چکھوٹی سے چناری تک
28 اگست 2019 2019-08-28

ـ’’ہم دشمن کو منہ توڑ جواب دینا چاہتے ہیں ہماری فوجیں بہت بہادرہیں اور کشمیر کے لئے لڑ سکتی ہیں لیکن جب بارڈر کے اس پار بھی اپنے ہی لوگ مرتے ہیں تو بہت دکھ ہوتا ہے‘‘ ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے چناری میں اپنی ہمشیرہ کے گھر پناہ لینے والی قمر النساء کاظمی نے جب یہ جملہ بولا تو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کادکھ اور درد ان کے چہرے سے عیاں تھا ۔کشمیر میں لائن آف کنڑول کے سامنے چکھوٹی گاؤں سے تعلق رکھنے والی قمر النساء سے چناری کے علاقے میںمیری ملاقات اس وقت ہوئی جب مجھے صحافیوں کی تنظیم ـ’’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘‘ کے ہمراہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی اقدامات کی مذمت کے لئے چناری میں نکالی جانے والی ریلی میں شریک ہونے کا موقع ملا ۔کیونکہ میرا تعلق بھی آزاد کشمیر سے ہے اس لئے کشمیریوں کادرد سمجھنے کے ساتھ ساتھ بطور صحافی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے13گھنٹے پر محیط سفر کچھ بڑا چیلنج نہیں تھا ۔سفر کی داستان پھر سہی مگر قمرالنساء سے ملاقات کی تفصیل لکھے بغیر کالم کے ساتھ ناانصافی ہو گی ۔قمرالنساء نے بتایا کہ وہ چکھوٹی کے علاقے میں فائرنگ کی وجہ سے اپنے خاندان کے ہمراہ چناری منتقل ہو گئی ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ جو لوگ اپنے مویشیوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر گھر نہیں چھوڑ سکے وہ مورچوں میں چھپ کر رہتے ہیں کیونکہ کسی بھی وقت دھواں ، روشنی اور شور ان کی موت کا پیغام بن جاتا ہے ۔زیر زمین بنائے جانے والے بنکر یا مورچے کنکریٹ کا استعمال کر کے بنائے جاتے ہیں جہاں ہوا ، روشنی اور خوراک کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا ۔گفتگو کرتے ہوئے قمر انساء مجھے اور میری ایک صحافی دوست مہوش سہیل کو چناری میں اپنی ہمشیرہ کے گھر لے گئیں ۔ وہاں انکی بیٹی سیدہ ہادیہ کاظمی سے ملاقات ہوئی ۔جماعت دہم کی طالبہ ہادیہ کاظمی نے بھی زبان کھولی تو اپنے سے پہلے مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کا درد بیان کیا ۔ہادیہ نے بتایا کہ جب ہم سکول جاتے تھے بھارتی گولہ باری سامنے نظر آتی تھی۔ ہمیں اپنی پڑھائی کے متاثر ہونے کا افسوس ضرورہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی مصیبتوں کے سامنے ہمارے مسائل اتنے بڑے نہیں ہیں۔ میرے والد بھی پاک فوج میں تھے جو اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن میرے بھائی کہتے ہیں کہ آپ لوگ یہاں محفوظ رہیں ہم بارڈر پر جا کر لڑیں گے ۔گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ ساتھ والے گھرو ںسے کچھ مزید خواتین وہاں پہنچ گئیں ۔ہادیہ نے پاک فوج سے اظہار یکجہتی کی بات کی تو وہاں موجود ایک خاتون نے اونچی آواز میں کہا کہ میری تو بیٹی بھی فوج میں شامل ہو کر لڑنا چاہتی ہے ۔یہ عروج فاطمہ کی والدہ تھیں جنھوں نے ہماری درخواست پر اپنی بیٹی سے ملوایا۔عروج فاطمہ سے ملاقات ہوئی تو ہادیہ کی طرح عروج فاطمہ بھی کسی ہائی کلاس تعلیم ادارے کی پر اعتماد طالبہ معلوم ہوئیں ۔عروج نے بتایا کہ وہ انٹر کے امتحانات دے کر نتیجے کی منتظر ہیں۔ اس دوران وہ اپنے گھر میں ان بچوں کو پڑھاتی ہیں جن کی پڑھائی اپنے گھر سے دوسری جگہ منتقلی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے ۔انٹر کے بعد انکی خواہش ہے کے پاکستانی فوج میں شامل ہونے کے لئے ٹیسٹ دیں ۔ میں نے عروج کی والدہ سے پوچھا کہ کیا واقعی میں وہ اپنی بیٹی کو فوج میں بھیجنا چاہتی ہیں ؟تو وہ کچھ یوں گویا ہوئیں، ’’میرے بڑے بیٹے کو چھوٹی عمر میں ہی ٹائیفائیڈ ہو گیاتھا جبکہ چھوٹا بیٹا بھی صحت کے مسائل کی وجہ سے فوج میں نہیں جا سکا لیکن میری بیٹی بالکل صحت مند ہے میں چاہتی ہوں کہ یہ پاک آرمی میں اپنے فوجی بھائیوں کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ عروج فاطمہ کی والدہ نے یہ بھی بتایا کہ انکے جو رشتہ دار مقبوضہ کشمیر میں محصور ہیں گزشتہ کئی روز سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا ۔ہم نہیں جانتے ہیں وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں اور یہ آج سے نہیں ہو رہا ہماری نسلیں بارڈر کے اٌس پار بھی اور اِس پار بھی آزادی کے لئے قربانیاں دیتی آ رہی ہیں ۔ہادیہ اور عروج فاطمہ کا جذبہ ان تک ہی محدود نہیں تھا انکے ارد گرد موجودبچوں نے جب نعرے لگائے تو وہ آزادی کی تحریک کے سرگرم کارکن لگ رہے تھے۔ کوئی کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتا نظر آیا تو کوئی ہم چھین بھی لیں گے آزادی کا ۔تمام تر صورتحال کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد72سال سے جاری تو ہے ہی لیکن لائن آف کنڑول کے دونوں اطراف میں موجو د کشمیری جو قربانیاں دے رہے ہیں انکا ازالہ شائد اگلے سو سالوں میں بھی ممکن نہ ہو۔کشمیر کے دونوں فریق بھارت اور پاکستان کو اب کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچنا ہو گا اور عالمی طاقتوں کو صرف قراردادوں اور ثالثی کی پیشکش سے آگے پیش قدمی کرنا ہوگی۔تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو بھارت کی ہٹ دھرمی نے تو کشمیر کو خون میں نہلایا ہی لیکن پاکستان بھی دنیا کو کشمیر کی مد د کے لئے قائل نہیں کر سکا۔لیکن اس مرتبہ کشمیر کا کیس پاکستانی حکومت کی جانب سے قدرے مظبوط بھی ہے اور سفارتی صورتحال کے پیش نظر دنیا کے بڑے ممالک پاکستان کی اگر حمایت نہیں کر رہے تو مخالفت بھی نہیں کر رہے ۔بھارت کو ایک بڑی تجارتی منڈی ہونے کی وجہ سے پاکستان کی نسبت معاشی لحاظ سے اہمیت ضرور حاصل ہے مگر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت عالمی طاقتوں کو پاکستان کی مرہون منت بھی رکھتی ہے ۔چین ، امریکہ ، روس ، سعودی عرب اور دیگر ممالک اپنی معاشی ضروریات کو اہم ضرور سمجھتے ہیں لیکن کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مخالف فریق نہیں بن سکتے ۔اس لیے پاکستان کو کسی ملک سے مدد کی امید رکھے بغیر مداخلت نہ کرنے کو غنیمت جانتے ہوئے اپنا کیس خود لڑنا ہو گا کہ کشمیریوں کا یقین پاکستان پرہے وہ کسی عالمی طاقت کی طرف نہیں دیکھ رہے بلکہ انکا ایمان یہی گواہی دیتا ہے ۔۔کشمیر بنے گا پاکستان ۔۔۔۔۔


ای پیپر