سے سلامتی کونسل کا جو اجلاس بلایا گیا تھا وہ نشستند، گفتند و برخاستند سے زیادہ کچھ نہ نکلا… استصواب رائے تو دور کی بات ہے ،بھارت کے جارحانہ آئینی کی مذمت کرنے کی بھی کسی کو توفیق نہ ہوئی… خیال تھا اظہار تشویش کے چند الفاظ پر مشتمل کوئی قرار داد آجائے گی… وہ بھی اس اجلاس کے بند کمرے سے برآمد نہ ہو سکی… پھر خان بہادر وزیراعظم کی جانب سے پر زور الفاظ میں دعویٰ کیا گیا کہ معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائیں گے…لیکن جلد ہی اس بارے میں غلط فہمی دور ہو گئی… بھارت نے پہلے پیش بندی کر رکھی ہے… فریقین کی رضا مندی کے بغیر تنازع کو وہاں اٹھایا نہیں جا سکتا… ہمارے وزیراعظم بہادر اور ان کی کابینہ کے ارکان کو یا تو اس کا علم نہیں تھا یا محض اپنے عوام کو تسلی دینے کی خاطر وقتی طور پر اعلان کر دیا… اس دوران یہ تلخ حقیقت بھی ہمارے سامنے آ گئی کہ عالم اسلام میں سے ترکی اور ایران کے علاوہ کسی کو ہمارے حق میں کیا مظلوم کشمیری عوام سے اظہار ہمدردی کا ایک لفظ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی… دو برادر مسلمان ملکوں نے مودی کو گھر بلا کر اس کے سینے پر تمغے سجا دیے اور یوں ہم منگتوں کا منہ چڑھایا کہ جو ہر وقت کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھر رہے ہوں ان کا اس ملک سے چاہے کافروں کا ہو کیا مقابلہ جس کے ساتھ بڑے بڑے تجارتی مفادات جڑے ہوئے ہیں… ویسے بھی یہ ممالک جو آج تک اسرائیل کا کچھ نہیں بگاڑ سکے… فلسطینی عوام کی زندگیوں کی یہودی ریاست کے ہاتھوں بربادی برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں… گزشتہ 70 سال کے دوران تین چار بڑی شکستوں سے دو چار ہو چکے ہیں… وہ کشمیری عوام کی کیا داد رسی کریں گے… کبھی ’او آئی سی‘ اپنے سالانہ سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک پرزور قرار داد منظور کر لیا کرتی تھی اس مرتبہ پاکستان کی ناکامی دیکھیے کہ نہ بڑا اجلاس بلایا جا سکا، نہ رسمی قرار داد منظور ہوئی… باقی دنیا کیا ہم عالم اسلام کے اندر بھی تنہا کھڑے ہیں… ڈپلومیسی کی جنگ اگر کوئی چیز ہوتی ہے وہ بھی ہار گئے ہیں… اندرون ملک ہماری ژولیدہ فکری اور پریشان خیالی کی یہ حالت ہے کہ کابینہ کے اجلاس کے فوراً بعد دو وزیر علیحدہ علیحدہ بیان جاری کرتے ہیں … ایک کہتا ہے کہ بھار ت پر ہوائی راستے مسدود کر دیے جائیں گے اور بھارت کی پاکستان کے راستے افغان تجارت کا بھی مقاطعہ کر دیا جائے گا ، اس پر غور کرنا منظور کر لیا گیا ہے… دوسرے کی جانب سے خبر جاری ہوتی ہے فیصلہ تقریباً کر لیا گیا ہے ، اعلان باقی ہے… ایک روز بعد وزیر خارجہ قوم کو بتاتے ہیں کہ اس بارے میں کچھ طے نہیں ہوا… جو حکومت اس نوعیت کے چھوٹے معاملات پر بھی کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے قابل نظر نہ آتی ہو تووہ کشمیر کے محاذ پر کیا جنگ لڑے گی اور کونسا سفارتی معرکہ سر کرے گی… لہٰذا اے کشمیریو ! تمہارا اللہ حافظ


ای پیپر