کاریں اور درخت
28 اگست 2019 2019-08-28

برٹش کولمبیا، کینیڈا کا سب سے زیادہ خوب صورت صوبہ ہے۔ یہ خطہ سرسبز و شاداب اور جمالیاتی مظاہر کا گہوارہ ہے۔ اپریل اورجون کے دوران اس کا موسم معتدل اور اس کا فطری حسن و جمال جوبن پر ہوتا ہے۔ اس صوبے میں چھ ہزار جھیلیں ہیں۔ ون کیور اور وکٹوریہ دو معروف شہر ہیں۔ ان کے مضافاتی شہر بھی سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا سامان رکھتے ہیں۔میرے میزبان نے ایک شام شمالی ون کیور میں بحرالکاہل کے ساحلی مناظر دکھانے کا پروگرام بنایا۔ یہاں ایسی بلندیاں نہیں ہیں جو ملکہ کوہسار مری یا کسی اور پہاڑی علاقے کی ہوتی ہیں۔ یہاں کم بلند پہاڑی نما بلندیاں ہیں۔ سورج ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو رہا تھا۔ درختوں اور سرسبز و شاداب پہاڑیوں پر شفق اپنا احمریں حُسن انڈیل رہا تھا۔ موسم اعتدال کی حدوں کو چھوتا ہوا خنکی کی طرف مائل تھا لیکن ماحول میں اس قدر جذب ہو گئے تھے کہ سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ گرد و غبار سے پاک تیز ہوا کے جھونکے لوریاں دے رہے تھے۔

بحرالکاہل کے ساحل پر چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں جن پر خود رو جھاڑیاں اور خود رو گھاس ہے جہاں گرد و غبار کا گزر ہو ہی نہیں سکتا۔ ساحل سے ذرا دور تن آور درختوں کے جھرمٹ، بکھری ہوئیں کنکریاں اور انسانوں کی بنائی ہوئی پختہ سڑک احساس لطافت کو اُبھار رہی تھیں۔ اس سمندر کی رفتار دھیمی، اس کا انداز پُروقار اور اس کے پانی کا رنگ نیلا مٹیالا اور سفید ہے۔ اس کی موجوں میں اضطراب کی بجائے ٹھہراؤ نظر آ رہا تھا۔ یہ لمحات ہمیں لطف بھی دے گئے اور گہری سوچ بھی دے گئے۔ ہم فطرت کے قریب ہو کراپنی فطرت کے شناسا بھی ہوئے۔ ہم ہر لحظہ بدلتے رہے۔ حیران بھی ہوئے اور تشکیک کے مرحلوں سے گذر کر یقین و ایمان کی روشنی کو چھوتے رہے۔ اس مقام پر فطرت کی رعنائیوں اور پہنائیوں کا مشاہدہ کرنے والوں میں میری اہلیہ، اُن کا بھائی تنویر بابر اور میرے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ دور دور تک کوئی انسان نظر نہیں آتا تھا۔ قریبی سڑک پر اکا دُکا کاروں کے چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔موجیں ہم سے کہہ رہی تھیں ’’ہم تو دس ہزار کلومیٹر طویل اور ایک ہزار کلومیٹر چوڑے سمندر میں متحرک زندگی گزار رہی ہیں۔ ہمارے اندر بے شمار آبی مخلوق سانس لے رہی ہے جو زمینی مخلوق سے بھی زیادہ ہے جِن کی تخلیق نو اور موت دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ تم ان ذی حیات ہستیوں کی انواع و اقسام ان کی غذاؤں، ان کی کشمکش حیات اور ان کی معرکہ آرائیوں کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ تم ساحل پر کھڑے تماشا دیکھ رہے ہو۔ یہ رنگینی جمال تمہارے حسن نظر کی بات ہے۔ تمہارے دل کا موسم اچھا ہے۔ تم خوش ہواس لیے ہم تمہیں اٹھکیلیاں کھیلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس بیکراں کائنات میں ہماری حیثیت ہی کیا ہے۔‘‘ ہم نے کہا،’’ تم بھی توکائنات ہو۔ کائنات میں وحدت ہے۔ دیکھنے والے کو ہر ذرے میں پوری کائنات نظرآتی ہے۔ پانی، ہوائیں، پرندے، جمادات و نباتات ہم اور تم، فطرت کے تمام مظاہر اور حیات کی تمام انواع اور صورتیںِ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں۔‘‘

ہر شے پر رات چھا رہی تھی۔ نہ جانے رات ڈراؤنی کیوں ہوتی ہے اس لیے فطرت سے ہم کلامی چھوڑ کر ہمیں واپس لوٹنا پڑا۔ فراز سے اُترتے ہوئے ڈاؤن ٹاؤن پہنچے جہاں شمسی توانائی سے روشن قمقمے رومان پرور دنیا تخلیق کیے ہوئے تھے۔ ایرانی ریسٹورنٹ پہنچے جہاں بقول ہمارے میزبان لذیذ خستہ اور صحت بخش کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ ایرانیوں کی ایک قابل ذکر تعداد اسلامی انقلاب کے زمانے سے یہاں سیاسی پناہ گزینوں کی حیثیت سے بس گئی تھی۔ ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہاں سڑک پر اُس کار کے لیے ایک الگ لین مخصوص ہے جس میں ایک سے زیادہ افراد بیٹھے ہوں تاکہ وہ ٹریفک کی رکاوٹ کے بغیر تیز رفتاری سے سفر کر سکے۔ ون کیور اور اس کے مضافاتی شہروں میں کاریں بکثرت ہیں عموماً ایک کار میں ایک ہی فرد سفر کرتا ہے۔ ایک کار میں ایک سے زیادہ افراد کے سوار ہونے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ پٹرول کی بچت ہو۔ ہمارا قیام مضافاتی شہر، سری (Surry) میں تھا۔ بہت صاف سُتھرا اور خوبصورت شہر ہے۔ ہر سڑک کے کناروں پر اور ہر گھر کے سامنے لان میں بے شمار درخت ہیں۔ سڑک پر بس تو شاذ ونادر ہی نظر آتی ہے۔ کاریں ہیں جو سڑکوں پر دوڑ رہی ہوتی ہیں۔ ہر گھر کے سامنے تین چار کاریں کھڑی ہوتی ہیں۔ اگرچہ سڑکوں پر زیادہ ٹریفک نہیں ہے لیکن پیدل چلنے والے بہت ہی کم نظر آتے ہیں۔ چھٹی والے دن دس گیارہ بجے اور شام کو سات بجے کچھ مرد اور سکھ عورتیں نظر آتی ہیں جو واک کر رہے ہوتے ہیں۔ اس شہر میں سرداروں کا بڑا گردوارہ (دکھ نرون) ہے۔ اس کے ساتھ ایک مارکیٹ ہے جہاں ایک دکان کا نام سبزی منڈی ہے۔ گردوارہ صبح سے شام تک کُھلا رہتا ہے۔ اس میں ہر وقت تیس چالیس پجاری موجود ہوتے ہیں اور لنگر جاری رہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ گردوارے کے اندر دیواروں پر اُن سکھ فوجی افسروں اور جوانوں کی تصویریں آویزاں ہیں جنھوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں انگریزی حکومت کے لیے جرأت اور بہادری کی مثالیں قائم کی تھیں۔ ان کو اُس وقت کے وزیراعظم چرچل اور انگریزی فوجوں کے سپہ سالار نے خراجِ تحسین کے جو کلمات کہے وہ بھی تصویروں کے نیچے رقم ہیں اور اُن میں سے کچھ افسروں اور جوانوں کی ملکہ عالیہ سے ملاقات کی تصویریں بھی ہیں۔ میں سمجھ گیا کہ سرداروں کی یو۔ کے اور کینیڈا میں خوب پذیرائی کیوں کی جاتی ہے؟ اُن کے خلوص۔ وفاداری ، صاف گوئی اور محنت شاقہ میں کوئی کلام نہیں۔ سری شہرسکھوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ وہ دکانوں، فارموں اور دفاتر میں پاکستانی کمیونٹی سے بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔ وہ بڑے خوش اخلاق اور جی دار ہیں۔ پنجابی میں بات کر کے خوش ہوتے ہیں۔ اُن کی کمیونٹی میں یک جہتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کا بہت خیال کرتے ہیں۔ اُن کے پاکستانی کمیونٹی سے بھی دوستانہ تعلقات ہیں۔ ایک شام ہم کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بارڈر پر گئے۔ امریکہ کا معروف شہر، سی آٹل (Seatle) اور کینیڈا کا ون کیور دونوں ملکوں کے بارڈر پر واقع ہیں۔ سینکڑوں کاریں امریکہ سے اور سینکڑوں کاریں کینیڈا سے آ جا رہی ہوتی ہیں۔ ہر کار کو اوسطاً ایک گھنٹہ بارڈر پار کرنے میں لگتا ہے۔ اس مقام کو درختوں اور پھولوں سے خوب سجایا گیا ہے۔ دونوں ممالک کی آزادی کی یادگاریں تعمیر کی گئی ہیں۔ باہم دوستی کی روایات کندہ ہیں اور دونوں ملکوں کے جھنڈے فضا میں لہرا رہے ہیں۔ زمین پر ایک ایسی کیاری نظر آتی ہے جس میں مخصوص رنگوں کے ایسے پھول اُگائے گئے ہیں جن سے دونوں ملکوںکے قومی پرچم بن جاتے ہیں۔ یہاں ایک وسیع و عریض پارک بھی ہے جہاں لوگ پکنک منانے بھی آتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کچھ افغانی اور ایرانی نوجوان خوشی سے رقصاں اور نغمہ سرا تھے۔ یہاں تک کہ ون کیور کافیملی پارک سینکڑوں ایکڑوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہاں موٹے تنوں والے رفیع الشان درخت ہیں۔ ایک مقام پر تو یوں محسوس ہواکہ خوش نما اور تن آور اشجار کا جنگل ہے۔ جو سیاح ون کیور آتا ہے وہ اس پارک کو اور بندرگاہ کو ضرور دیکھتا ہے جس کے قریب بیس سے پچاس منزلوں والی اونچی اونچی کئی بلڈنگز ہیں۔


ای پیپر