”وزیرتعلیم کا اہل قلم سے مکالمہ“
28 اگست 2019 2019-08-28

بات اہل ِ قلم کے مسائل پر ہورہی تھی سال بعد سہی حکومت ِ وقت کو اس نظر انداز ہونے والے شعبے کا خیال آہی گیا۔ اصل میں پی ٹی آئی حکومت کو آتے ہی نہایت گمبھیر مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے بڑا مسئلہ معاشی تھا، ابھی تک بھی معیشت مضبوط کرنے کی تگ ودو جاری ہے۔ عوام کے مسائل اڈہاک بنیادوں پر حل کرنے کے بجائے عمران خان ”نظام“ کو درست کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، ایک بار سسٹم چل نکلا تو حکومتیں تبدیل ہونے سے اداروں میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ لیکن اس ساری تگ ودو میں مہنگائی نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ ادھر ادب زبانِ ثقافت سے وابستہ افراد بھی مایوس ہوگئے۔ اصل میں پچھلے تیس برسوں میں ہوتا یہ تھا کہ دو پارٹیوں کی باری لگی ہوئی تھی۔ سب کو پتہ ہوتا تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت آتے ہی مختلف سرکاری ونیم سرکاری علمی ادبی ثقافتی اداروں میں کون کون سے اہل قلم کو تعینات کیا جائے گا یوں اہل قلم کی بھی ہمدردیاں اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں سے ہوتی تھیں۔ مسلم لیگ نون یا قاف کے دور میں مسلم لیگ سے نسبت رکھنے والے اہل ِ قلم نوازے جاتے۔ انہیں ہی علمی ادبی اداروں میں تعینات کیا جاتا تھا۔ اب جب تیسری پارٹی وجود میں آئی تو یقیناً اس پارٹی کے بھی کم سہی مگر دانشور تخلیق کار تو موجود ہیں۔اور ان میں بہت سے ایسے ہیں کہ انہیں گزشتہ دونوں پارٹیوں کی حکومت نے نظرانداز کیے رکھا۔ ان ناراض اہل قلم میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی۔ سبھی عمران خان کی حکومت آنے کے منتظر تھے۔ بعض نے کھلم کھلا پی ٹی آئی اور اس کے نظریات اور پالیسیوں پر کالم بھی تحریر کیے۔ ان میں بیشتر کا خیال یہی تھا کہ حکومت بدلتے ہی علمی ادبی ثقافتی اداروں کے سابقہ سربراہوں کو ہٹاکر ان کی جگہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں کو پسند کرنے والے اہل قلم کو تعینات کیا جائے گا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود بھی کسی ادارے کے سربراہ کو نہیں ہٹایا گیا۔ اورتواور 14اگست کو قومی اعزازات کا اعلان ہوا تو پی ٹی آئی کو پسند کرنے والے اہل قلم اور دانشور انگشت بدنداں رہ گئے۔ وہ سبھی حیران تھے کہ تیس پینتیس برسوں کے بعد بھی ان کی باری نہیں آئی؟۔ کسی حدتک یہ بات درست بھی لگتی ہے کہ پی ٹی آئی کا ”میڈیا“ کا شعبہ ہی کمزور ہے یہاں تو وزیراعظم کی تقریر مناسب انداز میں ٹیلی کاسٹ نہیں ہوسکتی۔ میڈیا پر ابھی تک مسلم لیگی حکومتوں کے اثرات باقی ہیں۔ بیوروکریسی میں بھی یہی حال ہے۔ پی ٹی آئی کے اچھے کاموں کو بھی پروجیکشن نہیں ملتی۔ یہ ونگ خاصا کمزور ہے۔ شفقت محمود وزیرتعلیم بنے تو ان کی سرپرستی میں اکادمی ادبیات پاکستان مقتدرہ قومی زبان (جسے اب فروغ اردوکا نام دیاگیا ہے) قائداعظم ،اقبال اکادمی، چیئرمین ٹیلی ویژن ۔اردوسائنس بورڈ، آرٹس کونسل اور دیگر اداروں میں تبدیلی لانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی ہوچکی ہے۔ قومی اعزازات پر بھی کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں۔ قومی سطح پر یکساں نصاف اور بنیادی ذریعہ تعلیم قومی زبان اردو کیے جانے کا اعلان بھی شفقت محمود نے کیا ہے۔ سیکرٹری ندیم شفقی ملک انعام الحق جاوید بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ ساری گفتگو یاد بھی اس لیے آتی ہے کہ اگلے روز وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ”سفیران کتاب“ اور لاہور کے اہل قلم سے ملاقات کی۔ جس کا اہتمام نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے کیا تھا۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید بھی پچھلی حکومت ہی میں اس ادارے سے وابستہ ہوئے، انہوں نے اس ادارے کو واقعتاً ایک شناخت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف وفاقی تعلیمی اداروں کی نصابی کتب سستی شائع کیں بلکہ جنرل بکس بھی عام قاری تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ حکومت کا علمی ادبی حوالے سے سب اچھا فیصلہ ہی تھا کہ یہاں ایک متحرک اور ان تھک ادبی شخصیت کو تعینات کیا، ہم پہلے بھی لکھ چکے کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اس ادارے کو ایک ”کماﺅ پوت“ بنادیا ہے۔ اس کو ملک بھر میں فعال کردیا ہے۔ قومی کتاب میلے کی روایت بھی نہایت شاندار رہی۔ اچھی بات یہ ہے کہ شفقت محمود بھی ان کی خدمات کے معترف ہیں اور اہل قلم سے مکالمے کی فضا پیدا کرنے میں بھی انعام الحق جاوید نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اہل قلم اردوزبان وادب کو دفتری سطح پر رائج ہونے کے منتظر ہیں۔ اہل قلم یہ بھی چاہتے ہیں کہ کتابیں سستی اور عام قاری کی دسترس میں ہوں۔ کاغذ سستا ہونا چاہیے، علمی ادبی اداروں میں تقرریاں میرٹ پر ہوں۔ وزیرتعلیم نے کہا یہ سب کچھ میرٹ پر ہوگا ایوارڈ اعزازات ہوں یا کتابوں پر انعامات ، اداروں میں باصلاحیت شخصیات کی تعیناتی کا معاملہ ہو یا اہل قلم کے دیگر مسائل سب کو حل کرنے کے لیے ہم اہل قلم سے مکالمہ کررہے ہیں انہی اہل قلم میں سے فیصلہ لیا جائے گا کہ کیا ہونا چاہیے۔ ایوان اقبال میں منعقدہ اہل قلم سے مکالمہ میں لاہور کے تمام قابل ذکر تخلیق کاروں نے شرکت کی مگر بعض احباب نے اس اجلاس کو بھی حلقہ ارباب ذوق کا تنقیدی اجلاس سمجھ لیا اور خوب چہکے ۔شفقت محمود نے تجاویز دینے والے تمام خواتین وحضرات کو تحمل اور دھیان سے سنا اور تمام مسائل کے حل کا عندیہ دیا۔ اہل قلم میں سے بیشتر کی شکایات اس مرتبہ کے قومی اعزازات کے اعلان کے حوالے سے تھیں کہ ادب کے شعبے کو کسی حدتک نظرانداز کیا گیا، اب بھی 23مارچ تک ادب کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ باتیں تو بہت سی تھیں مگر اردو چیئر اور اس کے مسائل پر آئندہ .... جنہیں بقول وزیر تعلیم بند کردیا گیا ۔ صرف اقبال چیئر کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔


ای پیپر