سفارتکاری کی بنیاد مفادات پر ہوتی ہے
28 اگست 2019 2019-08-28

کربلا ہر دور میں برپا رہی ہے اور آج بھی ہے ۔اگر یقین نہ آئے تو ذرا کشمیر پر نظر ڈالیں جہاں کے مظلوم کشیریوں پر صرف پانی نہیں بلکہ کھانا پینا اور ادویات تک بند ہیں اور با عصمت مائوں بہنوں کے سر سے چادریں چھینی جا رہی ہیں۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی نسل کشی کا طریقہ یہ نکالا تھا کہ ان کے بچوں کو قتل کر دیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیا جاتا تھا یہی کام اس وقت انڈیا کشمیر میں کر رہا ہے ۔

اس ہفتے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات کے دورے پر گئے تو وہاں انہیں امارات کا سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ شیخ زید میڈل دیا گیا۔ جب اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زید مودی کے گلے میں سونے کا ہار ڈال رہے تھے تو عین اس وقت کشمیر میں ظلم اور بربریت کا 20 واں روز تھا ۔ یو اے ای والوں نے دانستہ طور پر ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا جب پوری دنیا کے انسانی حقوق کے ادارے اور تنظیمیں اور کشمیری عوام دنیا کے کونے کونے میں احتجاج کر رہے تھے۔ اس واقعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ سفارتکاری کی بنیاد باہمی مفادات پر ہوتی ہے اس میں مسلمان کا دور تک کوئی دخل نہیں ہوتا۔

2015 ء میں جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے یمن پر ہوائی حملوں کا آغاز کیا تو پاکستان پر سعودی عرب کی طرف سے دبائو تھا کہ وہ سعودی عرب کی مدد کے لیے اپنے فوج بھیجے مگر پاکستان نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا اور جنگ میں فریق بننے سے معذرت کر لی اس بات کا سعودیہ اور امارات کو بڑا شدید صدمہ ہوا انہیں یمن میں ناکامی کے بعد پاکستان پر مزید غم و غصہ تھا جس کا امارات کی طرف سے اظہار بھی کیا جاتا رہا یہی وہ موقع تھا جب نریندر مودی وزیر اعظم بن چکے تھے انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر کام کیا انہیں سعودی عرب کے اعلیٰ ترین اعزاز سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔ تین سال پہلے امارات میں مودی نے ایک بہت بڑے ہندو مندر کا افتتاح کیا۔ گویا سر زمین عرب سے 1400 سال پہلے جو لات و منات نکال دیئے گئے تھے امارات نے ان کی خطہ عرب میں واپسی کا اہتمام بھی کیا اور خیر مقدم بھی ۔

ان حالات میں کشمیریوں اور پاکستان کو امارات کے حالیہ فیصلے پر زیادہ حیرت نہیں ہونی چاہیے متحدہ عرب امارات کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نسبت انڈیا کے ساتھ تعلقات کئی گنا زیادہ ہیں۔ انڈیا امارات باہمی تجارت کا سالانہ حجم 60 ( ساٹھ) بلین ڈالر جبکہ پاکستان امارات کا تجارتی حجم محض 7 بلین سالانہ ہے ۔ امارات میں کام کرنے والے انڈین کی تعداد ساڑھے تین لاکھ جبکہ پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار ہے ۔ 1971 میں امارات کے برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرنے سے پہلے یہاں پر انڈین کرنسی رائج تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ تاریخی طور پر عرب ریاستوں کو وائسرائے ہند کے ماتحت رکھا جاتا تھا ۔ تاریخ نے ایک دفعہ پھر کروٹ لی ہے اور مودی کے حالیہ دورے میں امارات میں Rupay کریڈٹ کارڈ جاری کیا گیا جو کہ انڈیانے متعارف کروایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ انڈیا سے دوبئی جاتے ہیں تو وہاں ہر طرح کی ادائیگی کے لیے آپ کو اماراتی درہم کی ضرورت نہیں آپ انڈین کریڈٹ کارڈ Rupay کی مدد سے پیمنٹ کر سکتے ہیں۔ کچھ سال پہلے آپ کو یاد ہو گا کہ جب پٹرول کی قیمتیں بہت زیادہ گر گئیں تھیں تو امارات نے انڈیا کو تجویز دی تھی کہ امارات اپنے تیل کے وافر ذخائر کو انڈیا میں Storage کرنے کی تجویز پر غور کر رہا ہے ۔ اس طرح انڈیا کو پیشکش کی گئی تھی کہ ایسی صورت میں انڈیا کو مفت پٹرول فراہم کیا جائے گا ۔

دوسری طرف یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امارات کی دسمبر 1971 ء میں آزادی کے وقت پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے رسمی طور پر امارات کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اس وقت ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ زید بن سلطان () کی ذاتی دوستی کے پیچھے بھی یہی جذبہ تھا۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت کشمیر میں جاری مظالم کی وجہ سے مودی کا دورہ ملتوی کر سکتی تھی مگر انہوں نے نہیں کیا دورہ نہ بھی منسوخ کرتے اسے اعزاز سے نواز نے پر نظر ثانی کر سکتے تھے مگر انہوں نے وہ بھی نہیں کیا انہوں نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ اگر آپ یمن میں ہماری مدد سے قاصر ہیں تو ہم کشمیر میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کا دفتر خارجہ اور حکومت اندر سے یہ سب کچھ سمجھ رہے ہیں۔ مگر حکومتیں اپنے تحفظات کا اظہار کھلے عام نہیں کرتیں یہ خفیہ سفارتکاری کے ذریعے ایک دوسرے کا احتجاج کیا جاتا ہے ۔ جو یقینا پاکستان نے کیا ہو گا ۔ اس میں پاکستانی سفارتکاری کا Failure نہیں ہے یہ عربوں کی اپنی ترجیح ہے کہ وہ ایک اقتصادی طور پر کمزور مسلمان ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے ایک بڑے اور مستحکم ملک کا ساتھ دینا پسند کر رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے بلا شبہ پاکستان کو مایوس کیا ہے مگر سفارتکاری تحمل کا تقاضہ کرتی ہے اس میں اشتعال انگیزی بڑی خطرناک ہوتی ہے ہر ملک کے سامنے اپنے مفادات ہوتے ہیں امارات بھی ان میں شامل ہے ۔ امارات کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہاں پاکستانیوں کی انویسٹمنٹ انڈیا سے زیادہ ہے اماراتی رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی اکثریت وہ ہے جو پاکستان سے ناجائز پیسہ دوبئی منتقل کرنے کے لیے ماڈل ایان علی والا طریقہ استعمال کرتے رہے ہیں مگر اس کا Beneficiary تو دوبئی ہی ہے ۔ جبکہ پاکستان کو اس سے نقصان ہو اہے ۔ در اصل پاکستان نے اپنی بے تو قیری امارات کی نظروں میں خود کی ہے جب تمام بڑے سیاستدان وہاں مالی سرمایہ کاری کے علاوہ وہاں کے اقامے بھی رکھتے ہیں اس سے پاکستان کی بے عزتی ہوتی ہے ۔

عربوں میں چونکہ بادشاہت ہے وہاں پالیسیاں اتنی اہمیت نہیں رکھتیں جتنا ذاتی تعلقات کی اہمیت ہوتی ہے ۔ اس معاملے میں انڈیا نے گزشتہ سال امارات پر ایک احسان کیا ہے دوبئی کے حکمران المکتوم خاندان کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی شیخ لطیفہ بنت محمد گزشتہ سال اپنے والد کی قید سے فرار ہو کر ایک بحری لانچ میں اپنے کچھ مغربی دوستوں کی مدد سے فرانس پہنچنا چاہتی تھی جب وہ انڈین سمندی حدود میں داخل ہوئے تو انہیں گرفتار کر کے مودی حکومت نے واپس دوبئی کے حوالے کر دیا یہ خبر مغربی ذرائع ابلاغ میں تو اتر کے ساتھ نشر ہوتی رہی شیخ لطیفہ اس وقت سے لا پتہ ہیں اور مغربی ذرائع کے مطابق یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ زندی بھی ہیں یا نہیں۔ اس واقعہ کے بعد امارات کے شاہی حلقوں میں انڈیا کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور انڈیا اسے اپنے حق میں کیش کراتے ہوئے بے پناہ مراعات حاصل کی ہیں۔

امریکہ نے 9/11 کے واقعہ کے بعد پوری دنیا کے سامنے ایک سوال رکھا تھا ’’ You are with us or with them ‘‘ یعنی آپ ہمارے ساتھ ہیں یا طالبان اور القاعدہ کے ساتھ۔ یہ سفارتکاری کی انتہاء پسندی تھی مگر امریکہ چونکہ سپر پاور تھا اس نے طاقت کے زور پر دنیا کو ساتھ ملایا۔ پاکستانیوں کو سمجھنا چاہیے کہ آپ اس طرح کی سفارتکاری کی پوزیشن میں قطعی نہیں ہیں لہٰذا آپ کو حکمت سے کام لینا ہے ۔


ای پیپر